بٹ خیلہ : پشتون بیلٹ میں مذہب کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے پی ٹی آئی کو مسلط کیا گیا: فضل الرحمن

Jul 22, 2018 | 21:56

ویب ڈیسک

بٹ خیلہ :متحدہ مجلس عمل پاکستان کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ ملک میں قیادت کی تبدیلی کا وقت آگیاہے ۔ پشتون بیلٹ میں مذہب کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے پی ٹی آئی کو مسلط کیا گیا ۔ ہم پشتون کی عزت و غیرت کی حفاظت کررہے ہیں ۔ کوئی غیرت مند پشتون پی ٹی آئی کا جھنڈا نہیں اٹھاسکتا ۔ جمہوریت سے بات شروع کر کے جمہوریت پر ختم کرنے والی پیپلز پارٹی نے شیخ مجیب الرحمن کی اکثریت کا انکار کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہوگیا ۔ جب بنگال بنگلہ دیش بن گیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے کہاکہ شکر ہے پاکستان بچ گیا ۔ ذوالفقار بھٹو نے ہی کہاتھاکہ ادھر ہم ادھر تم ۔ یہ تھا پیپلز پارٹی کی جمہوریت کا آغاز، آج وہ کس منہ سے جمہوریت کی بات کرتے ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بٹ خیلہ میں بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسہ سے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ، مولانا گل نصیب خان ، سینیٹر مشتاق احمد خان اور محمد امین نے بھی خطاب کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں ختم نبوت کے قانون کو ختم کرنے کی سازش کو ہم نے ناکام بنایا ۔ پاپائے روم کے ساتھ توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کے وعدے کرنے والوں کو دینی جماعتوں اور عوام کے اتحاد نے ناکام بنایا ۔ دینی قوتوں کی موجودگی میں کسی کو توہین رسالت کا قانون ختم کرنے کی جرأت نہیں ہوسکتی ۔ موجودہ حکومت نے بھی ختم نبوت کے قلعہ میں نقب لگانے کی کوشش کی ۔ میں نے وزیراعظم سے بات کی اور مسئلہ حل کر لیا ۔ چوری کا مال برآمد ہوگیا لیکن چور کون تھا ، یہ پتہ نہیں چل رہا تھا ۔ ہائی کورٹ کے حکم پر جب رپورٹ شائع ہوئی تو پتہ چلاکہ چور پی ٹی آئی کا شفقت محمود تھا ۔انہوں نے کہاکہ عوام کے ووٹ سے قیادت ، حکومت اور نظام بدلے گا ۔ عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت کا ادراک ہوناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ جب مذہب بیزار قوتیں پاکستان کی پارلیمنٹ پر قابض تھیں جو کہتی تھیں کہ ہم دنیا کے سامنے نرم اسلام پیش کر رہے ہیں اور علما شدت اور تشدد پسند ہیں جبکہ دنیا کو پاکستان کا روشن چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم قائد اعظم کے فرمان کے مطابق ملکی معیشت کو سود سے پاک کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ دو نظریات اور تہذیبوں کی جنگ ہے ۔ ہم آئین پاکستان کی بالادستی چاہتے ہیں ۔ پاکستان کے آئین میں ہے کہ پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہوگی ۔ ریاست کا مذہب اسلام ہوگا اور پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا ۔ جب ہم نے کہاکہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہونی چاہیے ، پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے کچھ لوگوں نے کہاکہ قرآن و سنت قانون سازی کی بنیاد نہیں ، قانون سازی کی بنیاد ہماری خواہشات ہیں جو معاشرہ چاہے گا وہ حلال اور جو معاشرہ نہیں چاہے گا وہ حرام ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں نیا پاکستان نہیں ، اسلامی پاکستان چاہیے ۔ تین سو ڈیم بنانے اور ایک ارب درخت لگانے جیسے جھوٹے پراپیگنڈے سے پی ٹی آئی عوام کو گمراہ نہیں کر سکتی ۔ مجھے تو خیبر پی کے میں کوئی ایک نیا ڈیم نظرنہیں آیا ۔ 25 جولائی خیبر پی کے میں احتساب اور انقلاب کا دن ہے ۔ متحدہ مجلس عمل قوم کو اسلامی اور باوقار پاکستان دے گی ۔ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں کسی کے حقوق غصب نہ ہوں ، عوام کو تعلیم ، صحت ، روزگار اور انصاف مل سکے ۔ انہوں نے کہاکہ عوا م اب پی ٹی آئی کے دعوؤں پر کان دھرنے والے نہیں ۔ کتاب عوام اور روشن پاکستان کا نشان ہے ۔متحدہ مجلس عمل چاہتی ہے کہ ہر پاکستانی کو عزت کی زندگی ملے ۔ کسی ظالم و جابر کو کسی غریب کا استحصال کرنے کی جرأت نہ ہو ۔ حکمرانوں نے عوا م کو غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور بدامنی کے تحفے دیے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام اپنے ووٹ کی قوت سے جھوٹے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں 

مزیدخبریں