ملک میں دہشت گردی کی تازہ لہر

22 فروری 2017

مکرمی! محض چند دنوں میں آٹھ دہشت گردی کے واقعات میں سینکڑوں قیمتی جانوں کے ضیاع کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لاہور، کوئٹہ، پشاور، مہمند ایجنسی اور سہون شریف دربار پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پاکستان کے امن و امان کی صورتحال پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ حالیہ وارداتوں نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو ئی۔ ہمیں اس کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاشبہ ماضی میں بہت بڑے دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنانے میں اہم کر دار ادا کرتے رہے ہیں۔ مگر حالیہ واقعات سے ٖصرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چیلنج ہے جسے نہ صرف قبول کرنا ہے بلکہ اس میں کامیاب بھی ہو نا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈپیس نے دنیا کے 158ممالک کے اعدادوشمار اکھٹے کئے جن میںانکشاف کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات ،ہلاکتیں،زخمی اور متاثر ہ جائیدادوں کی تعد اد کو مد نظر رکھتے ہوئے 158ممالک میں سے 31 ممالک ایسے ہیں جہاں گزشتہ دس برسوں میں دہشت گردی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ بد قسمیتی سے پاکستان متواتر کئی دہایئوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ (محمد عمران الحق، لاہور)

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...