نفرت کرنے کا ریاض

22 فروری 2017

پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چودھری نثار! اآپ پلیز انسان بنیںۃ پالیسیوں پر تنقید کی جاتی ہے اسے ذاتی نہ لیا جائے۔ سب کو مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا؟ ڈرنے والے نہیں، دہشتگردوں کا کھل کر سامنا کرینگے بلاول بھٹو کے اس فلسفے پر ہمارا سرگھوم کر رہ گیا۔ ہم نے اس فلسفے کی گتھی سلجھانے کیلئے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے سے رجوع کیا سب سے پہلے ہم نے ایک ڈاکٹر صاحب سے پوچھا۔ ہمارے ہاں جب کسی شخص کو کوئی مسئلہ در پیش ہو تو وہ سب سے پہلے ڈاکٹر کے پاس ہی جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کلینک میں ٹی وی پر میچ دیکھ رہے تھے۔ انہیں کلینک پر میچ دیکھنے کا دس سالہ تجربہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب اتنے تجربہ کار تھے کہ مریض پر ایک نظر بھی نہ ڈالتے اور دوا لکھ دیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں ہمیشہ ٹی وی سکرین پر جمی ہوتی تھیں اور مریضوں میں یہ مشہور تھا کہ انکے ہاتھ میں شفا ہے۔ ہم نے ان ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب! کیا چودھری نثار صاحب اشرف المخلوقات نہیں یعنی حضرت انسان نہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے ٹی وی پر نظر آنیوالے کھلاڑیوں کی مثال دیتے ہوئے جواب دیا۔ کیا چودھری نثار کے خدو خال اور چلنا پھرنا ان کھلاڑیوں جیسا نہیں۔ ڈاکٹر صاحب! میں چودھری نثار صاحب کے سراپے اور وجود کے لئے دوسرے انسانوں کی مثالیں لینے نہیں آیا۔ یہ تو مجھے بھی علم ہے آپ بتایئے کہ بلاول نے انہیں انسان بننے کیلئے کیوں کہا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا، شاید بلاول بھٹو انہیں اپنا شاگرد سمجھ رہے ہوں کیوں کہ استاد جب کمرہ، جماعت میں اپنے شاگردوں کو پڑھا رہا ہوتا ہے تو ان کی حرکات و سکنات کا بغور جائزہ بھی لے رہا ہوتا ہے۔ کوئی شاگرد اگر شرارت کرے تو استاد اسے ڈنٹتے ہوئے کہتا ہے انسان بن، انسان، حالانکہ دیکھا جائے وہ شاگرد شرارت کرنے سے قبل بھی انسان ہی ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست استاد ہیں۔ وہ کلاس میں جاتے ہی کہتے ہیں۔ کیا آپ میں سے کوئی انسان ہے؟ سب لڑکے کہتے ہیں سر ہم سب انسان ہیں۔ استاد صاحب کہتے ہیں بیٹے! میں نے کلاس میں داخل ہونے سے پہلے آپ کی جو چیخیں سنی ہیں۔ ان کی روشنی میں تو آپ کی انسانیت کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس دور میں انسان کا پتا چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ پہلے آبادی کم ہوتی تھی۔ گائوں میں تو سب کو علم ہوتا تھا اور شہروں میں بھی محلے داروں کو ایک دوسرے کا بخوبی علم ہوتا تھا۔ کہتے ہیں کہ انسانی مشین سب سے پیچیدہ ہے۔ آج کل کا انسان واقعی اتنا پیچیدہ ہے کہ اس کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ ایک خود کش بمبار بھی دیکھنے کو ایک انسان ہے۔ وہ ایک سر، دو آنکھیں، دو کان، دو ہاتھ اور دو ٹانگیں رکھتا ہے۔ یہ عجیب فلسفہ ہے کہ وہ اپنی جان دے کر کئی معصوم لوگوں کو زندگی سے محروم کر دیتا ہے۔ اسے خود کیا ملتا ہے؟ خود کش بمبار مشینوں کو ہم بڑی دیر سے سمجھ رہے ہیں۔ جب روس افغانستان پر چڑھ دوڑا تو امریکا نے اس وقت کی پاکستانی قیادت کو بتایا کہ روس ایک خود کش بمبار ہے، آج یہ افغانستان میں گھس بیٹھا ہے، کل یہ پاکستانی علاقوں میں ٹینک دوڑائے گا۔ اگر یہ خود کش بمبار افغانستان میں بیٹھا رہا تو اسکی درندگی کے فن کا نقصان پاکستان ہی کو پہنچے گا۔ ہمارے عوام اور قیادت نے روس جیسے ریچھ کیخلاف ذوق یقین پیدا کر لیا۔ بالآخر ہم امریکہ کیساتھ مل روس کو اسکے گھر چھوڑ آئے۔ اس وقت ہمارے عوام کے ذہن میں بھی نہیں تھا کہ یہ امریکی جنگ ہے اور ہم استعمال ہو رہے ہیں۔ اس وقت روس ہمارے سر پر سوار ہو گیا تھا اور ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ امریکہ ہم سے یعنی صحیح آدمی سے غلط کام لے رہا ہے۔ آج ہم جس صورتحال سے گزر رہے ہیں ، یہی کہ رہے ہیں کہ امریکہ غلط تھا اور اس نے ہم سے یعنی صحیح آدمی سے غلط کام لیا۔ پھر امریکہ نے افغانی جنگجوئوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیاتو یہاں خانہ جنگیوں کا آغاز ہو گیا۔ ہمارا سکون پھر برباد ہو گیا۔ بالآخر خانہ جنگیوں کا اونٹ ایک کروٹ بیٹھ گیا اور عورتوں کو کوڑے مارنے والی حکومت بن گئی۔ مغربی دنیا نے اس حکومت کو ظالم ، جابر، جاہل انتہا پسند اور نجانے کیا کچھ کہا۔ تاوقتیکہ امریکہ میں9/11کا وقوعہ ہو گیا۔ پہلے امریکہ نے روس کو خود کش بمبار ثابت کیا تھا اور افغانی جنگجوئوں اور پاکستانی قیادت کے ذریعے اس کی ناک میں نکیل ڈالی تھی۔ اب امریکہ نے انہی جنگجوئوں کے بارے میں کہا کہ میں انہیں ایسا سبق سکھائوں گا کہ ساری دنیا دیکھے گی۔ اس کا رزلٹ پاکستان میں خود کش دھماکوں کی شکل میں آنا شروع ہو گیا۔ جو تا حال جاری ہے۔ جب کسی مسجد، امام باڑے، مذہبی جلوس یا کسی بازار میں دھماکہ ہوتا ہے یا پاکستان میں ڈرون حملہ ہوتا تو ہم کہتے ہیں کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے۔ خود کش بمبار اور انکے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر یہ سوچتے کہ پاکستانی لوگ کتنے سادہ لوح اور اچھے ہیں کہ ہم انہیں اور انکے بچوں کو مار رہے ہیں اور یہ اس موقف پر قائم ہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے۔ بالآخر ہم نے تسلیم کر لیا کہ یہ ہماری جنگ ہے اور ہم نے خود کش بمباروں کو سبق سکھانا شروع کر دیا۔ ویسے خود کش بمباروں اور انکے پروڈیوسروں کو علم ہو گا کہ پاکستان میں بہت سی سیاسی پارٹیاں ہیں اور ایک دوسرے کو انسان نہیں سمجھتیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں مذہبی پارٹیاں بھی ہیں، وہ بھی ایک دوسرے کو نفرت کے فتوے بانٹتی رہتی ہیں۔ ہمارے ادارے نہ تو مستحکم ہیں اور نہ ایک ہیں ہمارے ہاں جو لوگ حکومت میں ہوتے ہیں وہ بھی احتجاجی جلوس میں شامل ہوتے ہیں۔ پانامہ لیکس کا اتنا شور مچا کہ دھماکے شروع ہو گئے۔ خود کش بمباروں کی سوچ ایک ہے، وہ متحد ہیں۔ ہم نے مذہبی اور سیاسی اعتبار سے ایک دوسرے سے نفرت کرنے کا بڑا ریاض کر لیا ہے اب ہمیں نفرت کے ریاض کی عینک اتار پھینکنی چاہئے اور پکے سچے اور ایک دوسرے کے خیر خواہ پاکستانی بن کر ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئے۔