قائمہ کمیٹی خزانہ نے مردم شماری کے طریقہ کار، نتائج جاری کرنے پر سوالات کھڑے کردئیے

22 فروری 2017

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ارکان نے مردم شماری کے طریقہ کار، جغرافیائی حدود، شناختی کارڈ کی شرط، نتائج جاری کرنے پر سوالات کھڑے کر دیئے۔ چیف شماریات آصف باجوہ کے مطابق موجودہ صورتحال میں مردم شماری کے عمل میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔ کمیٹی اجلاس میں پاکستانیوں کی دبئی میں سرمایہ کاری سے متعلق بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنانے پر اسد عمر نے احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا میں نے دبئی میں پراپرٹیز سے متعلق سات سوالات اٹھائے تھے جو ایف بی آر، ایف آئی اے اور نیب سے متعلق تھے ان کو گزشتہ اجلاس کے منٹس کا حصہ نہیں بتایا گیا، اجلاس کے دوران اسد عمر اور میاں عبدالمنان میں نوک جھونک ہوئی، ممبر ایف بی آر سیرت نے آڈٹ پالیسی کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے بتایا کوئی کمیٹی جتنی آمدن دکھا رہی ہے اور اتنے ہی اخراجات کر رہی ہے تو ایسی کمیٹی کیوں چلائی جا رہی ہے جس پر اسد عمر بولے جس طرح حدیبہ مل نقصان دکھائے جاری ہے لیکن پھر بھی چل رہی ہے، اس مل کا بھی آڈٹ ہونا چاہئے، جس پر میاں عبدالمنان نے کہا پاکستان میں ایسے افراد بھی ہیں جو شہزادوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں، لیکن ٹیکس صرف 76ہزار دیتے ہیں ان کی تفصیلات بھی سامنے آنی چاہئے، اپوزیشن جماعتوں نے پراپرٹی ویلیولیشن کے حوالے سے ذیلی کمیٹی کی سفارشات مسترد کردیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت ہوا۔ پاکستان بیورو شماریات کے چیف آصف باجوہ نے کہا مردم شماری کا عمل 15مارچ سے شروع ہوجائے گا اور 60دن کے اندر اس مرحلے کو مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا آئندہ الیکشن کی حلقہ بندیاں نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گی۔ ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے کہا مردم شماری کے حوالے سے23 سوالات پی بی ایس کو دیئے، ان کے جواب چاہئیں۔ سب افراد کے پاس شناختی کارڈ نہیں ہیں پھر کس طرح شمار کنندگان کو لکھے گا جبکہ مردم شماری کے نتائج وفاق جاری کرے گا، اس کو صوبوں کو جاری کرنا چاہئے، مردم شماری مرحلہ وار ہونی چاہئے اور اس میں اوورسیز پاکستانیوں کو بھی شامل کیا جائے۔ آصف باجوہ نے کہا مردم شماری کے عمل میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں جس پر ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی نے کہا مردم شماری کے طریقہ کار میں مزید بہتری کیلئے نادرا اور عسکری حکام کو بھی بلایا جائے۔ نوید قمر نے کہا پارلیمانی کمیٹی کا کام ملک میں جائیداد کی قیمتیں مقرر کرنا نہیں۔