ایشیاءکا پاکستانی مسئلہ

22 مارچ 2012
ماروی میمن
جب میں 1700ءسے لیکر 2050ءکے عرصہ پر محیط ایشیاءکی ترقی کے گراف اور اعدادوشمار پر نظر ڈالتی ہوں تو ایشیاءکا ایک مرتبہ پھر دنیا کے افق پر بطور اقتصادی طاقت کا اُبھرنا ناگزیر نظر آتا ہے۔ اگر ہمارے براعظم کے تمام معاملات ٹھیک طور پر چلتے رہیں تو وہ وقت دور نہیں جب ہم 52فیصد (جی ڈی پی) شرح نمو کے ساتھ دنیا میں سرفہرست ہونگے۔ اس مرحلے پر بطور پاکستانی سیاستدان جو سوال میرے ذہن میں اُبھرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس صورتحال میں پاکستان کس مقام پر ہو گا؟ اس کا جواب بھی ہمارے پاس ہے۔ یا تو ہم اپنی آبادی کے استعداد کار یا صلاحیتوں سے استفادہ کرینگے بصورت دیگر اسی آبادی سے پیدا شدہ مضر اثرات بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہی ہونگے۔ ویسے بھی مستقبل میں ایشیائی آبادی کا عالمی شرح نمو میں حصہ 21فیصد سے بڑھ کر 45فیصد ہو جائے گا جبکہ مغربی دنیا کا حصہ 50فیصد سے گھٹ کر 29فیصد ہو جائے گا۔
ایسے وقت میں جب پاکستان کا تاثر کرپشن کے تباہ کن ناسور اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کی وجہ سے خراب ہو رہا ہے ہمیں اس کے تدارک کے لئے کوئی نہ کوئی جامع قدم اٹھانا ہو گا کیونکہ اس حوالے سے کوتاہی اور تساہل پسندی خودکش ثابت ہو گی۔ ہماری خارجہ پالیسی کی سمت عالمی حالات کے تناظر میں بھرپور، جاندار اور حقیقت پسندی میں مبنی ہونی چاہئے نہ کہ ردعمل مبنی۔ ہماری گذشتہ چار برس پر مبنی خارجہ پالیسی ’اسٹیبلشمنٹ‘ ساختہ ہے اور اس پر عملدرآمد کرنے والے بھی اس پر نیم دلی کے ساتھ عمل پیرا ہیں جس سے یہ بات عیاں ہے کوئی بھی اس سے مطمئن دکھائی نہیں دیتا۔ ہم اس کی طرح کی ایک ہدایت پر دو بڑے اختلافات دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے اس ایشو پر پارلیمنٹ میں بہت زیادہ بحث و تکرار بھی سنی لیکن آج تک پارلیمنٹ نے اس اہم ایشو پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔
عالمی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ براعظم ایشیاءجلد ہی دو حصوں میں بٹ جائے گا ۔ ایک بلاک میں شامل ممالک سیاسی، معاشی، جغرافیائی اور تزوپرائی طور پر مشترک مفادات کے حامل ہونگے اور چین کی سرپرستی میں اہم گروپ تشکیل دینگے ان ممالک میں شمالی کوریا، روس، کرغیزستان، قازقستان، تاجکستان، پاکستان، میانمار، لاﺅس اور ویتنام شامل ہونگے۔ دوسرے گروپ میں امریکہ کی طرز پر لبرل جمہوریت کے حامل ممالک جوکہ جغرافیائی طور پر چین سے سمندروں، پہاڑوں کی وجہ سے دوری پر ہونگے، شامل ہونگے۔ امریکی پالیسیوں سے کافی حد تک ہم آہنگ ان ممالک میں جاپان، جنوبی کوریا، فلپائن، انڈونیشیا، آسٹریلیا، سنگاپور، تھائی لینڈ اور انڈیا ہونگے۔
اپنے عوام کی بہتری کیلئے پاکستان کا کسی خاص کیمپ سے منسوب ہو جانا مناسب نہیں ہو گا۔ یہی وہ وقت ہے جب پاکستان کو براعظمی اور بحری گروپ بندیوں اور جھکاﺅ سے اپنے آپ کو بچانا ہو گا جوکہ مستقبل میں نئی قسم کی سرد جنگ فضا پیدا کر دینگی۔ جغرافیائی طور پر پاکستان ایک انتہائی خوش قسمت ملک ہے جو بہت سے اہم ممالک کی راہداری پر واقع ہے۔ صرف اسی پہلو سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان اپنی دانشمندانہ پالیسیوں سے کس قدر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بس ”Epicenter reap Model“ کی طرز پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اب تک پاکستان نے دہشت گردی کی صورتحال کی وجہ سے بڑا نقصان اٹھایا ہے اور یہ بھی بدقسمتی ہے کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے گھناﺅنے عزائم کا میدان بھی بنا رہا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اس صورتحال کو یکسر مسترد کر دیا جائے اور نہ تو مشرق پر بھروسا کیا جائے اور نہ مغرب کی چھتر چھاﺅں پناہ تلاش کی جائے بلکہ اپنی تمام تر توجہ ”ایشیئن ٹائیگر“ کی منزل کے حصول کیلئے مرکوز کر دی جائے۔ مختصراً میری تمام تر باتوں کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایشیاءکے تمام ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو استوار کرے اور ایشیاءکو دنیا کی اقتصادی طاقت بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ اس کے لئے پاکستان کو ’ایشیئن اکنامک ماڈل‘ کو اپنانا ہو گا۔ عالمی منڈیوں تک رسائی، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادی ترقی کی بنیاد پر تعلیم اور پیداوار میں اضافہ اس ایشیائی ماڈل کے بنیادی عوامل ہیں۔ پاکستان خام تیل کی دولت سے مالامال مسلم ممالک اور ”ایشین ٹائیگرز“ کے درمیان اس وقت اہم راہداری کا کردار ادا کر سکتا ہے جب ہم اپنے اندرونی معاملات کو بہتر بنائیں۔ پس نئی ایشیائی خارجہ پالیسی اپنانے سے قبل اندرونی معاملات میں سدھار اور درستگی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ہماری خارجہ پالیسی سہ شاخہ ہونی چاہئے، مرکزی (Cone)، سطحی (Layer)اور درمیانی (CrusT)۔ ہماری مرکزی خارجہ پالیسی اس چیز پر ہونی چاہئے کہ آئندہ کوئی بیرونی طاقت اپنے مفادات کی خاطر ہمیں یا ہماری سرزمین کو استعمال نہ کر سکے۔ ہمیں ایسی تمام طاقتوں کے تسلط سے باہر نکلنا ہو گا جو ہماری جغرافیائی سالمیت اور اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ سطحی پالیسی کے تحت ہمیں اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاملات کو ازسرنو ترتیب دینا ہو گا جس میں سب سے پہلی ترجیح یہ ہو کہ تمام نزاعی امور کو عالمی ثالثوں کے ذریعے نمٹایا جائے۔ اس طرح کے تمام اختلافی ایشوز کو حل کرنے کے بعد ہی ”فری ٹریڈ زون“ اور اقتصادی اتحاد کے نظریات کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔ اور ہماری سہ شاخہ خارجہ پالیسی کا تیسرا حصہ یعنی (Crust)کے تحت ان تمام ممالک اور طاقتوں کے ساتھ بامعافی تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے جن کے ساتھ تجارت کی گنجائش موجود ہے۔ یہ پالیسی تمام کی تمام، من جملہ اختلافات کے حل اور پھر تجارت کے فروغ کے گرد گھومتی ہے۔ اختلافی امور کو حل کرنے کے بعد ہی تجارت کی فضا کو سازگار بنایا جا سکتا ہے۔
ایشیاءنظریاتی، تاریخی اور علاقائی اتحاد کے حوالے سے تقسیم کا شکار رہا ہے۔ اس کے پاس گارنٹرز یا ثالثوں کا کوئی تاریخی ماڈل بھی نہیں ہے۔ ایشیا کے تقریباً تمام ممالک ہی نے متحد ایشیاءکے مقابلے میں خودساختہ انفرادی اور خدماتی طریقے کار اپنائے رکھا۔ ایشیاءکو اپنے پوٹینشل اور صلاحیتوں کے ادراک کیلئے سب سے پہلے انفرادی سطح پر ہر ملک کے اندر غیرمساویانہ تفریق کو ختم کرنا ہو گا جو سماجی اور معاشرتی اتحاد و یگانگت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ محدود قدرتی وسائل کیلئے پیدا شدہ مقابلے کی فضا کا ادراک ناگزیر ہے۔ ایشیائی ممالک میں آمدنی میں بڑھتے ہوئے فرق کو حل کرنا ہو گا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر دے۔
موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو بھی مل جل کر حل کرنے کی ضرورت ہے اس سے قبل کہ کوئی قدرتی آفت یہاں کی آبادیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دے یا پھر اس خطے کو غذائی قلت کا شکار کر دے۔ یہاں پر کمزور انتظامی سٹرکچر کو بھی ٹھیک کرنا ہو گا اور اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا۔ ہم اپنی سہ شاخہ خارجہ پالیسی کی مدد سے بہت سی باتوں کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔ ہم اپنے اس ”وژن ڈاکومنٹ“ کے ذریعے خارجہ پالیسی کے لئے نئی راہ متعین کرنا چاہتے ہیں اور یہی وہ دستاویز ہے جو پاکستان کو حقیقی طور پر ایشیائی طاقت کے طور پر اُبھرنے میں ممدو معاون ثابت ہو گی۔