علماءو اساتذہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ میں کردار ادا کریں، صدر ممنون

22 فروری 2017

اسلام آباد (نامہ نگار) صدر مملکت و چانسلر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ممنون حسین نے کہا ہے کہ تعلیم قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے اور یہ شعبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جبکہچاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک گروپ نیا نصاب تعلیم وضع کرنے پر کام کر رہا ہے ،نوجوان جو ملکی آبادی کا تقریباً 60 فیصد ہیں ایک قیمتی اثاثہ ہیں جن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے، اساتذہ و نوجوانوںکو بدعنوانی ، شدت پسندی کے خاتمے اور اسلامی اقدار کے احیاءمیں اپنا بامعنی کردار ادا کرنا ہو گا۔ گزشتہ روز روز بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے خواتین کیمپس میں ”نوجوان اور پاکستان کا مستقبل “ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ مغرب کی اندھی تقلید خرابیوں کا باعث ہے اور قوم کی بیٹیوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی روایات کی پیکر بن کر دکھائیں۔ اسلامی یونیورسٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے ممنون حسین کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ وہ بہترین درسگاہ ہے جو ایسے مفکرین و ماہرین پیدا کرنے کا کام سر انجام دے رہا ہے جن کے اذہان دینی فکر اور عصری علوم سے آراستہ ہیں۔ انہوں نے مسلم دنیا کے میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلام کے خلاف پھیلائے گئے منفی تاثر سے نمٹنے اور مسلم معاشروں کو متوازن بنانے میں کردار ادا کرے۔ صدر مملکت نے جامعہ کی غیر ملکی طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ اپنے اپنے ممالک میں جا کر اسلامی یونیورسٹی اور پاکستا ن کے سفراءکے طور پر جانی جائیں گی۔ ڈاکٹر احمد یوسف الدریویش نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہمیشہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آبادکے ساتھ ہر جہت میں تعاون کیا چاہے علمی ہویا مادی اور جامعہ کے مشن اور اغراض مقاصد کی تکمیل میں بھی جامعہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی اور امت مسلمہ عمومًا اور پاکستان کے طلبہ کے لئے خصوصًااچھے اساتذہ تیا رکرنے میں تعاون کیا۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم میں نوجوان دل کی دھڑکن ہوا کرتے ہیں اور کوئی قوم ترقی کی منازل نوجوان کی طاقت اور عقل و فہم کے بغیر طے نہیں کرسکتی۔دریں اثناءصدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ جنگلات ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق جنگلات کے تحفظ اور ان کی افزائش بے حد ضروری ہے۔ گزشتہ روز ایوان صدر میں موسم بہار کی شجرکاری کی سالانہ مہم کے آغاز پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگلات منفی ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے ملک کو محفوظ رکھتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں شجرکاری میں اضافہ اور جنگلات کے تحفظ کے لئے اقدامات کر رہی ہیں۔ صدر نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی‘ غربت اور لکڑی کی قیمتوں میں اضافہ‘ جنگلات کی تباہی کے اسباب میں شامل ہیں۔ صدر نے کہا کہ جنگلات کی افزائش کے لئے ایک م¶ثر قومی سٹریٹجی کی ضرورت ہے۔