ادارے کام نہ کریں تو مداخلت کرسکتے ہیں: سپریم کورٹ

22 فروری 2017 (16:20)

پاناما کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس شیخ عظمت سعید نے اٹارنی جنرل اشتراوصاف کو کہا کہ اپنی کہانی پر قائم رہیں, ہر وکیل الگ بات کرکے کنفیوژ کرتا ہے, اٹارنی جنرل اور وکلا عدالت پر رحم کریں, پارٹی نہ بنیں۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کیس کو پاناما لیکس کے معاملے سے منسلک نہ کیا جائے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اگر حدیبیہ پیپرز کیس میں الزامات غلط تھے تو کیس سے کیوں کترا رہے ہیں, کیس کو دفن کیوں کیا, نیب گزشتہ روز ہمارے سامنے وفات پا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ نوازشریف کے بطور وزیر اعظم نہیں رکن اسمبلی اہلیت کا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ معاونت کریں عدالت کس حد تک جا سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آئین کے تحت نا اہلی کیلئے ریفرنس اسپیکر کو بھیجا جا سکتا ہے۔ اسپیکر سے فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں ہی کسی اور فورم پر جا سکتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ متعدد مقدمات میں کہ چکے اگر ادارے کام نہ کر رہے ہوں تو مداخلت کر سکتےہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل تریسٹھ ڈکلیریشن دینے کہ اجازت نہیں دیتا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا سوال یہ ہے کہ ہم کہاں تک جا سکتے ہیں ۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ ہم گھر بھیج سکتے ہیں, وزیر اعظم کا دفاع کل دفن ہو گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اصغر خان کیس میں عدالت نےڈکلیریشن دیا تھا, جعلی ڈگری مقدمات میں بھی ڈکلیریشن کے بعد ٹرائل کے لیے بھجوائے گئے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ معاملہ پر سیشن جج سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ جسس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ غلط بیانی یا اثاثے چھپانے کے الزام پر فوجداری مقرمہ دائر کیا جاسکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئین میں وزیر اعظم کو فوجداری مقدمے سے استثنی نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ چیئرمین نیب اور چیئرمین ایف بی آر کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ عدالت عظمیٰ نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔