وزیراعلیٰ نے ہائوسنگ اربن ڈویلپمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے نام سے 2 محکمے بنانے کا حکم دیدیا

22 فروری 2017

لاہور (معین اظہر سے) وزیر اعلی پنجاب نے ہائوسنگ اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو دو محکموں میں تقسیم کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں جس کے بعد پنجاب کے تمام ترقیاتی ادارے ہائوسنگ اربن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور واسا پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت چلے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے دونوں محکموں کا سٹرکچر بنانے کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے سربراہ سیکرٹری ہائوسنگ ہیں۔ تاہم ہائوسنگ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ماہرین کے مطابق محکمے بنانے اور نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، کروڑوں روپے خرچ ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے چیف سیکرٹری پنجاب کو احکامات جاری کئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہائوسنگ کا شعبہ چند برسوں میں اہم ہو گیا ہے جبکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ جس کا کام صاف پانی کی فراہمی، سیوریج سکیموں کا ہے وقت کے ساتھ ان کاموں نے اہم حیثیت حاصل کر لی ہے کیونکہ پنجاب کی 35 فیصد آبادی اس وقت شہروں میں رہ رہی ہے۔ اسلئے ہائوسنگ کا شعبہ اہم ہوگیا ہے اس کے لئے علیحدہ محکمہ بنانے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے شعبہ سے انسانی صحت جڑی ہوئی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سیویج اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر طریقہ سے چلایا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے خط میں کہا ہے ماضی میں محکمہ صحت اور تعلیم کے محکموں کو علیحدہ کرنے سے بہت بہتر نتائج سامنے آئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات پر بنائی کمیٹی پندرہ روز کے اندر رپورٹ پیش کرے گی کہ دو محکمے کس طرح بنائے جائیں گے۔ کمیٹی کے ممبران میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پی اینڈ ڈی اور ڈی جی ایل ڈی اے شامل ہیں۔ دو محکموں کے نئے نام یہ ہونگے ہائوسنگ اربن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ۔ کمیٹی کے ممبران میں سے کوئی افسر بھی ٹیکنیکل نہیں، اس فیلڈ کے ماہرین نے کہا ٹیکنیکل شعبہ جات ہیں دو محکمے بناکرپاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس یا پی سی ایس افسران کو لگا دیں گے مزید 100 سے زیادہ پوسٹیں دونوں محکموں میں قائم کی جائیں گی اس کا فائدہ عوام کو کچھ نہیں ہو گا جبکہ خزانے پر بوجھ پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق واسا کی کارکردگی بہتر کرنے کے لئے ضروری ہے ان کے اپنے گورننگ بورڈ بنائے جائیں جن میں ماہرین شامل ہوں۔ اس کے ساتھ جس جگہ پر کمزویارں ہیں ان کی نشاندہی کی جائے اور ٹیکنکل سٹاف کو اس محکمے میں بڑھایا جائے۔