مسیحا، مسیحائی کی لاج کب رکھیں گے؟

22 فروری 2017

گزشتہ دنوں اپنے آبائی گھر کے محلے شام نگر چوبرجی لاہور میں ہمسائے تبسم منیر جو سوئی گیس کے محکمے میں آڈٹ ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے ‘گزشتہ دنوں انتقال کر گئے انکے گھر تعزیت کیلئے جانے کا اتفاق ہوا۔ علاقے کی حالت کافی خستہ معلوم ہوئی‘ ایک وقت تھا 1977ء کے لگ بھگ اس علاقے کے رہائشی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ علاقے کی شان بان ہی نرالی تھی۔ آج وہاں چھوٹے چھوٹے اور بوسیدہ پرانے گھروں کی بہتات ہے۔ نا تو پہلے جیسا سکون نظر آیا اور نہ پہلے جیسی صفائی۔ تبسم بھائی کی مسز جوکہ صدمے سے نڈھال تھیں یہ بتاتے ہوئے زار وقطار رونے لگیں کہ ہسپتال جہاں ہم تیرہ دن رہے اس دوران عملے اور ڈاکٹرز کا رویہ جو ہمارے ساتھ تھا اسے ہم کسی لمحے نہیں بھول سکتے۔ تبسم کی وفات سے پہلے ہی ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا سٹاف‘ عملہ اور ڈاکٹرز یہ چاہ رہے ہوں کہ جلد ازجلد میرے شوہر کی روح اس دارفانی سے کوچ کرے اور انکی جان چھوٹے۔ ڈاکٹرز تو مسیحا ہوتے ہیں، کیا مسیحا ایسے ہوتے ہیں؟ ہم تو اپروچ والے تھے‘ تبسم کے کزن اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں جن کا کوئی نہیں عام لوگوں کا کیسا حال ہوتا ہوگا جب ڈاکٹرز میڈیکل کی تعلیم لے رہے ہوتے ہیں تو اس دوران حکومت کو چاہیے کہ ایک کلاس انکے سلیبس میں اخلاقیات کے بارے میں بھی شامل کرے ۔ لیکن کئی ڈاکٹرز ایسے بھی ہیں جن کا مقصد حیات ہی دکھی انسانیت کی خدمت ہے اور وہ آخرت میں تو صلہ پائیں گے ہی انکی دنیا بھی سنوری ہوئی ہے۔ (تہمینہ شیر درانی۔ لاہور)