ٹرمپ انتظامیہ کا جرائم میں ملوث غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے کا اعلان

22 فروری 2017 (13:42)

 ٹرمپ انتظامیہ نے تارکین وطن کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ہوم لینڈ سیکورٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کانگریس نے غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کیخلاف آپریشن کی منظوری دے دی ہے۔ تارکین وطن کی گرفتاریوں کے لیے دس ہزار اضافی اہلکار بھی بھرتی کئے جائیں گے۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلامیہ پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے غیر انسانی ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے1 کروڑ 10 لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کونکالنے کاعمل تیز کرنےکی ہدایت جاری کر دی ۔بغیر دستاویزات اورمجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو بھی سیکیورٹی رسک سمجھا جا ئے گا۔ غیر قانونی طور پر امریکا لائے گئے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کوقیام کی اجازت دی جائے گی۔نئی ہدایات کے مطابق مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ایسے غیر قانونی تارکین وطن جن کے پاس دستاویزات نہ ہوں تو انھیں بھی ایسے لوگوں کے ساتھ ہی ہدف بنایا جائے گا جو امریکی سیکورٹی کے لیے خطرہ ہیں اورسسٹم کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔تا ہم وہ کم عمر بچے اور نوجوان جنھیں امریکہ غیر قانونی طور پر لایا گیا، انھیں امریکہ میں رہنے کی اجازت ہو گی۔ اس اقدام سے ہزاروں نوجوانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ وہ نئے اقدامات پر عمل درآمد کے لیے دس ہزار مزید آفیسرز کو تعنیات کرے گی۔ہوم لینڈ سیکورٹی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ ان والدین کو بھی سزا دی جائے جو اپنے بچوں کی امریکہ اسمگل ہونے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میموز میں امیگریشن افسران کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو دیکھتے ہی گرفتار کریں۔وہ امریکی پالیسی بھی ختم کرنے کا تذکرہ میمو میں شامل ہے جس میں غیر قانونی تارکین وطن کو پکڑ کر چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ اب ان کے کیس کے فیصلے تک انہیں ڈیٹنشن سینٹر میں ہی رکھا جائے گا۔