مل کر کام کرنا ہو گا‘ مشترکہ دشمن پاکستان اور افغانستان کو نقصان پہنچا رہا ہے: دفتر خارجہ

22 فروری 2017

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مشترکہ دشمن پاکستان اور افغانستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ دونوں کو احساس ہے اب مل کر کام کرنا ہو گا۔ دوسری جانب پاکستان نے نگورنو کاراباخ کے تنازعہ پر آذربائیجان کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا حکومت پاکستان نے نگورنو کاراباخ میں نام نہاد ریفرنڈم کے حولے سے کوئی مبصر وہاں نہیں بھیجا ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے ایک تنازعے کا حل آذربائیجان کی سرزمین کے اندر رہتے ہوئے تلاش کیا جائے جو یہ ہے کہ آذربائیجان کی مقبوضہ سرزمین سے آرمینیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مکمل طور پر واپس چلا جائے اور اس متنازعہ علاقے سے آرمینیا کی فوج کو واپس بلایا جائے۔ آئی ڈی پیز اور مہاجرین اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان آذربائیجان کے خلاف آرمینیا کی جارحیت کے حوالے سے او آئی سی کے رابطہ گروپ کا رکن ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندہ برائے افغانستان تادامچی یاماموٹو نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی جس میں افغانستان کی تازہ صورتحال اور وہاں پر امن و استحکام کی کوششوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ سیکرٹری جنرل کے نمائندے نے افغانستان میں امن و استحکام کے لئے اقوام متحدہ کے ویژن کے تحت بامعنی کوششوں سے آگاہ کیا۔ مشیر خارجہ نے کہا افغان تنازعہ کا پائیدار حل سیاسی بات چیت کے ذریعے نکالنا ضروری ہے۔ ملاقات میں افغان سربراہی و سرپرستی میں امن عمل کو جاری رکھنے کے حوالے سے تعمیری کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔ ادھر امریکہ اور افغان حکومتوں نے پاکستان کو اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں یقین دہانی کرادی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور ایسے تمام گروپس اور تنظیموں کے خلاف ’’انٹیلی جنس اطلاعات کی روشنی میں سخت آپریشن‘‘ کیا جائے گا جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کرانے میں ملوث ہیں۔ اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں کے بعد توقع ہے پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم ملاقاتیں جلد ہوں گی۔ پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیل وال نے کہا ہے کہ سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تعمیری اور مثبت مذاکرات ہوئے ہیں ،امید ہے کہ موجودہ کشیدگی میں کمی آئے گی اور ایک دوسرے کے خدشات کا جواب دینے کیلئے تعاون پر مبنی ایک مثبت ماحول پیدا ہوگا۔ میری پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سے مثبت ملاقاتیں ہوئی ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات مثبت اور تعمیر ی رہی۔علاوہ ازیں مشیر خارجہ سرتاج عزیز سیکرٹری پانی و بجلی اور سیکرٹری دفاع کے ساتھ سرکاری دورہ پر ایران پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے ایرانی وزیر دفاع حسین دیغان کے ساتھ ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے حکام بھی شریک ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق سرتاج عزیز تہران میں فلسطین پر چھٹی عالمی کانفرنس میں شرکت کرنے کے علاوہ دو طرفہ امور بھی نمٹائیں گے۔ آئی این پی کے مطابق ایران نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان سے فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کی خواہش ظاہر کردی ہے۔