مودی حکومت نے آزادیِ اظہارِ رائے کو تلف،ناقدین کی آواز کو دبایا :ایمنسٹی انٹرنیشنل

22 فروری 2017 (12:20)

نی حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہاہے کہ مودی سرکار برطانوی راج کے دور کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کرتے ہوئے آزادیِ اظہارِ رائے کو تلف کررہی ہے اور ناقدین کی آواز کو دبایا جارہا ہے جبکہ پاکستان میں صحافیوں اور بلاگرز کو حکومتی اور غیر حکومتی عناصر دونوں ہی سے اغوا، بے جا گرفتاریوں، اور ہراساں کیے جانے کے خطرات کا سامنا رہا،دنیا بھر میں جو سیاستدان تفریقی اور انسانی اقدار کے مخالف بیان بازی کرتے ہیں وہ ایک خطرناک اور منقسم دنیا تعمیر کر رہے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تنظیم کی سالانہ رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تفریقی اور منقسم سیاست کی ایک مثال کے طور پر نشانہ بنایا گیا ۔صدر ٹرمپ کے علاوہ رپورٹ میں ترکی، ہنگری، اور فلپائن کے رہنماﺅں کی بھی تنقید کی گئی ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ رہنما خوف، تقسیم اور الزام بازی کا ماحول تشکیل دے رہے ہیں۔159 ممالک کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے والی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ اور یورپ میں تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ میں تنبیہ کی گئی کہ اگر یہی ماحول جاری رہا تو دنیا میں لوگوں پر نسل، صنف، قومیت، اور مذہب کی وجہ سے حملوں میں اضافہ ہوگا،رپورٹ میں کیے گئے جنوبی ایشیا کے جائزے کے مطابق خطے میں انسانی حقوق کی فراہمی میں پریشان کن تک کمی دیکھی گئی ۔ اس کی وجہ مختلف حکومتوں کی جانب سے قومی خودمختاری اور سکیورٹی کو وجہ بنا کر انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے کام کرنے کی گنجائش میں کمی کرنا اور ان کی آزادی کو تلف کرنے کے اقدامات ہیں۔رپورٹ میں بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانوی راج کے دور کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کرتے ہوئے آزادیِ اظہارِ رائے کو تلف کیا گیا اور حکومت کے ناقدین کی آواز کو دبایا گیا۔پاکستان کے حوالے سے رپورٹ کا کہنا تھا کہ صحافیوں اور بلاگرز کو حکومتی اور غیر حکومتی عناصر دونوں ہی سے اغوا، بے جا گرفتاریوں، اور ہراساں کیے جانے کے خطرات کا سامنا رہا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنرل سیکرٹری سلیل شیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے بجائے بہت سے رہنما سیاسی مقاصد کے لیے انسانی اقدار کے مخالف ایجنڈا سنبھالے ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ کیا قابلِ قبول ہے، اس کی حد بدلتی جا رہی ہے۔ سیاست دان بے شرمی سے لوگوں کی شناخت کی بنیاد پر نسل پرستی، صنف پرستی، اور ہم جنس پرستی کے مخالف نفرت انگیز بیان بازی اور پالیسیوں کو جائز بنا رہے ہیں۔