گلوبلائزیشن‘ عسکری اور علاقائی تنازعات ترقی پذیر ممالک کیلئے بڑا خطرہ ہیں

22 فروری 2017

اسلام آباد(نامہ نگار)آج دُنےا کے کئی ماہرےن اقتصادےات گلوبلائزےشن کی مزاحمت کررہے ہےں اور تےسری دُنےاکے حوالے سے اُسے اےک وسےع اور منظم لوٹ کھسوٹ کے عمل کے طور پر دےکھ رہے ہےں جن کی پےداواری صلاحےت ، ان کی زمےن لےبر جنگلات اور ماہی گےری اب زےادہ تر چند اُمےر لوگوں کے فائدے سے مشروط ہے ،قائداعظم ےونےورسٹی کے انسٹیٹےوٹ آف پالےسی اسٹڈےز کی طرف سے منعقدہ اےک لےکچر مےں ممتاز ماہر معاشےات ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے ان خےالات کا اظہار کےا ، ےہ لےکچر ”بعنوان ترقی پذےرممالک کو درپےش چےلنجز اور ہمارا ردِعمل“ ”اےک ٹرانسفار منگ عالمی اقتصادی نظام مےں پاکستانی معےشت“ کے موضوع پر اےک لےکچر سےرےز کا حصہ تھا۔مختلف ماہرےن اقتصادےات کا حوالہ دےتے ہوئے ڈاکٹر شاہدہ کا کہنا تھا کہ گلوبلائزےشن، انٹرنےشنلائزےشن اور بےروزگاری کے مابےن اےک گہرے تعلق کا ثبوت موجود ہے۔ ان کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی بےروزگاری کی وجہ سے عالمی ، عدم مساوات کی شرح مےں اضافے کے ساتھ ساتھ ” عالمی امےر“ اور ” عالمی غرےب“ کے درمےان بھی خلےج بڑھی ہے۔ڈاکٹر وزارت نے افسوس کااظہار کےا کہ ٹرانس نےشنل کا رپورےشنز بجائے تےسری دُنےا کی حکومتوں کے، تےسری دُنےا کی ترقی کو نشانہ بنائے ہوئے ہےں، وہ حکومت جو اپنے شہرےوں کی ضرورےات کو پورا کرنے کےلئے غےر ملکی سرماےہ کاری کو خاطر مےں نہےں لاتےںاور اپنے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے والے عوامل کی روک تھام نہےں کرتےں۔ ڈاکٹر وزارت کے مطابق ترقی پذےر ممالک کو دوسرا سب سے بڑا چےلنج علاقائی تنازعات اور عسکرےت پسندی ہے۔ اےشےائ، افرےقہ ، مشرق وسطی وغےرہ کے ممالک فرقہ وارانہ ، نسلی اور نظرےاتی تنازعات مےں مصروف ہےں، ان تنازعات کا مشترکہ پہلوےہ ہے کہ ان کی آبادی مختلف ممالک مےں نسلی، فرقہ وارانہ اور نظرےاتی طور پر مختلف دھڑوں مےں تقسےم ہوگئی ہے۔ اُنہوں نے دعویٰ کےا کہ دُنےا کے تنازعات مےں اےک فےصد اضافے نے ترقی ےافتہ ممالک کی جی ڈی پی مےں7.7فےصد اضافہ کےاجبکہ ترقی پذےر ممالک مےں مذکورہ زوال کے باعث جی ڈی پی3.8فےصد ہے۔ لےکچر مےں طلباءاور فےکلٹی کی اےک بڑی تعداد نے شرکت کی۔