سینٹ قائمہ کمیٹی: پاکستان کیخلاف سرزمین کے استعمال پر افغانستان کیخلاف مذمتی قرارداد

22 فروری 2017

اسلام آباد (آ ئی این پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ملک میں حالیہ دہشتگردی کی لہر اور بم دھماکوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دو مذمتی قراردادیں بھی منظور کیں جن میں کہا گیا ہے کمیٹی جماعت الاحرار کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے پر افغانستان کی مجرمانہ تعاون کی شدید مذمت کرتی ہے حکومت پاکستان معاملہ کو اقوام متحدہ کے ساتھ اٹھائے اور مطالبہ کرے افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کیمپوں کا صفایا کیا جائے، پاک فوج کی جانب سے جماعت الاحرار کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کی مکمل توثیق کی گئی اور یہ تجویز دی گئی پاکستان اور افغانستان دہشتگردی کیخلاف ملکر اقدامات کریں اور افغانستان دونوں ممالک کے درمیان دستخط شدہ بارڈر کنٹرول مینجمنٹ معاہدہ کی پاسداری کرے، کمیٹی لاہور پارا چنار سیہون شریف، خیبر پی کے، بلوچستان و فاٹا سمیت ملک بھر میں حالیہ دہشت گردی کے نتیجہ میں دھماکوں کی مذمت کرتی ہے اور شہدا کے خاندانوں کے سا تھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے، حکومت پاکستان دہشتگردوں کیخلاف سخت اقدامات کرے اور دہشت گردی میں ملوث مجرموں کی گرفتاری کو یقینی بنائے۔ کمیٹی نے نادرا حکام سے ایک ہفتے میں بلاک کئے گئے شناختی کار ڈ کی تٖفصیل کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین رحمان ملک کے زیرصدارت ہوا۔ اجلاس میں بم دھماکوں میں شہید ہونے والے افراد کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ رحمان ملک نے کہا افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ دونوں ملکوں کو ماضی کے معاہدوں پر عمل کرنا ہوگا۔ سینٹر شاہی سید نے کہا کہ کرپشن ہمارے لئے ایک ناسور ہے۔ نادرا نے افغانیوں کے شناختی کارڈ بھی بنائے۔ پشتو بولنے والوں کو سپیشل برانچ والوں کے پاس بھیجا جاتا ہے۔ ساٹھ ستر ہزار روپے میں نادرا اور سپشل برانچ والے دستاویزات جاری کر دیتے ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کے پی کے کے کئی لوگوں کے شناختی کارڈز بلاک ہیں۔ نادرا حکام ایک ہفتے میں رپورٹ دیں۔ سینٹر جہانزیب جمال دینی نے کہاکہ جتنی سختی کرنی ہے کریں۔ جو ٹھیک ہیں ان کو نہ تنگ کیا جائے۔ رحمان ملک نے کہا قبائلی علاقوں کے لوگوں کے مسائل ہیں۔ مردم شماری میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا جائے۔ ڈی جی نادرا نے کمیٹی کو آ گا ہ کیا بلاک شناختی کارڈ کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بن چکی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس کل ہو گا جس میں لائحہ عمل بنایا جائے گا۔ موٹر وہیکل آرڈیننس ترمیمی بل ایم کیو ایم کے سینٹر عتیق خان نے پیش کیا۔ میا ں عتیق نے کہا اس بل کا مقصد ڈرائیوروں کی ٹریننگ کرانا بھی مقصود ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ زیادہ تر ڈرائیور ان پڑھ ہیں۔ سرکاری ڈرائیور کے لئے انڈر میڑک کا معیار مقرر ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور کے لئے کوئی معیار نہیں۔ ٹریفک قوانین کے حوالے سے تمام صوبوں سے مشاورت کی جائے۔ کمیٹی برائے داخلہ نے دو قرارداد یںمنظور کی۔ مذمتی قرارداد چیئرمین کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے پیش کی۔ چیئرمین رحمان ملک نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لئے بجٹ کے اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ رحمان ملک نے کہا کسی دہشت گرد کے بارے میں قبل از وقت خبر میڈیا کو نہ دی جائے۔ بھارت کے حوالے سے ویزا پالیسی کی تفصیلات کمیٹی کو پیش کی جائیں۔