مادری زبان نصاب میں شامل، سکیورٹی کمپنیوں کی جانچ پڑتال کی جائے : پنجاب اسمبلی میں قراردادیں

22 فروری 2017

لاہور ( این این آئی) اپوزیشن نے مادری زبان کو نصاب میں شامل کرنے اور سکیورٹی کمپنیوں کی سخت پڑتال کے لئے دو قرار دادیں اور ادویات کی تیاری کے دوران غیر معیاری اجزاء کا استعمال ہونے کے حوالے سے تحریک التوائے کار پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروادی۔اپوزیشن ارکان مخدوم سید مرتضیٰ محمود ، سردار وقاص حسن موکل ، چودھری عامر سلطانہ چیمہ ، خدیجہ عمر ، نبیلہ حاکم علی خان ، احمد خان بھچر ، محمد سبطین خان کی طرف سے جمع کروائی گئی مشترکہ قرار داد کے متن میں کہا گیا سکولوں میں مادری زبان کے فروغ کیلئے تمام سکول کو پابند کیا جائے کہ پنجابی لازمی مضمون قرار دے کر طلبہ و طالبات کو پنجابی پڑھائی جائے تاکہ نئی نسل کو مادری زبان پر عبور حاصل ہو سکے۔نبیلہ حاکم علی نے قرار داد میں موقف اختیار کیا مادری زبان تعلیم و تربیت میں بنیادی اور کلیدی کردار کی حامل ہے۔صوبے میں مادری زبانوں کے فروغ کیلئے حکومت اقدامات اٹھائے۔ دوسری قرار داد رکن اسمبلی مخدوم سید مرتضیٰ محمود کی طرف سے جمع کروائی گئی جس میں کہا گیا صوبہ بھر میں مختلف ناموں سے قائم بہت سی سکیورٹی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں سے بیشتر کمپنیوں میں کام کرنے والے بیشتر سکیورٹی اہلکار اسلحہ چلانا تک نہیں جانتے ، غیر تربیت یافتہ لوگوں کو گارڈ بنا کر سکولوں ، کالجوں میں سکیورٹی پر تعینات کرنا نہایت ہی خطرناک ہے لہٰذا مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام ایسی کمپنیوں کی سخت پڑتال کی جائے اور نا اہل عملہ رکھنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں ۔ تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹر مراد راس نے ایک تحریک التوائے کار جمع کروا ئی جس میں کہا گیا نجی اخبار کی خبر کے مطابق ملک بھر میں جان بچانے والی ادویات سمیت دیگر بیماریوں سے بچائو کے لئے استعمال ہونے والی ادویات کی تیاری کے دوران غیر معیاری اجزاء کا استعمال ہونے کا خوفناک انکشاف ہوا ہے۔ ملک کی نامور فارماسوٹیکل کی 67 بڑی کمپنیوں کی تیار ہونے والی مختلف ادویات کا رزلٹ غیر معیاری ثابت ہونے کے باوجود پرویژنل کوالٹی کنٹرول بورڈ اور ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی بااثر مافیا کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔