98 کروڑ کی کرپشن میں ملوث ڈاکٹر کو اعلیٰ عہدے پر لگا دیا گیا: پبلک اکائونٹس کمیٹی میں انکشاف

22 فروری 2017

اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی میں سینیٹر اعظم خان سواتی نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں 98کروڑ روپے کی کرپشن میں ملوث سینٹر فار مولیکیولر بیالوجی کے سربراہ ڈاکٹر ریاض الدین کو پمز ہسپتال میں اعلیٰ عہدہ پر تعینات کر دیا گیا، اتنی بڑی کرپشن میں ملوث شخص کو مزید کرپشن کرنے کا موقع دیا گیا ہے، عوام کا پیسہ کدھر گیا کوئی پوچھنے والا نہیں، کیا ملک کو ایسے چلایا جاتا ہے، 55کروڑ کی ریکوری کی تھی مزید رقم کہاں گئی آگاہ کیا جائے، پبلک اکائونٹس کمیٹی نے معاملے پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی سے ایک ہفتے میں انکوائری رپورٹ طلب کر لی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ کافی مشہور معاملہ ہے، اس کیس کی موجودہ صورتحال سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے، پبلک اکائونٹس کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کیلئے سکالر شپس میں کمی کے معاملہ پر وزارت بین الصوبائی رابطہ سے جواب طلب کر لیا جبکہ انٹر بورڈ کمیٹی کے اکاؤنٹ نیشنل بنک میں کھولنے کی ہدایت کر دی گئی، پی اے سی اجلاس میں تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان بالا کے5 ممبران نے بھی بطور ممبر شرکت کی ، اس سے قبل صرف بھارت اور آسٹریلیا میں پبلک اکائونٹس کمیٹی میں دونوں ایوانوں کی نمائندگی تھی ۔پبلک اکائونٹس کمیٹی کی تنظیم نو کے بعد پہلا اجلاس منگل کو چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں ممبران کمیٹی سید نوید قمر، جنید انوار چوہدری، جاوید اخلاص ، عذرا فضل پلیجو، شاہدہ اختر، سردار عاشق گوپانگ، عارف علوی، رانا افضل،پرویز ملک، نذیر سیال، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر ہدایت اللہ، سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیٹر چوہدری تنویر اور سینیٹر اعظم خان سواتی اور آڈٹ سمیت متعلقہ وزارتوں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کے مالی سال 2012-13اور 2013-14،وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 2012-13،وزارت غذائی تحفظ و تحقیق کے مالی سال 2012-13اور 2013-14کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔وزارت بین الصوبائی کے اعتراضات کے جائزے کے دوران آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سال 2012-13 میں مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کی اسکالر شپس کیلئے رقم کی کٹوتی کی گئی۔ پی اے سی نے اسکالر شپس کیلئے بجٹ میں کٹوتی پر تشویش کا اظہار کیا۔رکن کمیٹی سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ کشمیر کاز کی بات کرنے والی حکومت تھوڑی سی رقم خرچ کیوں نہیں کر سکتی۔ سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اسوقت مقبوضہ کشمیر کے 800 طلبا پاکستان میں زیر تعلیم ہیں۔ وزارت خزانہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے مذکورہ عرصہ میں ہر وزارت کے بجٹ میں 20 فیصد کٹوتی کی تھی۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اسکالر شپس میں کمی کے معاملہ پر وزارت سے جواب طلب کر لیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ وزارت کے ماتحت ادارے انٹر بورڈ کمیٹی نے 27 کروڑ 30 لاکھ روپے سرکاری اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائے، یہ رقم کمرشل بینکوں میں خلاف قواعد رکھی گئی۔وزارت بین الصوبائی رابطہ حکام نے بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، پندرہ دن میں رپورٹ آجائے گی۔ سینیٹر شیری رحمان نے سوال کیا کہ آئی بی سی سی کے پیسے نجی بنک میں رکھنے کا فیصلہ کس نے کیا؟ ۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیسے نجی بنک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھنے میں کسی کے ذاتی مفادات کا شک نظر آتا ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ جب تک سزا اور جزا کا نظام وضع نہیں ہوگا اندورنی بدعنوانی ختم نہیں ہو گی۔ وزارت بین الصوبائی رانطہ حکام نے کہا کہ آڈٹ کی نشاندہی کے باوجود ذیلی ادارے قواعد و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتے۔ پی اے سی کمیٹی نے آئی بی سی سی کے اکاؤنٹ نیشنل بنک میں کھولنے اور بیس دن میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔