جمہوری انقلاب کی ضرورت 

سردار نامہ .... وزیر احمد جو گیزئی
wazeerjogazi@gmail.com 
سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی

 قیام پاکستان کو 76برس کا عرصہ گزر چکا ہے ،اس عرصے میں بہت کچھ ہوا ہم کچھ کھویا ہے اور بہت کچھ پایا بھی ہے ،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کھویا زیادہ ہے اور پایا کم ہے اور شاید یہ نظریہ درست بھی ہے۔ بہت سارے فیصلے لیے گئے جو کہ قابل اعتراض تھے ،مشرقی پاکستان کی اکثریت کو مغربی پاکستان کی آبادی کے ساتھ ملایا گیا اس کا موازنہ کیا گیا اس کو اکیویٹ (equate)کیا گیا جو کہ سراسر ناانصافی تھی ،اور جمہوری اصولوں کی بھی خلاف ورزی تھی ،لیکن بہر حال پھر بھی ایسا کیا گیا اور ملک کی وحدت کو نقصان پہنچایا گیا۔اسی طرح مغربی پاکستان میں ون یونٹ بنا کر صوبوں کی خود مختاری پر غا صبانہ حملہ کیا گیا اور اس سے فیڈریشن کو مزید کمزور کیا گیا ،بہر حال یہ حملہ ناکام ہوا اور پھر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب ون یونٹ کو توڑا گیا تو صوبوں کو ان کی تاریخی شکل میں بحال کرنے کی بجائے پنجاب میں تین ،سندھ میں دو ،سرحد میں دو اور اسی طرح بلوچستان میں بھی نئے صوبے بننے چاہیے تھے ،تاکہ اختیارات عوام تک منتقل ہوں ،جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچیں اور گورننس اور انتظامی امور میں بہتری لائی جاسکے لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور آج ہمیں جمہوری اصولوں پر نہ چلنے کی سزا یہ ملی ہے کہ آج اسلام آباد کے لیے ان صوبوں پر حکومت کرنا مشکل ہو رہا ہے ،ہمیں اپنے معاملات کو بہتر انداز میں بہتر آگے لے کر چلنے کی ضرورت تھی ضرورت اس بات کی تھی کہ بہتر انداز میں مشورہ کرکے آگے بڑھا جائے ،ایسے دیر پا فیصلے کیے جائیں جو کہ ریاست کی مضبوطی کا باعث بنیں اور ملک کو آگے بڑھائیں ترقی کی راہیں ہموار کریں لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا ہے اور ہم ایسا نہیں کرسکے ہیں یہ یقینا ہماری ناکامی ہے اور ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد بھی آئین میں ترامیم کی گئی ہیں اور کافی کچھ تبدیل ہوا ہے اور میں یہاں پر یہ کہوں گا کہ اگر کچھ تبدیل نہیں کیا گیا تو وہ یہ ہے کہ 8ویں ترمیم کو 18ویں ترمیم کے ذریعے مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا ہے 8ویں ترمیم ختم ہونی چاہیے تھی ،لیکن نہ ہوسکی ،آئین کو 1973ئ کی سطح پر بحال کرنے کی ضرورت ہے اس سے ہمارے نظام میں بہت ساری خرابیوں کا خاتمہ اور مشکلا ت آسان ہو سکیں گی۔جمہوریت بھی مضبوط ہو گی اس طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔آ ئینی عمل سے گزر کر ہی پروسیجز کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔بہر حال ہم آج بھی حقیقی جمہوریت کے متلاشی ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس جانب بڑھیں ،جمہوری اقدار کو اپنائیں ،ایک دوسرے کو برداشت کریں اور سب جمہوری اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے ہی ملک کو چلائیں اور آگے بڑھیں ایسا تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ اہم ریاستی ادارے ایک پیج پر نہیں ہیں۔بہر حال جمہوریت کی تلاش جاری ہے اور تکمیل جمہوریت کے اس سفر میں ہم آج بھی رواں دواں ہیں ،لیکن ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں ہی جمہوریت نہیں ہے ،جو کہ جمہورت کی بنیاد ہوتی ہے ملک میں جمہو ریت لانے کی دعوے دار جماعتیں جمہوریت سے زیادہ خاندانی با دشاہتیں ہوں تو پھر اس صورت میں اس ملک میں جمہوریت کے مضبوط ہونے کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔ سیاسی جماعتیں یونین کونسل کی سطح پر خود کو منظم نہیں کرتی ہیں اور بلدیاتی حکومتوں کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے جس سے کہ عوام کے گراس روٹ لیول کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں اور جمہوریت کمزور ہوتی ہے ، اس کلچر کو اور اس ماحول کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر جمہوریت کی گاڑی آگے بڑھ نہیں سکے گی اور ہمیں ملک کی خاطر جمہوریت کی گاڑی کو ہر حال میں آگے بڑھانا ہے۔سیاست دانوں کو اپنی سپیس واپس لینی پڑے گی اور یہ سپیس واپس لینے کا طریقہ صرف اور صرف یہی ہے کہ سیاست دان عوام کو حقیقی معنوں میں ڈیلور کریں اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط کریں اس کے بغیر کام چل نہیں سکتا ہے اور جب تک ایسا نہیں کریں گے تب تک ایسی ہی حکومتیں آتی رہے گی جو کہ نہ تیتر ہوں نہ ہی بٹیر اور ملک بس ایسے ہی چلتا رہے گا اور ہمیں کارکردگی دیکھنے کو نہیں ملے گی ملک کو حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے اسی میں مسائل کا حل ہے۔اگر پاکستان کو صیح معنوں میں ترقی کرنی ہے تو پھر عوام کو با اختیار بنانا پڑے گا۔اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے جب تک کہ عوام با اختیار نہیں ہوں گے ترقی کے راستے معدوم رہے گے جمہوریت کے حوالے سے بھی یہی مشاہدہ ہے کہ جب تک کسی بھی جمہوری نظام میں مقامی حکومت مضبوط اور خود مختیار نہ ہو تب تک جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی ہے اور جن ممالک میں جمہوریت مضبوط دیکھائی دیتی ہے وہاں مقامی حکومتیں بہتر انداز میں کام کررہی ہوتی ہیں لیکن یہ بھی ہمارے ملک میں ستم ظریفی کی بات ہے کہ مقامی حکومتوں کو مارشل لا ءکے ادوار میں پذیرائی ملی ہے جمہوری ادوار میں اس بنیادی جمہوریت کو با قاعدہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور ہمیشہ ہی نظر انداز کیا گیا ہے اور اگر کبھی مقامی حکومت لائی بھی جاتی ہے تو اس میں بھی اپنوں کو نوازا جاتا ہے اور مقامی حکومتوں میں بھی مو رو ثیت کا رنگ آجاتا ہے اور اس کا نقصان یہ ہو تا ہے کہ اس نظام سے بھی کوئی حقیقی قیادت ابھرتی ہو ئی نظر نہیں آتی ہے۔اگر مقامی حکومتوں سے حقیقی قیادت ابھرے اور عوام کے مسائل جانتی ہو ،تو یہ قیادت عوام کے دلوں کے قریب رہتی ہے ،بہر حال ملک کے حالات مشکل ہیں ،چاروں صوبوں میں مختلف قسم کی حکومتیں ہیں مختلف خیالات کی حکومتیں ہیں ،جو کہ ایک قوم کی تشکیل میں معاون نہیں ہیں بہر حال پاکستان کو نہ سرخ نہ سبز بلکہ انقلاب کی ضرورت ہے ،جو کہ سر تا پیر صرف اور صرف عوامی ہو۔

ای پیپر دی نیشن