بجٹ کی منظوری کیلئے پیپلزپارٹی کی  حکومت کو تعاون کی یقین دہانی

وزیراعظم شہبازشریف سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات میں گزشتہ روز بجٹ سازی پر پیپلزپارٹی کے تحفظات دور ہو گئے اور طے پایا کہ پیپلزپارٹی کے ارکان قومی اسمبلی اور سینٹ میں فنانس بل (بجٹ) کی منظوری میں تعاون کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ملاقات میں دونوں حکومتی اتحادی جماعتوں کے مابین گلے شکوے بھی ختم ہو گئے۔ دوران ملاقات بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت کسی فیصلہ سازی میں ہمیں اعتماد میں نہیں لے رہی اور سندھ کے مختلف منصوبوں میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں ہو رہا جس پر وزیراعظم شہبازشریف نے یقین دلایا کہ پیپلزپارٹی کے تمام تحفظات دور کئے جائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری کی زیرقیادت وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کرنیوالے پیپلزپارٹی کے وفد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی‘ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف‘ سید خورشید شاہ ‘ سید نویدقمر اور شیری رحمان بھی شامل تھے۔ 
ملاقات کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اس دو طرفہ ملاقات میں قومی سیاسی امور پر گفتگو ہوئی اور بجٹ کے حوالے سے دونوں حکمران جماعتوں کی قیادتوں نے مزید مشاورت کی۔ وزیراعظم شہبازشریف کے بقول معیشت کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں‘ سٹاک مارکیٹ میں مثالی تیزی کاروباری حلقوں کی جانب سے بجٹ کی توثیق کے مترادف ہے۔ اس موقع پر میاں شہبازشریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملکی ترقی و خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہے۔ ہم نے نئے مالی سال کے بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ کمیٹیوں کے ذریعے مزید مشاورت جاری رہے گی۔ ملاقات کے بعد وزیراعظم کی جانب سے پیپلزپارٹی کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا۔ دونوں حکمران جماعتوں کی قیادتوں کی اس ملاقات میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق‘ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور وفاقی وزرائ و مشیران احسن اقبال‘ محمد اورنگزیب‘ عطاءتارڑ‘ رانا ثناءاللہ‘ علی پرویز ملک اور خواجہ سعدرفیق بھی موجود تھے۔ 
یہ امر واقع ہے کہ اقتداری سیاست میں 80ءاور 90ءکی دو دہائیوں کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی بدترین حریف رہی ہیں اور ان جماعتوں کی قیادتوں نے عامیانہ انداز میں ایک دوسرے کے بخیئے ادھیڑنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جبکہ اس سیاسی محاذآرائی کا نقصان سسٹم اور عوام کو پہنچتا رہا۔ بالآخر ان دونوں جماعتوں کی قیادتوں نے 2005ءمیں لندن میں اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر میٹنگ کا اہتمام کرکے چارٹر آف ڈیموکریسی طے کیا جس میں عہد کیا گیا کہ آئندہ خود اقتدار میں آنے یا دوسرے کے اقتدار کو گرانے کیلئے ماورائے آئین اقدام والوں کو اپنا کندھا پیش نہیں کیا جائیگا اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ جمہوریت کو تقویت پہنچائی جائیگی۔ 
اگرچہ اس معاہدے کے بعد میاں نوازشریف کی زیرقیادت ایک نیا اپوزیشن اتحاد اے پی ڈی ایم بھی تشکیل پا گیا جس میں عمران خان کی تحریک انصاف بھی شامل تھی اور اس اتحاد نے پیپلزپارٹی سے اپنے راستے الگ کرلئے تھے۔ اسکے باوجود دونوں جماعتوں میں روایتی محاذآرائی والی فضا چھٹ گئی اور 2007ءکے انتخابات کی مہم کے دوران محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر مسلم لیگ (ن) نے بھی سوگ منایا اور میاں نوازشریف بھٹو خاندان کو پرسہ دینے کیلئے انکے پاس گئے جبکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث انتخابات کے دو ماہ کیلئے التواءپر بھی اتفاق کیا گیا۔ 2008ءکے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) پہلی بار پیپلزپارٹی کے ساتھ حکومتی اتحادی بنی جو چارٹر آف ڈیموکریسی (میثاق جمہوریت) ہی کے ثمرات تھے۔ بے شک مسلم لیگ (ن) نے دو ماہ بعد ہی اقتدار سے علیحدگی اختیار کرلی اور اپوزیشن کا کردار قبول کرلیا مگر پیپلزپارٹی کے پورے عرصہ اقتدار کے دوران میاں نوازشریف فرینڈلی اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرتے رہے۔ اسی بنیاد پر پارلیمنٹ میں 18ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ پھر 2013ءکے انتخابات کے نتیجہ میں مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی تو پیپلزپارٹی نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار سنبھال لیا جس کا ثبوت عمران خان کی دو ماہ تک جاری رہنے والی دھرنا تحریک کے دوران پارلیمنٹ میں پیپلزپارٹی کا حکمران مسلم لیگ (ن) کا دست و بازو بنا رہنا تھا۔ 2018ءکے انتخابات کے نتیجہ میں عمران خان اقتدار میں آئے تو انہوں نے اپنے ایجنڈے کے تحت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں کی قیادتوں کو رگڑا لگائے رکھا اور انہیں چور ڈاکو کے لقب سے نوازتے رہے۔ اسی تناظر میں ان دونوں جماعتوں کی قیادتوں نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم تشکیل دیا تاہم پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی سیاست پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک سال بعد ہی اس اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی مگر اپریل 2022ءمیں عدم اعتماد کی تحریک کی بنیاد پر عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو یہ دونوں جماعتیں پی ڈی ایم کے اقتدار میں حکومتی اتحادی جماعتیں بن گئیں۔ 
اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہیں کہ اقتداری سیاست میں 2005ءمیں طے پانے والے میثاق جمہوریت کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے مفادات مشترکہ رہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کی قیادت نے حکومت یا اپوزیشن میں ہمیشہ اپنے مفادات کو فوقیت دینے کی کوشش کی۔ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت یقیناً کوئی مثالی حکومت نہیں تھی جو آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد سے پی ٹی آئی حکومت کے انحراف کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالے مسائل اپنے ساتھ لے کر آئی تھی۔ اس حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی بحالی کیلئے اس عالمی مالیاتی ادارہ کی ناراضگی دور کرنے کی خاطر ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اسکی ہر نئی شرط بھی من و عن قبول کرکے عوام کو مہنگائی کے ہاتھوں عملاً زندہ درگور کر دیا۔ چنانچہ 2024ءکے انتخابات میں ممکنہ عوامی ردعمل بھی نوشتہ دیوار تھا جسے بھانپ کر پیپلزپارٹی نے اتحادی حکومت پر پڑنے والے ملبہ سے خود کو الگ کرنے کی حکمت عملی طے کرلی اور وہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی مخالف جماعت کے طور پر کھل کر سامنے آگئی تاہم جب انتخابات کے بعد دونوں جماعتیں کی معاونت کے بغیر اقتدار کا حصول ناممکن نظر آیا تو پیپلزپارٹی نے وسیع تر قومی مفاد کے نام پر پھر مسلم لیگ (ن) کے کندھے سے کندھا ملالیا۔ 
آج کی سیاست کے زمینی حقائق تو یہی ہیں کہ موجودہ اتحادی حکومت اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی کے تحت معرض وجود میں آئی ہے جسے جہاں عوام کے سنگین تر روٹی روزگار اور مہنگائی کے مسائل کا سامنا ہے‘ وہیں اسے اپوزیشن کی تحریک کیلئے پیدا ہوتے سازگار حالات اپنے اقتدار کا سنگھاسن غیرمستحکم بناتے بھی نظر آرہے ہیں۔ اس فضا میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) باہم متحد رہ کر ہی اقتدار کے مزے لوٹ سکتی ہیں جس کے حوالے سے عوام میں بھی سخت تحفظات پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر اس فضا میں پیپلزپارٹی اپنی سیاسی ترجیحات کی پاسداری کریگی تو مسلم لیگ (ن) ہی نہیں‘ وہ خود بھی اقتدار کی لذت سے محروم ہو جائیگی اس لئے اسکی بلیک میلنگ کی سیاست اپنی جگہ‘ اس نے سیاست میں خود کو زندہ رکھنا ہے تو اسے اپنی اقتداری سیاسی حکمت عملی موجودہ حکومتی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہی منسلک کرنا پڑیگی۔ یقیناً ان حقائق کی بنیاد پر ہی وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات میں پیپلزپارٹی کی جانب سے بجٹ کی منظوری میں مکمل تعاون کا عندیہ دیا گیا ہے کیونکہ اسکے بغیر بجٹ کی منظوری مشکل ہو گی جبکہ بجٹ کا منظور نہ ہونا اتحادی حکومت کے اپنے ہی ہاتھوں خاتمہ کے مصداق ہو گا۔ 
اب دونوں حکومتی جماعتوں میں اقتدار کی شرینی آپس میں بانٹنے پر اتفاق ہوا ہے تو وہ بجٹ میں غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری کے مارے عوام کو بھی ریلیف دینے کی کوشش کریں ورنہ اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ والا ان کا اتحاد اکارت بھی جا سکتا ہے کیونکہ راندہ درگاہ عوام اپنے مسائل سے عاجز آکر فی الواقع تہیہءطوفان کئے بیٹھے ہیں۔

ای پیپر دی نیشن