دہشت گردی پانامہ سے بڑا مسئلہ‘ فوجی عدالتوں پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے: خورشید شاہ

22 فروری 2017

اسلام آباد(آئی این پی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے دہشت گردی کی حالیہ لہر اور فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے دہشت گردی پانامہ سے بڑا مسئلہ ہے، لیکن اس پر اتنی توجہ نہیں دی جا رہی، حکومت فوجی عدالتوں کے 2برسوں میں سول عدالتوں میں اصلاحات لانے کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی، فوجی عدالتیں بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں، اب پھر توسیع دی گئی تو کیا گارنٹی ہے کہ مقاصد حاصل کر لئے جائیں گے، دہشت گردی کو ملکی و خطے کے تناظر میں نہیں بلکہ عالمی تناظر میں دیکھنا ہو گا، دہشت گردی کے خلاف سرحد پار جاکر حملے درست نہیں،دوسرے ممالک کی حدود کا احترام لازم ہے، سفارتی ذرائع کو استعمال میں لانا چاہیے یہ دفتر خارجہ کا کام ہے کہ وہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کو بتائے پڑوسی ملک سے مداخلت کی جا رہی ہے ، پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر تشویشناک ہے ،ایسے کون سے عوامل ہیں کہ 13/14برسوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتا ہے ،جو وعدے اے پی سی میں کیے گئے وہ پورے نہیں ہوئے،دہشت گردی کے واقعات سے فوج اور سیاستدانوں پر دبائو بڑھ رہا ہے، پیپلز پارٹی نے تمام تر مخالفت کے باوجود ملٹری کورٹس کے قیام کے لیے دیگر جماعتوں کو راضی کیا ،ہمارے اوپر شدید تنقید کی گئی اس کے باوجود ہم نے یہ کڑوا گھونٹ اس لیے بھرا کہ بہتری کی امید تھی تاہم دیکھا جائے کیا وہ مقاصد حاصل ہوئے ؟نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی کئی بار کہہ چکے ہیں عمل درآمد نہیں ہو رہا جبکہ وزیر اعظم نے بھی تسلیم کیا کہ جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا ،ہمارا مطالبہ ہے کہ ان حالات میں فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔سید خورشید شاہ نے کہا دہشت گردی کا اصل مرکز پنجاب میں ہے ، تاہم پنجاب میں رینجرز کو ابھی تک اختیارات نہیں ملے،لگتا ہے ،رینجرز کے معاملے پر پنجاب حکومت پھر بیک فٹ پر چلی گئی ہے، اب وزیر ٹی وی پر بیٹھ کر اس حوالے سے بیان نہیں دے رہا، سندھ میں رینجرز اختیارات میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری ہونے میں ایک دن کی بھی تاخیر ہو تو تنقید شروع کر دیتے تھے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...