پروفیسر ساجد میر نے حالیہ دہشت گردی کے تناظر میں امن فارمولہ پیش کردیا

22 فروری 2017

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کے تناظر میں 7 نکاتی امن فارمولہ پیش کردیا ہے۔ مرکزی کابینہ و مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری اعلامیہ کی پہلی شق میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔ لیکن ان دونوں کے اس سلسلہ میں باہمی رابطہ اور تعاون کو بڑھانے کی بڑی گنجائش اور ضرورت موجود ہے جسے پورا کرنا چاہیے۔ مختلف حکومتی اداروں میں کو آرڈینیشن باہمی تعاون اور معلومات کے تبادلے کا باقاعدہ اور مستقل انتظام ہونا چاہیے۔ نیکٹا کو صحیح معنوں میں فعال اور متحرک کرنے کی راہ میں حائل انتظامی اور مالی رکاوٹیں اور مشکلات فوری طور پر دور کی جائیں۔نیشنل ایکشن پلان کا زور اور رخ زیادہ تر دینی مدارس اور علماء پر رہا ہے اس رخ کو دہشت گردوں اور دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والوں کی طرف موڑا جائے۔انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے اور باقاعدہ مانیٹر کیا جائے۔ تمام معروف اور موثر سیاسی اور دینی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس فوری طور پر بلائی جائے اور تمام جماعتوں کو ایک ضابطہ اخلاق کا پابند کیا جائے۔ جس کے مطابق وہ خدا نخواستہ دہشت گردی کے کسی بڑے واقعہ کے بعد مایوسی پھیلانے والے بیانات اور حکومت یا اداروں کی ناکامی کا رونا رونے کی بجائے قوم کو حوصلہ دیں اور مثبت انداز میں حکومت اور اداروں کو دہشت گردی روکنے کے لیے مثبت انداز میں توجہ دلائیں۔ امن فارمولہ کے آخری نکتہ میں انہوں نے اسی طرح دہشت گردی کے حوالہ سے ایک قومی بیانیہ تمام اہم جماعتوں کے اتفاق رائے سے بنانا اور جاری کرنا بہت ضروری ہے۔ اجلاس میں مرکزی ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم،سینئر نائب امیر مولانا علی محمد ابوتراب ،حاجی عبدالرزاق ، مولانا محمد نعیم بٹ ، ڈاکٹر محمد حماد لکھوی، رانا خلیق خاں پسروری ، مولانا عمران عریف، مولانا عرفان اللہ ثنائی، میاں محمود عباس ،مولانا عبدالباسط شیخوپوری قاضی ریاض قدیر، حافظ شاہد امین،مولاناشیخ عتیق الرحمن ،فیصل افضل شیخ، علامہ ابراہیم طارق مولانا صادق عتیق ، مولانا طیب معاذ، ملک محمد سلیمان سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...