عدالت کو بتایا جائے کہ قطری سرمایہ کاری کیسے ہوئی، بینکوں کو سرمایہ کیسے منتقل ہوا : سپریم کورٹ

22 فروری 2017 (14:16)

 بدھ کو جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی حدیبیہ پیپر ملز کیس میں نیب کی اپیل بارے دلائل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے لئے مختلف غیرملکی بینکوں سے قرض لیا گیا جس پر  جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سے سوال کیا کہ نیب الزامات کی مارکیٹنگ کیوں کر رہا ہے اگر حدیبیہ پیپرز کیس میں الزامات درست تھے تو انہیں دفن کیوں کیا گیا، اگر کوئی سٹوری بنائی بھی گئی ہے تو خدا کے لئے ہم پر رحم کریں, عدالت کو بتایا جائے کہ قطری سرمایہ کاری کیسے ہوئی, بینکوں کو سرمایہ کیسے منتقل ہوا کیونکہ نوازشریف اور ان کے بچوں سمیت کسی فریق کے وکیل نے کوئی دستاویزات پیش نہیں کیں، پانامہ کیس میں ایسا نہیں ہے کہ کوئی بچہ گھنٹی بجا کر بھاگ گیا ہو جس نے گھنٹی بجائی ہے وہ آپ کے پیچھے بیٹھا ہے, آپ دوسری طرف کیوں دیکھ رہے ہیں ,کوئی بات نہیں ہے ہم سمجھ چکے ہیں آپ ڈیکلریشن کی بات کر رہے ہیں, آپ آرٹیکل 62 سے مکمل طور پر بھاگنا چاہتے ہیں, ہمیں کہا جا رہا ہے کہ کنوئیں میں دیکھیں اور ڈیکلریشن دیں، کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں جو دستاویزات موجود ہیں وہ قانونی شہادت پر پورا نہیں اترتے، ان الزامات کا ہم کیا کریں جو عدالت کے سامنے پیش کر دیئے گئے ہیں.جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ کیا ہم بھی وہی کریں جو نیب نے کیا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بظاہر تو لگتا ہے کہ اٹارنی جنرل بھی کیس میں فریق نہیں ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے برجستہ کہا کہ میں فریق نہیں ہوں۔ جسٹس عظمت سعید نے سوال کیا کہ قرض کس نے حاصل کیا تھا، نیب الزامات کی مارکیٹنگ کیوں کر رہا ہے، اگر حدیبیہ پیپرز کیس میں الزامات درست تھے تو انہیں دفن کیوں کیا گیا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نیب نے بغیر تحقیقات و ٹرائل کے ریفرنس ختم کر دیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے بارے میں حقائق سامنے لانے کے لئے عدالت کی معاونت کروں گا۔ عدالت حدیبیہ ریفرنس میں نیب کو اپیل کا حکم دینے سے قبل حقائق کو مدنظر رکھے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ وفاق کی نمائندگی نہیں کر رہے بلکہ عدالتی نوٹس پر معاونت کر رہے ہیں۔ جسٹس افضل نے کہا کہ فریقین کو ہزاروں وکلاء مل جائیں گے لیکن عدالتی نوٹس پر صرف آپ ہیں، قانون کے مطابق اپنی رائے دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون کے مطابق نیب کے ریفرنسز کے معاملے میں اپیل داخل کرنے کے لئے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے رائے لینا ضروری ہوتا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ اپیل کوئی بھی دائر کر سکتا ہے، اس ضمن میں سپریم کورٹ نے بھی کافی فیصلے دے رکھے ہیں آپ ان کی مدد لے سکتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت ہر کوئی اپیل دائر نہیں کر سکتا، کیا آپ کوئی ایسی مثال دے سکتے ہیں جس میں اپیل کسی عدالت کی طرف سے سماعت کے لئے منظور کی گئی ہو۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایسی اپیل عدالت کی اجازت سے مشروط ہوتی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہمیں صرف یہ بتایا جائے کہ کیا اس حدیبیہ پیپرز کیس کے معاملے میں کوئی اور اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ازخود نوٹس اس وقت ہی لیا جاتا ہے جب بنیادی حقوق کا معاملہ ہو۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم انتخابی عذرداریاں بھی سنتے ہیں مگر تمام بنیادوں کی ماں عوام ہیں جنہیں نمائندے چننے کا اختیار حاصل ہے، منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 3 نومبر 2016ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے اس موقع پر آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 پر اٹارنی جنرل نے اعتراضات نہیں اٹھائے، ہم بنیادی حقوق کے بارے میں جانتے ہیں، آپ آگے چلیں کیونکہ پانامہ کیس کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ حل ہو چکا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم کہاں تک جا سکتے ہیں اور کہاں سے ہمیں واپس آنا ہے۔ اٹارنی جنرل نے آئین کے آرٹیکل 98 اور 243 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پبلک آفس ہولڈر کے حوالے سے 1973ء کا آئین خاموش ہے۔ اس لئے پبلک آفس ہولڈر کے خلاف ''کووارنٹو'' کی رٹ استعمال نہیں کی جا سکتی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں سپیکر کے پاس ریفرنس لے کر جانے کی بات کر رہا ہوں اگر سپیکر فیصلہ نہیں کرتا تو الیکشن کمیشن کے پاس جانا ہوتا ہے، اگر وہاں سے داد رسی نہ ہو تو پھر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جاتا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہ معاملہ ہم نے یوسف رضا گیلانی کیس میں حل کر دیا ہے۔ اس موقع پر عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے فوراً کھڑے ہو کر کہا کہ یوسف رضا گیلانی کیس میں عدالت نے کہہ دیا ہے کہ وزیراعظم کو گھر بھیج سکتے ہیں، وزیراعظم کو گھر بھیجا گیا لیکن 65 ملین ڈالر واپس نہیں آئے۔ جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل کو آئین پاکستان دکھاتے ہوئے کہا کہ سروس آفس پاکستان اور پبلک آفس ہولڈر کے درمیان آئین میں واضح تفریق کر دی گئی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پبلک آفس ہولڈر کی تقرری اور پبلک آفس ہولڈر کو منتخب کرنے میں کافی فرق ہے۔ ججز سے اتفاق کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل اور اٹارنی جنرل کو سول سروس میں شامل نہیں کیا گیا۔ جسٹس عظمت سعید نے اس موقع پر کہا کہ پانامہ کیس میں ایسا نہیں ہے کہ کوئی بچہ گھنٹی بجا کر بھاگ گیا ہو جس نے گھنٹی بجائی ہے وہ آپ کے پیچھے بیٹھا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میں نعیم بخاری کی بات کر رہا ہوں، اگر کوئی شک ہے تو میں پوچھ لیتا ہوں لیکن جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں وہ ہم سمجھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ دوسری طرف کیوں دیکھ رہے ہیں کوئی بات نہیں ہے۔ اس موقع پر عدالت میں بڑا قہقہہ لگا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے سامنے تو کچھ بھی نہیں ہے،میٹریل فوٹو کاپیوں پر مشتمل ہے، صرف بیانات حلفی ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے اٹارنی جنرل سے سوال پوچھا ہے کہ کسی فریق کے وکیل سے سوال نہیں پوچھا ہمیں بتائیں ہم کیا کریں؟ آپ کچھ کہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پھر آپ بتائیں کہ اس معاملے کو کہاں لے کر جائیں۔ جسٹس عظمت سعید نے پانچ مرتبہ یہی سوال دہرایا اور کہا کہ اگر آپ کو انگریزی میں سمجھ نہیں آتی تو ہم اردو میں بتا دیتے ہیں جس پر ایک بار پھر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ہم ڈیڑھ ماہ سے کیس کو سن رہے ہیں ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ دیا جائے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے بہت سادہ سوال پوچھا ہے جو اردو میں پوچھا ہے بتائیں کیا کریں کہاں لے کر جائیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اردو میں سوال کا جواب میں بھی اردو میں ہی دیتا ہوں جس پر عدالت نے انہیں کہا کہ عدالتی وقفے کے بعد آ کر ہمیں اس سوال کا جواب بتائیں۔