پاکستانی زبانوں کے فروغ کے لےے لینگوئج کمیشن ناگزیر ہے،قاسم بگھیو

22 فروری 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی)پاکستانی زبانوں کے فروغ کے لےے لینگوئج کمیشن آف پاکستان کا قیام ناگزیر ہے۔یہ بات ڈاکٹر قاسم بگھیو، چےئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت منعقدہ دو روزہ سمپوزیم کے دوسرے دن کے دوسرے سیشن میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کو کمیشن میں شامل کرنا چاہےے۔ کمیشن ان زبانوں کے معاملات کو ہر پہلو سے دیکھے۔ اس کمیشن کے ممبران کی تقرری 3سال کے لےے ہونی چاہےے اور اس کمیشن میں ماہرین لسانیات کے علاوہ سینٹ، صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران شامل رہیں گے۔ سلیم راز نے کہا کہ جو زبان معیشت سے جڑی ہوئی ہوگی وہی زبان پروان چڑھے گی، لہٰذا زبان کے فروغ کے لےے روزگار ضروری ہے۔ غازی علم الدین نے کہا کہ تمام پاکستانی زبانوں کے فروغ کے لےے اعلیٰ ادب کی تخلیق ضروری ہے۔ ڈاکٹر روو¿ف پاریکھ نے کہا کہ مادری زبانوں کے فروغ کے لےے مردم شماری میں لسانی سروے کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ ارشد محمود ناشاد نے کہا کہ پاکستانی زبانوں کے فروغ میں اردو زبان کا بڑا کردار ہے لہٰذا اردو زبان کی حیثیت کو بحال رکھنا چاہےے ۔م ر۔ شفق نے کہا کہ بچوں کو مادری زبانوں میں اپنی صلاحیت کے اظہار کا موقع دینا چاہیے۔ اشتہارات اور رسائل پاکستانی زبانوں میں دئےے جانے چاہےے۔ مسرت کلانچوی نے کہاکہ مادری زبانوں کے فروغ میں گھر اولین مدرسہ ہے ۔ محمد علی درانی نے کہا کہ تمام زبانوں میں لکھنے والوں کو پہلے اپنی زبان کے ساتھ انصاف کرکے اپنی زبان لکھنا چاہےے۔ ہزارگی زبان ایک الگ زبا ن ہے، اسے بھی دیگر زبانوں کی طرح قومی دھارے میں لانا چاہےے۔ واحد بزادار نے کہاکہ مادری زبانوں کے لےے اتھارٹی اور پشت پناہی کی ضرورت ہے۔ ا ن کو پرائمری سطح پر رائج کرنا چاہےے۔