پاکستان میں تعلیمی شعبے کی تشویشناک صورتحال

22 مارچ 2012
ایڈم تھامسن (برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان)
قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 1947 میں فرمایا، \\\"تعلیم پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے کہ تعلیم میں ضروری پیش قدمی کے بغیرنہ صرف ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ ممکن ہے کہ مکمل طور پر مٹ کر رہ جائیں۔ ”پاکستان کو ناکامی کے درجے کا سامنا کرنا پڑے اگراس وقت گلوبل نالج اکونومی (Economy Knowledge Global) کوئی تعلیمی ادارہ ہو اور پاکستان اس کا طالب علم۔ دنیا میں پرائمری سکول میں داخلے کی شرح پہلے ہی ستاسی87 فیصد تک کم ہے جو کہ پاکستان میں مزید نیچے یعنی 56 فیصد ہے۔ پاکستانی بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی معاشی قیمت ادا کرنا ہر سال 2010 سے سیلاب کا سامنا کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ملّت کی صحت اور استحکام پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ یہ ایک تعلیمی ایمرجنسی ہے۔ پاکستان میں سکول جانے کی عمر کے ایک کروڑ ستّر لاکھ بچّے( 17 ملین) سکول جانے سے محروم ہیں۔ یہ تعداد کراچی کی مکمل آبادی کے برابر ہے۔ پوری دنیا میں سکول جانے سے محروم دس میں سے ایک بچہ پاکستانی ہے۔
اس معاملے میں پیش قدمی بھی ہوئی ہے۔ اٹھارویں ترمیم (Amendment 18th) کے تحت پہلی دفعہ تعلیم کو تمام بچوں کے لئے کسی امتیاز کی بجائے یکساں حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 25-A کے مطابق: ”مملکت پانچ سے سولہ سال عمر کے تمام بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرے گی“۔ لیکن اس پیش قدمی کی رفتار خاطر خواہ نہیں ہے۔ اب بھی اوسطاً چار میں سے مشکل سے ایک بچہ ثانوی تعلیم تک پہنچ پاتا ہے۔ بچے کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں اور پاکستان اپنے مستقبل کو ناکام کر رہا ہے۔ کوئی بھی ملک خوشحال مستقبل کی طرف گامزن نہیں ہو سکتا اگر اس کے لوگ سڑک کنارے لگے سائن بورڈ کو نہ پڑھ سکیں۔ تعلیمی شعبے میں مثبت تبدیلی بہت ضروری ہے۔
پاکستان کے تعلیمی شعبے میں تبدیلی لانے کے لیے برطانیہ پہلے سے پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ برطانیہ ‘ کسی بھی ملک سے بڑھ کر‘ پاکستان کو تعلیمی شعبے میں تعاون کرسکتا ہے۔ برطانیہ اور پاکستان کے مابین روابط تاریخ اور زبان سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ اب بھی روایتی سرکاری تعلیمی شعبہ سے ہٹ کر کسی بھی قوم کے مقابلے میں پاکستانی سب سے زیادہ انگریزی امتحان دیتے ہیں۔ یوکے ایڈ (UKAid) اور برٹش کونسل ( Council British) پاکستان میں پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبہ میں سرگرمِ عمل ہیں اور یوکے ایڈ (UKAid) چار سال کے عرصے میں ایک سو بلین روپے کی رقم پاکستان میں پرائمری تعلیم کے شعبہ میں خرچ کرے گا۔
2015 تک یوکے ایڈ (UKAid) اضافی چالیس لاکھ پاکستانی بچوں کاپرائمری اسکول جانا ممکن بنائے گا۔ یہ تعداد برطانیہ کے پرائمری اسکولوں میں موجود بچوں کے برابر ہے۔ ہمارا ہدف نوّے ہزار اساتذہ کی تربیت، ساٹھ لاکھ نصابی کتب کی فراہمی اور خیبر پختونخواہ صوبے میں سیلاب یا شدت پسندوں کی وجہ سے تباہ شدہ سکولوں کی ازسرِ نو تعمیر ہے۔
صرف پانچ سال کے عرصے میں پاکستان بھر کے پرائمری سکولوں میں داخل بچوں کی تعداد کا تناسب عالمی 87 فیصد تک ہوجانے کا تصوّر کیجئے۔ یہ مکمل طور پر ممکن ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے ذرائع ابلاغ، معاشرہ، پرائیویٹ سیکٹر اور سیاستدانوں پر مشتمل ایک سماجی اور سیاسی شرکت داری کا تصوّر کیجئے۔ جہاں والدین اپنے بچوں کے لئے بہتر تعلیم کی طلب، جب کہ سیاستدان اس تعلیم کو بہم پہنچانے کےلئے متحرک ہوں۔اس مقصد کے حصول کے بعد ملّت کی خوشی کا تصوّر کیجئے اور تصوّر کیجئے کہ صد (100) فیصد شرح تعلیم کے لئے باقی سفر مکمل کرنے کی خواہش کس قدر شدید ہوگی۔ اس مقصد کےلئے صرف باصلاحیت قیادت کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور برطانیہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی ترقی کے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے اور ناخواندہ آبادی کے ساتھ آپ کے لئے ترقی کرنا ممکن نہیں ہے۔ قائدِاعظم نے تعلیم کی اہمیت کو 1947 میں ہی واضح کر دیا تھا۔ آج پینسٹھ برس کے بعد برطانیہ پاکستان کے ساتھ مل کر ’پاکستان کے درخشاں مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے موجودہ تعلیمی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔