قیادت کا بحران

پاکستان کی تاریخ میں ہم یہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ پاکستان ایک نازک موڑ سے گزر رہا ہے- بدقسمتی سے اس نازک موڑ کا تسلسل آج بھی جاری ہے-سیاسی دانشوروں اور معاشی ماہرین میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو آج جن سنگین اور حساس نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی تھی- پاکستان کو آج سیاسی معاشی سماجی انتظامی نوعیت کے پیچیدہ بحرانوں کا سامنا ہے-پاکستان کا موجودہ بحران گزشتہ دہائیوں کی بیڈ گورننس کا نتیجہ ہے پاکستان کے ریاستی اداروں کے درمیان مفاہمت کی بجائے محاذ ارائی کی کیفیت پائی جاتی ہے-قومی خود اعتمادی زوال پذیر ہے-ایک قابل اعتماد سروے کے مطابق 82 فیصد پاکستانیوں کی رائے ہے کہ پاکستان درست سمت پر نہیں چل رہا-ہم ادارہ جاتی اصلاحات نافذ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں جس کی وجہ سے حکومتی ادارے غیر فعال اور غیر متحرک ہو چکے ہیں اور جمود کا شکار ہیں-پاکستان کے محنت کش عوام خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے ماضی میں پاکستان کے ہر نوعیت کے بحران کا مستقل مزاجی کے ساتھ مقابلہ کیا-ماضی کی مختلف حکومتوں نے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کیں-حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قیادت کا بحران ہے- بدقسمتی سے آج پاکستان میں ایک بھی ایسا لیڈر نہیں ہے جس سے عوام توقع کر سکتے ہوں کہ وہ ملک کو موجودہ سنگین اور حساس نوعیت کے بحرانوں سے باہر نکال سکتا ہے-موجودہ لیڈر مسائل پیدا تو کر سکتے ہیں مگر مسائل کو حل کرنے کی اہلیت اور استعداد نہیں رکھتے- پاکستان کے لیڈرز ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ بن چکے ہیں- ایک ہی دائرے کا سفر جاری ہے ہم ایک ناکام تجربہ بار بار دہرا کر مختلف نتیجے کی توقع رکھتے ہیں-دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے عظیم لیڈروں کی قیادت کی وجہ سے ہی ترقی کی ہے-جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا، سنگاپور کے لیکوان، ملائشیا کے مہاتیر محمد اور چین کے ماوزے تنگ ، چو این لائی، ڈینگ زیاو پنگ، شی چن پنگ کی مثال دی جا سکتی ہے-ان لیڈروں نے امانت دیانت صداقت اور میرٹ کے اصولوں پر عمل کرکے معجزہ کر دکھایا اور اپنے ملکوں کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل کر دیا- ان لیڈروں کا جوہری ہتھیار آئین اور قانون کی یکساں حکمرانی تھا جس پر انہوں نے کبھی کمپرومائز نہ کیا اور نہ ہی بیرونی مداخلت قبول کی- افسوس پاکستان میں 24 ویں بار آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق قومی بجٹ بنایا جا رہا ہے-
لیڈر تبدیلی کے علمبردار ہوتے ہیں اور جو لیڈر سٹیٹس کو کے حامی یا سہولت کار بن کر رہ جائیں ان سے ترقی اور خوشحالی کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی- کامیاب لیڈر ہمیشہ ویڑنری ہوتے ہیں-وہ حالات کو تبدیل کر کے انہیں سازگار بناتے ہیں تاکہ ملک معاشی طور پر ترقی کر سکے-کامیاب لیڈر کے لیے لازم ہے کہ وہ اہل ہو اور دیانت دار ہو اور ریاست کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہو۔ وہ عوام کو اعتماد دے سکتا ہو اور ان کی آرزووں اور تمناوں کے مطابق ریاست کی تشکیل نو کرنے کا اہل ہو- کامیاب لیڈر کے لیے لازم ہے کہ وہ حال کے تقاضوں کا فہم و ادراک رکھتا ہو اور مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہو-پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قائد اعظم ایک وڑنری لیڈر تھے جن کی سیاست کا ایک سنہری اور عظیم مقصد تھا- اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے زبردست سٹریٹجی تشکیل دی-ان کا اخلاقی وجود مستحکم اور مضبوط تھا- ان کی اہلیت اور دیانت کے بارے میں ان کے سیاسی مخالفین بھی گواہی دیتے تھے-قائد اعظم کے سیاسی مخالفین نے پاکستان کے قیام کو ایک ناممکن خواب کہا تھا-قائد اعظم نے اپنے مضبوط ارادے یقین محکم اور ناقابل شکست عزم کی بنیاد پر ایک ناممکن خواب کو حقیقت میں تبدیل کر دیا اور پاکستان وجود میں آ گیا-قائداعظم نے تاریخ کو بدل ڈالا بلکہ انہوں نے نئی تاریخ تخلیق بھی کی-جو لیڈر اپنی ٹیم ہی میرٹ اور اہلیت پر تشکیل دینے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں ان سے مثالی رہبری اور رہنمائی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے-پاکستان کی سیاست میں سرپرستی منافقت مفاد پرستی مراعات اقتدار اور اختیارات کے ارتکاز کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے- اہلیت اور دیانت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے- جو لیڈرز عوام کو انسپائر کرنے سے قاصر ہیں اور نہ ہی ان میں امید پیدا کر سکتے ہیں ان سے ترقی اور خوشحالی کی توقع کیوں کر کی جا سکتی ہے-موجودہ لیڈروں کی وجہ سے پاکستان کے عوام مایوسی اور ناامیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتے جا رہے ہیں-
کامیاب لیڈر ہمیشہ عوام کو بیدار اور باشعور کرتا ہے ان میں اعتماد پیدا کرتا ہے تاکہ وہ خوش دلی کے ساتھ ملکی ترقی اور خوشحالی میں فعال کردار ادا کر سکیں- اگر عوام ہی مایوس ہوں تو ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام ہی ہوتے ہیں-پاکستان کا موجودہ انتخابی نظام ایسے لیڈرز پیدا کر رہا ہے جن پر لوٹ اور کھسوٹ کے الزامات لگائے جاتے ہیں-عوام چونکہ باشعور اور بیدار نہیں ہیں لہذا وہ اپنے نمائندے منتخب کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے- وہ لٹیروں کو اقتدار میں لاتے ہیں اور پھر ان کے ہر عیب کا دفاع بھی کرتے ہیں-امریکہ کے نامور دانشور سیاست دان اور سفارت کار ہنری کیسنجر نے اپنی کتاب" دی لیڈرز "میں تحریر کیا ہے کہ اہل دیانت دار پر عزم لیڈروں کی بدولت ہی دنیا کے ملکوں نے ترقی کی ہے-افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں آج ایک بھی لیڈر ایسا نہیں ہے جس کو عقل اور دلیل کی بنیاد پر" قائد اعظم ثانی "قرار دیا جا سکے-پاکستان کے موجودہ ریاستی نظام میں محب وطن عوام دوست اہل دیانت دار لیڈروں کی گنجائش ہی نہیں ہے-حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم کسی ایک لیڈر کی جانب دیکھنے کی بجائے اجتماعی قیادت کیجانب آ جائیں اور 20 ایسے افراد تلاش کر لیں جو محب وطن بھی ہوں، اہل اور دیانت دار بھی ہوں اور پاکستان کے موجودہ پیچدار سنگین اور حساس نوعیت کے بحرانوں کو حل کرنے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں- پاکستان کی باگ ڈور اگر 20 مثالی افراد کے سپرد کر دی جائے تو پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے-

ای پیپر دی نیشن