یہ ایجنڈا کس کا ہے؟

22 فروری 2017

چاروں صوبوں میں دہشتگردی کے پے در پے واقعات سے اس شبہے کو تقویت ملی ہے کہ دہشتگرد ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اُن کا نیٹ ورک ملک بھر میں موجود ہے جسکے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے جُڑے ہوئے ہیں۔ بھارت کی تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ہمارا ازلی دشمن ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے سے لیکر اب تک اُس نے اِسکے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا جبکہ افغانستان کے بارے میں یہ رائے قائم کرتے ہوئے ہمیں یہ انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ ہمارا ہمسایہ ہی نہیں، برادر اسلامی ملک بھی ہے جس سے ہمارے زیادہ بہتر نہیں تو اچھے تعلقات ضرور رہے ہیں اِن سے ’’اچھے تعلقات‘‘ کے پیچھے بہت سی وجوہات موجود ہیں پہلی وجہ تو ہم دونوں ملکوں کی جغرافیائی اور مذہبی مشترکہ سرحدیں ہیں ہم دونوں ممالک کے لوگ ایک قرآن، ایک رسولؐ، اور ایک اللہ کے ماننے والے ہیں اسکے باوجود پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کابل حکومت کا ملوث ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ افغانستان مشترکہ ثقافتی ورثہ رکھنے کے باوجود کسی اور کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے یہ ایجنڈا کس کا ہو سکتا ہے، یہ بات بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی پچھلے کئی ادوار سے انڈیا کے ساتھ کابل حکومت کے بڑے اچھے مراسم ہیں ان مراسم کی نوعیت اگرچہ تجارتی ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین ہونیوالی تجارت کے عوض انڈیا کو کابل حکومت سے یہ رعایت بھی چاہیے تھی کہ وہ پاکستان میں ہونیوالی دہشتگردی کی مذموم سرگرمیوں کو مقامی دہشتگرد تنظیموں کے ذریعے اور ہوا دے تاکہ پاکستان عدمِ استحکام کا شکار ہو کر ترقی کی راہ سے بھٹک جائے اور خِطّے میں صرف بھارت ہی ایک طاقتور ملک کے طور پر موجود رہے ہو سکتا ہے اس مذموم سازش میں بھارت کے ساتھ کچھ اور غیر ملکی طاقتیں بھی درپردہ موجود ہوں لیکن ہمیں ان سب سے ہٹ کر یہ دیکھنا ہے کہ ملک میں پچھلے چند دنوں میں دہشتگردی کے جو مسلسل واقعات ہوئے اور اُنکے ذریعے عدمِ استحکام کی جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اُس پر کیونکر قابو پایا جا سکتا ہے۔حکومت اور فوج نے دہشتگردی کے واقعات پر کافی حد تک قابو پالیا تھا جس میں پاک فوج کا کلیدی کردار تھا۔ یہ اہم کردار ادا کرنے کیلئے فوج اب بھی تیار اور مستعد ہے لیکن انٹیلی جنس شیئرنگ کے بغیر ممکن ہی نہیں کہ دہشتگردوں کے اُس منظم نیٹ ورک کو توڑا جا سکے جو پچھلے کئی برسوں سے پاکستان میں سرگرمِ عمل ہے اور جسے مقامی سطح پر بھی کئی باغی اور ناپسندیدہ افراد کی مکمل تائید وحمایت اور مدد حاصل ہے۔ بلوچستان میں بلوچ باغی اور دیگر صوبوں میں بعض جہادی اور خفیہ عسکری ونگ غیر ملکی فنڈنگ پر اپنا جال پھیلائے ہوئے ہیں انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنی مذموم کارروائیوں سے باز نہیں آتے۔مال روڈ لاہور اور سیہون شریف دربار کے واقعات دل ہلا دینے والے تھے، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں سینکڑوں لوگ اب بھی زخمی حالت میں ملک کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اطلاعات کے مطابق لاہور خودکش دھماکے کے سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا چکا ہے۔ پولیس اُن تک پہنچ گئی ہے اور کئی سہولت کار گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔ جن سے ابتدائی تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ خودکش بمبار افغانستان کا تربیت یافتہ تھا یہ گرفتار ملزمان افغانستان میں اپنے لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ مال روڈ واقعہ کے خودکش بمبار کی جو وڈیو منظرِ عام پر آ ئی ہے اُس میں اُسکے ساتھ ایک سہولت کار کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور اب کوئی شبہ ہی نہیں رہ جاتا کہ گرفتار ہونے والا سہولت کار واقعتاً خودکش بمبار کا ساتھی تھا جو واقعہ والے دن اُسکے ساتھ موجود تھا اور دھماکہ سے چند منٹ پہلے اُس سے الگ ہوا۔سوال بہت سے ہیں جب اس قسم کے ’’واقعات‘‘ ہوتے ہیں تو سوال اٹھتے ہی ہیں لیکن اہم سوال یہی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے لوگ ایک ہفتے کے دوران رونما ہونے والے ان واقعات سے شدید خوفزدہ اور ہراساں ہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ نمازِ جمعہ کے دوران بڑی مساجد میں نمازیوں نے خوف کی حالت میں نماز پڑھی دیگر عام پبلک مقامات پر بھی اس قسم کی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ریلوے اسٹیشن، لاری اڈے، مارکیٹیں اور بازار، اب واقعی غیر محفوظ ہیں کیا یہاں جانا اپنی موت کو دعوت دینا ہے؟ اس پر حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو بڑی سرگرمی دکھانا ہو گی ورنہ دہشتگردکسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ انٹیلی جنس شیئرنگ پر ہمیشہ زور دیا گیا ہے لیکن عملی طور پر شاید اس پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
موجودہ دہشتگردی کی لہر کی ایک بڑی وجہ ’’سی پیک‘‘ منصوبہ بھی ہے جو بھارت اور امریکہ کو بُری طرح کھٹک رہا ہے۔ دہشتگردی کے ان واقعات سے عدمِ استحکام پیدا کر کے ہی یہ ممالک اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہر حربہ اور جتن آزمائیں گے اور ہماری کوشش پہلے کی طرح یہی ہونی چاہیے کہ ہم اُنکے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیں۔

ایجنڈا سیٹرز

2018ء میں جب ایک ایسا دور گذر رہاہے جس میں معلومات کے متنوع ذرائع نے سیلاب کی سی ...