میرا عہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا

22 فروری 2017

’’میرا عہد جو میں نے لمحہ لمحہ جیا‘‘ میری یادداشتوں پر مشتمل کتاب ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان میں چند ابواب میرے مادرِ علمی کے بارے میں ہیں۔ یعنی جن تعلیمی اداروں سے میں نے تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان میںنے مسلم ماڈل ہائی سکول لاہور سے پاس کیا۔ 1959ء سے 1964ء تک میں اس سکول میں زیر تعلیم رہا۔ میرے سکول فیلوز میں محمد اسحاق، سعید احمد، طارق فاروق، ارشد نیاز اور انعام الہی شیخ معروف ہوئے۔ ان ساتھیوں کا تذکرہ کتاب میں موجودہے۔ محمد اسحاق ازاں بعد محمد اسحاق ڈار کے نام سے بلند مقام تک پہنچے۔ ان دنوں بھی وہ سینیٹر اور وفاقی وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہیں۔ انکی آبائی رہائش چونا منڈی میں اور میری محلہ ہجویری(عقب داتا گنج بخش) میں تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے تھے۔ سعید احمد کی رہائش سنت نگر میں تھی۔ ان کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے تھا۔ اپنی ذہانت اور محنت کی بدولت کامرس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہاں ایک بینک میں ملازم رہے۔ پھر لندن چلے گئے۔ لندن سکول آف اکنامکس سے تعلیم حاصل کر کے وہیں ملازمت اختیار کر لی۔ جب میں لندن گیا تو ان سے ملاقات رہی۔ محمد اسحاق ڈار اور سعید احمد میں بہت دوستی رہی۔ یہ دوستی رنگ لائی۔ سعید احمد کو لندن سے بلا کر ڈپٹی گورنر (سٹیٹ بینک آف پاکستان) کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ طارق فاروق بی اے کرنے کے بعد صحافت سے وابستہ ہو گئے اور ’’جہاں نما‘‘ کے نام سے روزنامہ جاری کیا جو ان کی وفات تک شائع ہوتا رہا۔ انعام الہی شیخ کا انتقال چند روز قبل ہوا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے کاروبار شروع کر دیا اور انجمن تاجران مال روڈ کے صدر رہے۔ ارشد نیاز تعلیم حاصل کر نے کے بعد اپنے والد شیخ غلام علی اینڈ سنز کے مالک شیخ نیاز احمد کے اشاعتی کاروبار سے وابستہ ہو گئے۔ کتاب میں بعض نامور شخصیات کے بارے میںمیری تحریریں بھی شامل ہیں جن سے مجھے ملاقات کا شرف حاصل رہا۔ ان میں سماجی اور ثقافتی زندگی کے واقعات اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والی ہر قسم کی شخصیات شامل ہیں۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم سے میری ملاقاتوں کا آغاز 1965ء میں ہوا جب میں اسلامیہ کالج کا طالب علم تھا۔ یہ ملاقاتیں ریڈیو پاکستان لاہور میں ہوئیں جہاں میں یونیورسٹی پروگرام میں حصہ لیتا۔ 1971ء سے 1974ء تک پنجابی ادبی سنگت لاہور کا میں سیکرٹری رہا۔ اس دوران میں نے بعض اہم اجلاسوں کی صدارت صوفی تبسم صاحب سے کرائی۔
جناب مجید نظامی سے میری ملاقاتیں زیادہ نہیں۔ چند ملاقاتوں کی یاد ہی مجھے معطر رکھتی ہے۔ نامور مصور، خطاط اور شاعر صادقین 1970ء سے 1972ء کے دوران میں زیادہ عرصہ لاہور میں رہے۔ لاہور قیام کے دوران میں میری ان سے متعدد ملاقاتیں رہیں۔ ان کا ڈیرہ باغ جناح اوپن ائیر تھیٹر کے قریب ایک پہاڑی پر تھا۔ صادقین نے اپنی مصوری اور خطاطی کے ذریعے لاہور شہر کو سجایا۔ انہوںنے زیادہ وقت لاہور میوزیم میںگزارا جہاں انکی مصوری اور خطاطی کے شاہکار دکھائی دیتے ہیں۔ صادقین کی مادری اورپدری زبان اردو تھی، اسکے باوجود انہوںنے لاہور قیام کے دوران میں میری درخواست پر چند رباعیاں پنجابی میں کہیں۔ وہ زیادہ تر رباعیاں ہی کہتے تھے۔ انکی اردو رباعیات کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ صادقین کی طرح جون ایلیا کا بھی اصل مسکن کراچی تھا۔ جب کبھی وہ لاہور آتے تو ان سے ملاقاتیں رہیں۔ وہ مجھے پیار سے ’’تنو‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے۔ لاہور میں ملاقاتوں کے دوران جون ایلیا نے مجھے بتایا کہ میں پنجابی شاعری کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ میرا ارادہ ہے کہ میں پنجابی میں بھی شعر کہوں۔ عربی بحریں زیادہ ایران والوں نے قبول کیں، اردو والوں نے کم کیں۔ میں نے سوچا کہ پنجابی سیکھ کر عربی اور اردو بحروں میں شاعری کروں مثلاََ بحر رجز اور بحر رمل۔ جون ایلیا پنجابی کا یہ بول ’’سسیئے بے خبرے، تیرا لُٹیا شہر بھنبھور‘‘ اکثر گنگنایا کرتے۔ انکے بھتیجے، بھتیجیاں پنجابی سمجھتے اور بولتے ہیں۔ مشہور ٹی وی اداکار منور سعید ان کے بھتیجے ہیں۔ مولانا کوثر نیازی سے میری ملاقاتیں رہیں۔ مولانا کوثر نیازی جب لاہور میں مقیم تھے تو وہ اپنے دوست حاجی محمد یوسف کی دکان ’’دار السرور‘‘ پر جا کر پان ضرور کھاتے۔ جب مولانا اسلام آباد چلے گئے اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ہو گئے تو جب بھی لاہور آتے، چوک بھاٹی دروازہ ’’دار السرور‘‘ حاجی صاحب کو ملتے۔ حاجی صاحب انہیں پان پیش کرتے اور چند پان باندھ کر انہیں دے دیتے۔ ’’دارالسرور‘‘ پر کبھی میری بھی مولانا کوثر نیازی سے ملاقات ہو جاتی۔ دراصل ’’دارالسرور‘‘ کے ساتھ ہی ’’شہزاد ریسٹورنٹ‘‘ ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں شام کے وقت پنجابی زبان کے بعض بزرگ شاعر بیٹھا کرتے۔ ان بزرگ شاعروںکو ملنے میں کبھی کبھار چلا جاتا۔ مولانا کوثر نیازی وفاقی وزیر اطلاعات ہونے کے باوجود اکیلے دکان پر آتے۔ ڈرائیور سرکاری گاڑی دکان سے کچھ فاصلے پر کھڑی کرتا۔ مولانا کوثر نیازی بغیر کسی گن مین کے دکان کے باہر کھڑے حاجی یوسف سے گپ شپ کرتے رہتے۔ اس دور میں دہشت گردی کی وبا نہیں تھی۔ سعید آسی ان دنوں ’’نوائے وقت‘‘ میں سینئر عہدے پر فائز ہیں۔ سعید آسی سے بذریعہ خط کتابت میرا رابطہ 1976ء میں ہو گیا تھا۔ ان دنوں وہ پاکپتن میں مقیم تھے۔ عام طور پر ہماری خط کتابت پنجابی زبان میں ہوتی۔ سعید آسی کے پنجابی زبان میں لکھے گئے چند خط ابھی تک میرے پاس محفوظ ہیں۔ انہوں نے ایل ایل بی کرنے کے بعد وکالت کے بجائے صحافت کا پیشہ اختیار کیا اور اس میں اپنا نام اور مقام بنایا۔ انہوں نے اپنے ایک خط میں مجھے لکھا تھا ’’اصولی طور تے میں وکالت دے پیشے وچ شامل ہونا پسند نہیں کردا۔ بس شروع توں ہی مینوں کجھ نفرت جہی اے۔ کجھ مصلحتاں سن پئی میں ایل ایل بی وچ داخلہ لے لیا۔ روزی دین والا اوہ خالق اے۔ اوہدے تے ہی تکیہ اے۔ گویا مایوسی ضرور اے پر ہالے ناامیدی نہیں‘‘ 1976ء میں اپنے رسالہ ’’سانجھاں‘‘ میں سعید آسی کا پنجابی کلام اور کہانیاں شائع کرتا رہا ہوں۔ اب 2012ء سے وہ ’’نوائے وقت‘‘ میں میرا کالم شائع کر رہے ہیں۔

کراچی سے نیو یارک

کراچی پہنچ کر وزیراعلیٰ پنجاب نے کراچی کو نیو یارک بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ...