مےاں بیوی کے مادہ تولید سے پیدا ہونے والا ٹیسٹ ٹیوب بے بی جائز قرار

22 فروری 2017

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)وفاقی شرعی عدالت نے مےاں بیوی کے مادہ تولید سے پیدا ہونے والے ” ٹیسٹ ٹیوب بے بی “ کو جائز قرار دیتے ہوئے قانون معاہدہ 1872ءکی دفعہ 12اور تعزیر ات پاکستان میں تبدیلی کی15 اگست 2017 تک کی ڈیڈ لائین دیتے ہوئے مناسب ترمیم کرنے کا حکم جاری کردےا ہے۔جبکہ اس کے علاوہ غیر مےاں بیوی کے مادہ تولید کے ذریعے پیدا کرنے والے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو خلاف قانون ، خلاف شرعی قابل سزاءجرم قرار دےا گےا ہے جس کی خلاف ورزی پر ” ایسا مواد بینک“ رکھنے میں ملوث ڈاکٹر، مےاں بیوی کو قابل سزاءقرار دکےا گےا ہے جبکہ ڈاکڑ کا لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ 20صفحات پر مشتمل کیس کا فیصلہ بروز منگل کووفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس رےاض احمد خان ، جسٹس علامہ ڈاکٹر فدا محمد خان، جسٹس ظہور احمد شہوانی پر مشتمل تین رکنی بنچ نے آئین کے آرٹیکل 203-D کے تحت ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے متعلق طریقہ کار کا اسلامی احکامات کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے 20 جاری کےا ہے۔جس کا جائزہ ریسرچ ایڈوائزر ڈاکٹر محمد مطیع الرحمن نے لیتے ہوئے رپورٹنگ کے لیئے اپروو کےا ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے حوالے سے 24فروری 2015 میں راولپنڈی کے رہائشی فاروق صدیقی نے مسز فرزانہ ناہید کو فریق بناتے ہوئے مقدمہ دائر کےا تھا ، کیس کی سات سماعتیں ہوئیں اور 16فروری 2017ءکی سماعت کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلےا گےا تھا۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...