خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ ’’اب کے مارکے دیکھ ‘‘

22 فروری 2017

افغانستان میں بھارت کے بنائے گئے چودہ قونصل خانوں نے پوری آب و تاب سے کام شروع کردیا ہے ، پاکستان سے بھاگے ہوئے ہردہشت گرد ،افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہردہشت گرد کی مہمان نوازی کیلئے قائم کئے گئے قونصل خانے پاکستان میں موجود اپنے سہولت کاروں کے ذریعے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے امن پسند لوگوں کی طرف اپنی نفرت انگیز نگاہیں گاڑھے ہوئے ہوئے ، اسے ــ’’ ایک مرتبہ پھر ‘‘ نہیں کہنا چاہئے یہ کام تو انہوں نے جاری رکھاہے ، عالمی ادارے ، اور دہشت گردی کے خلاف صبح اور شام بولنے والے ممالک پاکستان کے اندر بیرونی ایجنٹو ں کی طرف سے کاروائیوں پر خاموش ہیں جبکہ وہ اپنے ہاں تو ایک انسانی موت پر پہلے کسی مسلمان اور پھر پاکستانی پر الزام عائد کرتے ہیں یہ سب وہ بغیر کسی تحقیق کے کرتے ہیں اسطرح وہ پاکستان کو ہر محاظ پر رسواء کرنے کے درپے ہیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے ’ رضیہ غنڈوں میں پھنسی ہے ــ‘‘ کی مثال بناہوا ہے ، کچھ ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کی دیگر اہم ممالک جن سے پڑوسی کی نہیں بنتی وہ ناراض رہتے ہیں، ہندوستا ن تو ہے ہی 1947 ء سے پاکستان کا دشمن ، کئی جنگیں چھیڑ چکا ہے ، پاکستان کو نقصان پہنچانے اور رسوا کرنے کا کوئی موقع ضائع کرنے کو تیا ر نہیں ۔ جبکہ ہماری سیاسی قیادت بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی کہ بھارت سے اپنی پینگیں ، اور قربت کو بڑھائیں عوام کیلئے جواب یہ ہوتا ہے کہ ’’ ہم امن پسند قوم ہیں ‘‘ اس میں کوئی شک نہیں جبکہ ’ امن پسندی ‘ ایک علیحدہ چیز اور امن پسندی کی قیمت پر اپنی نظریاتی سرحدوں کو نقصان پہنچوانا ایک علیحدہ بات ۔ ہم سے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ عسکری قیادت اور سیاسی قیادت ’ ایک صفحے پرہیں ‘‘ مگر افسوس یہ کہ یہ تو ایک کتاب میں بھی نہیں لگتیں۔ فوج کی نوکری وہ واحد نوکری ہے جہاں ابتدائی طور پر یہ علم ہوتا ہے ، یہ حلف ہوتا ہے کہ ملک اور اسکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان کی بازی لگادینگے۔ اس شعبے کے علاوہ اگرکسی بھی ملازمت کی ابتداء میں یہ حلف لیا جائے کہ دوران ملازمت جان بھی دینا ہوگی تو ملکی اکثیرت بے روزگار ہی ہوگی ۔ یہاںتک کہ اسمبلیوںمیں جانیوالے اپنے حلف کی کبھی بھی پاسداری نہیں کرتے ، نوے فیصد ایسے کام کرتے ہیں جو انکے حلف کے منافی ہوتے ہیں۔پاکستان میں دہشتگردی کی وباء کسی صوبے ، کسی زبان، کسی فرقے کے خلاف نہیں کیونکہ چرچ بھی محفوظ نہیں ، مسجد بھی محفوظ نہیں، نہ ہی چاروں صوبوںمیٰں سے کوئی صوبہ ۔ سیاست دان ملک کے مستقبل کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے صرف اقتدار کے خوابوں میں محو ہیںکسی کی باری لگی ہے کسی کو باری کا انتظار ہے ۔ بے شرمی اس انتہا ء پر کہ چاہے پشاور کے ننھے بچوںکی شہادت ، یا لاہور میں شہادتیں یا پھر سہون شریف میں شہادتیں صرف اور صرف سیاسی اسکورنگ پر کام ہورہا ہے ، الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے بجائے اسکے کہ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو پیغام دیا جائے کہ ہم ’ تم کو پہچانتے ہیں ، اس ملک کی حفاظت کیلئے ہم متحد ہیں اس پیغام سے اگر دشمن نہ بھی ڈرا تو ہماری مسلح افواج جو ایک سابقہ فوجی آمر کے لگائے گئے پودے کے خلاف نمبرد آزما ہے ، ہمارے شہریوں کی پچیس ہزار سے شہادتیں ہوچکی ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سیکڑوں افراد ہمیں ایک با حفاظت اور آرام دینے کیلئے خود دشمنوں کے ہاتھوں کے ابدی نیند سو چکے ہیں ، انکے بھی اولادیں ہیں ، اہل خانہ ضعیف ماںباپ ہیں مگر وہ کسی بھی خطرے کے مقابلے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں ، اور انسانوں کالبادہ اوڑھے ہوئے بھیڑیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اگر یہ سیاست دان ملک اور عوام کو درپیش سہون ، پشاور ، اور لاہور وہ اسطرح کے کئی دیگر واقعات کے اتحاد کا مظاہرہ ہیں ایک دوسرے سے دست و گریبان نہ ہوں ، الزامات کی سیاست ختم کردیں وہ دشمنوںسے نمبرد آزما مسلح افواج ، شہداء فوجی ہوںیا شہری انکے خاندانوں کو تسلی ملے گی، انکی تکالیف کم ہونگی ۔سہون، لاہور ، پشاور ، بلوچستان انہیں ہم چار اکائیاںکہتے ہیں جو ملکر پاکستان کو وجود ظاہر کرتی ہیں انکے عوام پر آنے والی کسی بھی افتادہ درآصل پاکستان پر حملہ اگر اتنی ذراسی سمجھ میں آجائے تو شائد یہ کوتاہ نظر ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کریں ، صوبوں کی انتظامیہ فوری طورپر الزام وفاق پر لگاتی ہے جو کسی شہید کے غم سے زیادہ دل کو تکلیف دیتا ہے کہ ہم دشمن سے لڑنے کے بجائے ، وزیر داخلہ پر اسلئے الزام لگائیں کہ وہ ماڈل ایان علی ، ڈاکٹر عاصم کی رہائی میں رکاوٹ ہیں ان سیاست دانوںکو چاہئے کہ ایک ایسے قوانین مرتب کریںجہا ں مضبو ط اور فوری انصاف و فیصلوںکی عدالتوں ، اگر دامن صاف ہیں تو فوجی عدالتوں سے کیا ڈر ؟؟ وجہ یہ ہے کہ فوجی عدالت میں طویل سفر نہیںہوتا دودھ کا دودھ کا پانی پانی فوری ہوجاتاہے بشرطیکہ کہ عوام کا اعتماد قائم ہو ، اور یہ اعتماد قائم ہوتا ہے اسکے فیصلوں سے ، عوام حق بجانب ہیں یہ پوچھنے پر کے جب سے آپریشن ضرب عصب شروع ہوا ہے اندرونی سہولت ت کاروں کی گرفتاریاںبھی ہوئیں ، GIT بھی بنیں مگر ہوا کیا ؟؟؟ پشاور کے ننھے شہید بچوں کی معصوم روحیں تو سوال کرسکتی ہیں کہ ہم نے ابھی دنیا دیکھی بھی نہ تھی ، انکل سے میں درخواست بھی کی تھی مجھے نہ ماریں پھر بھی انہوںنے ماردیا ، میںاپنی ماں سے گھر سے اسکول آتے ہوئے پیار بھی نہ کرسکاتھا ۔ اگر ان انکل کو ہی پکڑ لیاجاتا تو میری ماں خوش ہوجاتی، سہیون میں تو خراج عقیدت کیلئے آئے تھے ، ہم تو انکے ووٹرز ہیں جو 1970ء سے انہیں اقتدار میںلا رہے ہیں یہ ہمیںچھوڑ کر ائر پورٹ پر کیوں چلے گئے اپنے لیڈر کو لینے ۔ دراصل ہمارے سیاست دانوںنے دہشت گردوں سے لڑنے کا کام افواج کر سونپ دیا ہے۔