تجدید قرارداد ِ پاکستان

22 مارچ 2012
برصغیر میں دو قومی نظریے کی آمد اور پیدائش کو تیرہ صدیوں سے کچھ زائد مدت گزر گئی۔ اس نظریے کو باضابطہ قرار داد، اعلان اور ایک نئی مملکت کے قیام کی ضرورت کے اظہار کو 72سال کا عرصہ ہو گیا۔ علامہ اقبال نے خطبہ صدارت الہ آباد میں (1930) اپنے مطالعے اور مشاہدات، امنگوں آرزوﺅں اور خوابوں کا نچوڑ پیش کر دیا تھا۔ ہندو اور مسلمان کا دو الگ الگ قومیں ہونا اور مستقبل میں ایک ایسی علیحدہ اسلامی ریاست کا قیام جو دور حاضر کی مثالی اسلامی ریاست کا نمونہ پیش کر سکے۔
اسی کی خاطر بانی پاکستان نے ضعیفی بیماری کے باوصف ان تھک، اعصاب شکن محنت کی۔ 23مارچ 1940ءکو مینار پاکستان (جو اب حالات کی ابتری کے ماروں کیلئے چھلانگ لگانے کی بجائے خود کشی بن چکا ہے) کے مقام پر قرار داد پاکستان قیام پاکستان کا پیش خیمہ بنی۔ 72 سال بعد اس بے مثل بے بدل اللہ کی عطا کو قرض کی مئے پلا پلا کر، ہوش گم کردہ حکمرانوں اور سٹی گم عوام کے ہاتھوں ہم وہاں لے آئے ہیں جہاں قرار داد امریکہ (خدانخواستہ) پاس ہونے کو ہے! ذرا ٹہرئیے.... کیا ہونے چلا ہے....؟
نیٹو سپلائی بحالی کیلئے درپردہ روابط، یقین دہانیاں، خفیہ فضائی زمینی سپلائی تو چپکے چپکے جاری ہے۔ ڈنکے کی چوٹ بحالی کیلئے پارلیمنٹ کی ہڈی گلے میں پھنسی تھی اب وہ نکالنے کی شروعات ہیں۔ ایک طرف زمینی راستہ ہموار کرنے کو خیبر ایجنسی میں نیٹو سپلائی دشمنان (را کے ایجنٹ قرار دےدے کر، یہ کہنے سے لائسنس ٹو کل، مل جانا ہے) مار مار کر پھینکے جا رہے ہیں۔ جس پر امریکہ ہمارا شکریہ ادا کر چکا اور تھپکی شاباش بھی دے چکا ہے۔ دوسری طرف خفیہ رپورٹ کی قابل ہضم سفارشات پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جا رہی ہیں انگوٹھا لگوانے کو۔ امریکہ نیٹو کو معافی مانگنے پر رضا مند کیا جا رہا ہے۔ پیسے وصول کرکے (ذرا زیادہ) سپلائی لائن کھولنے کی بات جاری ہے تاکہ ’چہ ارزاں فروختند‘ کا طعنہ کوئی نہ دے سکے۔ حب الوطنی، استحکام اور خود مختاری کا تقاضہ ہے کہ دام زیادہ وصول کئے جائیں! قرار داد پاکستان والے 23مارچ کو دو نو مسلم بچیاں دیکھ رہی ہیں۔ فریال اور ڈاکٹر حفصہ، دونوں نے محمد بن قاسم والے سندھ میں پورے شعور اور مطالعے کےساتھ اسلام کی حقانیت پہچان کر ڈیڑھ ارب امت محمد کارکن بننا چاہا۔ وہ دم بخود رہ گئیں جب ہندو کمیونٹی سے کہیں بڑھ کر مسلمان خود ان کے راستے کی دیوار بن گئے۔انسانی، نسوانی حقوق، مسلمانی اسلامی حقوق کے تحفظ کی یہ کون سی قسم ہے؟ روشن خیال درجن بھر مسلم وکلاءہندو مت کی وکالت کرتے ہوئے ڈاکٹر حفصہ کو دارالامان پہنچانے کو یقینی بنا رہے تھے۔ سیاسی جماعتیں (اسلام کی بجائے) ہندو کمیونٹی میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ بچانے کی خاطر کمر بستہ تھیں۔ ہمیں تو خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں یہ نئی شدھی سنگھٹن تجریک اٹھانے تو نہیں چلے جس کا مشن یہ تھا کہ آج کے مسلمان ہندو سے ہی مسلمان ہوئے ہیں لہٰذا انکو دوبارہ ہندو بنا لینا چاہیے۔
اب تو پاکستان کا سارا پانی پی جانےوالا ہندوستان ہمارے سیاست دانوں کا پسندیدہ ترین ملک ہے۔ ہمارے کیو لیگی تو اکثر ہی قشقہ لگائے پیلی پگڑیاں پہنے پیلی چادریں اوڑھے انکے مندروں گردواروں کے پھیرے لگا رہے ہوتے ہیں۔ بسنت، دیوالی، ہولی رائج کرنے کو حکومت اور میڈیا یکساں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں اے اہل پاکستان اپنا اسلام خود سنبھال لو۔ ڈاکٹر حفصہ اور فریال ٹیسٹ کیس ہے! کمال تو یہ ہے کہ گھروں سے بھاگ کر پسند کی شادی رچانے والے ویلنٹائنی جوڑے اسی سول سوسائٹی سے بھرپور تحفظ پشت پناہی اور آشیرباد پاتے ہیں۔ سبب کچھ اور ہے جس کو تو خود سمجھتا ہے! (سارا بغض اسلام اور ایمان سے ہے)۔ ایک طرف قراد داد پاکستان کے نتیجے میں وجود پانے والے ملک تک پہنچنے اور اسے آباد کرنے کیلئے لاکھوں مسلمان قتل ہوئے۔ سینکڑوں بچے اغواءہوئے، لاتعداد مسلم خواتین ہندوﺅں سکھوں نے زبردستی روک لیں۔ تھی جو اک خان کی بیٹی وہ ہے اب شام کی ماں۔ اب ہے جے پال کی جگہ دیش کی جے رام کی ماں۔ لیکن کیا کیجئے کہ قائد و اقبال کا پاکستان اپنی شناخت سے پیچھا چھڑانے کو دیوانہ سا ہو چکا ہے۔ حفصہ اور فریال کو ہندوﺅں سے بیاہنے کے در پے ہے! ادھر خود وزیر اعظم پاکستان ارشاد فرماتے ہیں۔ ہم سرائیکیوں کو حق ملنا چاہیے۔ انتظامی نہیں لسانی بنیادوں پر صوبے بنانے ہوں گے! اقبال نے جو کہا تھا۔....
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں!
تو اب ان کا مذہب گویا اسلام نہیں زبان ہے۔ لسانی بنیادوں پر بنگالیوں کی تحقیر کرکے ہم نے ایک پاکستان کے دو بنا لئے۔ اب باقی ماندہ کے در پے ہیں۔ ایک طرف تقسیم در تقسیم کے پس پردہ لیڈروں کی مالی ضروریات ہیں۔ دیکھ لیجئے گلگت بلتستان کا نیا صوبہ اپنے نئے نکور گورنر کی کیسے سیوا کر رہا ہے۔ گورنر کے مکان کی تزئین و آرائش پر دو کروڑ خرچ کرکے ذاتی گھر کو کیمپ آفس بنا کر تین لاکھ ستر ہزار ماہانہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ صوبے بے چارے کا حال یہ ہے کہ فنڈز کی کمی سے کئی مہینے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں رُکی ہوئی ہیں۔ وہاں کے عوام کی گندم کی سب سڈی بھی رُکی پڑی ہے۔ اسی پر مزید نئے صوبوں کی وجہ تسمیہ قیاس کر لیں۔ انکے سوٹوں، گاڑیوں کی باراتوں، بنگلوں کیلئے پیٹ کاٹ کر انہیں پالتے عوام کا بُھرکس نکل گیا۔ جہاں ایک سینیٹ کی کرسی 65 کروڑ روپے کی ہو اگر کرسیوں میں مزید اضافہ ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا! اب تو اللہ ’آیت الکرسی‘ پر ایمان رکھنے والوں اور ارض و سموات کی کرسی کے مالک سے ڈرنے والوں کو بھیج دے۔ (زرداری صاحب کی کرسی خطاب کے دوران استعارةً اُلٹ ہی گئی تھی!) نہ رہے کرسی نہ لُٹے ملک۔ بوریا نشینوں کی حکمرانی کے سوا امراضِ کرسی کا علاج کہیں نہیں! یوں بھی جمہوریت کو خود وزیراعظم نے کوئلے کا کاروبار قرار دے دیا۔ اللہ انہیں روسیاہی سے نجات عطا فرمائے۔
یومِ پاکستان پر قیدیوں کی سزا¶ں میں تخفیف کی گئی ہے۔ کیا تخفیف جرمِ بے گناہی یا یوں کہہ لیجئے کہ اسلام سے وابستگی کے جرم، امریکہ دشمنی کے وہم، پر لاپتہ کئے گئے قیدیوں کیلئے بھی ہو گی؟ نئے صاحب چارج سنبھال رہے ہیں، مظلوم خاندانوں اور انکے لاپتہ کردہ جگر گوشوں کےلئے یومِ پاکستان یا ظہیر الاسلام صاحب میں (اسم بامسمیٰ ہونے کا امکان؟) کوئی خوشخبری مضمر ہے۔ یکطرفہ یہ شور ہے کہ ’اداروں کو تنقید سے کمزور کیا جا رہا ہے۔‘ اسبابِ تنقید دور کرنے، اعتماد کا بحران ختم کرنے کیلئے بھی کوئی اقدام درکار ہے یا محض دھونس دھمکی اور حب الوطنی کا خراج وصول کیا جاتا رہے گا؟ کیوں نہ یومِ پاکستان تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا دن ہو۔ کیوں نہ یومِ پاکستان امریکہ سے نجات کا دن ہو۔ کیوں نہ اس روز فوج قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے واپس بلا کر اپنے اصل محاذ (مشرقی) پر واپس بھیجی جائے؟
ملک کا سُکھ چین (جو ہم نے امریکہ کے قدموں میں قربان کر دیا)، عزت و وقار، اتحاد و اتفاق کیجئے (بھینس کے آگے بین بجانے میں حرج ہی کیا ہے!) یہ بھی عجیب ستم ظریفی ہے کہ بلوچ قوم پرست لیڈروں کی ایک تاریخ ہے۔ وہ قندھار میں پاکستان دشمنی میں براجمان تھے جنہیں طالبان نے آ کر وہاں سے نکالا (علیحدگی پسندی میں روس بھارت کی پشت پناہی انہیں حاصل تھی) ۔ قبائلی پٹی تو کبھی ایک دن بھی روس، بھارت، امریکہ کے ہاتھ نہ بکی، یہ پاکستان کے وفادار ترین شہری رہے تمام تر محرومیوں اور ہماری بے وفائیوں کے علی الرغم! انہیں ہم امریکہ کی فرمائش پر ڈرون اور F.16 اور آپریشنوں سے بھون رہے ہیں۔ بلوچستان اگرچہ مظلومیت کے گرداب میں ہے تاہم علیحدگی پسند بلوچوں سے یورپی امریکی دبا¶ پر مفاہمت، مذاکرات، مقدمہ ختم کرنے کی بات۔ اُدھر قبائلی بمباریاں سہہ سہہ کر بھی پاکستان سے غداری کا حرف بھی زبان پر نہ لائیں لیکن انہیں لاشوں کے تحفے بدستور تھمائے جاتے رہے؟
اصل جرم آج پاکستان دشمنی نہیں امریکہ دشمنی ہے۔ اتنے افغان روس کےخلاف جہاد کے دوران مہاجر نہ ہوئے جتنے ملک کے اندر قبائلی پاکستانی، اپنوں کے ہاتھوں مہاجر ہوئے‘ عورتیں بچے بمباری کا کا نشانہ بھی اور دربدر بھی! نیٹو سپلائی دشمن خیبر ایجنسی میں تیزاب زدہ چہروں والی چودہ لاشیں لاپتہ کرنے کے بعد پھینکی گئی ہیں (شرمین کو خبر دیجئے)! یہ جو کچھ بویا جا رہا ہے اسے کاٹنے کی سہار کیا پاکستان تن ہمہ داغ داغ میں باقی ہے؟ ہوش کے ناخن لیجئے۔ امریکی شکنجے سے نکلنے کا حوصلہ پیدا کیجئے۔ زرداری صاحب نے فرمایا :
”اداروں کے ساتھ مل کر تاریخ مرتب کر رہے ہیں“ قوم دست بستہ عرض کرتی ہے کہ آپ کی مرتب کردہ تاریخ ہمارا جغرافیہ تباہ کر رہی ہے۔ یہ آپکے بس کا روگ نہیں۔ تاریخ کو کوئلے سے لکھنے کی بجائے آپ حساب کتاب ہی کیجئے قبل اسکے آپ کا حساب کیا جائے! شنید ہے کہ برطانوی یونیورسٹی (Sussex) میں کرپشن کے مطالعے کیلئے مرکز اور ایم اے کی ڈگری کا اجراءکیا گیا ہے۔ پاکستان یقیناً اس کیلئے خصوصی دلچسپی کا مرکز بنے گا اور طلبہ کیلئے اس مضمون میں تحقیق پر انہیں پی ایچ ڈی کے لائق بھی بنا دیگا!