نہتے زخمی فلسطینی کے قاتل اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید

22 فروری 2017

مقبوضہ بیت المقدس/ ملتان (بی بی سی+ صباح نیوز+ اے ایف پی) ایک زخمی فلسطینی کو شہید کرنے کے جرم میں ایک اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس اسرائیلی فوجی کے معاملے میں ملک بھر میں رائے منقسم ہے۔ سارجنٹ ایلور اذاریا کو گذشتہ برس مارچ میں مقبوضہ غرب اردن میں 21 سالہ نوجوان عبدالفتح الشریف کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اذاریا نے فلسطینی کو گولی مارنے سے پہلے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ایک دوسرے اسرائیلی فوجی کو چاقو مارنے والا عبدالفتح ’مارے جانے کا مستحق ہے۔ فلسطینی نوجوان عبدالفتح الشریف کے خاندان نے اذاریا کے لیے عمر قید کے سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار جانی ڈیمنڈ کے مطابق اذاریا کے عہدے میں کمی کرنے کا بھی حکم دیا گیا تاہم جس وقت سزا سنائی جا رہی تھی تو وہ مسکرا رہے تھے۔ جج مایا ہیلر نے کہا کہ ان کے جرم کی شدت اس وجہ سے کم ہو گئی تھی کہ یہ ان کا پہلا جرم تھا، اور یہ کہ انہیں اس بارے میں واضح ہدایات نہیں دی گئی تھیں کہ انھیں ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے 100 مظاہرین تل ابیب میں وزراتِ دفاع کے ہیڈ کوارٹر کے باہر جمع تھے جہاں فوجی عدالت میں اس مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اس واقعے کی موبائل فوٹیج بڑے پیمانے پر اسرائیلی نیوز پروگرامز میں دکھائی گئی۔ اس ویڈیو میں اذرایا کو زخمی عبدالفتح کے سر پر گولیاں مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اذرایا کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا تھا کہ انھیں اس خوف میں گولی چلانی پڑی کہ کہیں عبدالفتح نے دھماکہ خیز جیکٹ نہ پہنی ہو۔ دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء نے ایلور کو معافی کا مطالبہ کر دیا۔ ایلور کی سزا 5 مارچ سے شروع ہو گی۔