عدالتی حکم کے باوجود ڈیپوٹیشن پر آئے افسران واپس نہ بھیجے جا سکے

22 فروری 2017

اسلام آباد (قاضی بلال خصوصی نمائندہ) سپریم کورٹ کے واضح احکامات کو نوکر شاہی نے ہوامیں اڑا دیاایک سو بیس سے زائد افسران کو واپس بھیجنے کی کیڈ کی منظوری کے باوجود رپورٹ کو سپریم کورٹ بھیجا ہی نہیں گیا اور اس پر عمل بھی نہیں ہوا۔جس کی وجہ سے صوبوں اور محکموں سے آنے والے ڈاکٹر و دیگر تاحال اپنے عہدوںپر برقرار ہے ہیں اور ان سے متعلق وزارت کیڈ تاحال کوئی فیصلہ نہ کر سکی ۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے سی ڈی اے اور دیگر محکموں میں سالہاسال سے ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والے ملازمین کو فوری طور پر واپس بھیجنے کے احکاما ت دیئے تھے اور اداروں کے مستقبل بنیادوںپر سربراہان تعینات کرنے کا حکم دیا گیا جس پر تین ماہ گزرنے کے باوجود کوئی عمل نہیں کیا گیا ہے ۔ پاکستان انسٹیٹویٹ آف میڈیکل سائنسز پمز ¾ پولی کلینک اور ادارہ بحالی معذوران میں تاحال وہی پرانے چہرے براجمان ہیں ۔ پمزکے ساتھ ساتھ چلڈرن ہسپتال نرم اورپولی کلینک میں وہی پرانے چہرے اپنی نشستوں پر قائم و دائم ہیں ۔وزیر مملکت کیڈکی سرپرستی ان تمام کو حاصل ہے جنہیں ہٹانے کا سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا ۔ کیڈ کی جانب سے ایک کمیٹی بھی بتائی گئی تھی مگر اس نے بھی تاحال سپریم کورٹ کے حکم پر کوئی عمل نہیں کیا ہے دس روز میں پیش کی جانے والی رپورٹ ابھی تک وزارت کیڈ سے باہر نہیں نکل سکی۔ ذرائع کے مطابق دوسری جانب چلڈرن ہسپتال میں سینئر ڈاکٹرز عام مریضوں کو ٹرینی ڈاکٹروں کے حوالے کرکے اپنے کلینکس کو ترجیح دیتے ہیں بچوں کے معروف ڈاکٹر جے کرشن اور سرجن ڈاکٹر امجد چوہدری کے بارے میں لوگوں نے شکایات کا انبار وائس چانسلر کے پاس لگا دیئے ہیں۔ ڈاکٹر امجد چوہدری اسسٹنٹ پروفیسر ¾ رجسٹرار شہید ذوالفقار علی بھٹو کے طورپر کام کر رہے ہیں اور دو تنخواہیں بھی لے رہے ہیں ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کاکہنا ہے کہ رجسٹرار کی پوسٹ کیلئے اشتہار دیدیا ہے جلد ہی رجسٹرار کی نشست پر اہل شخص کو تعینات کر دیا جائے گا۔ تین سال سے ڈبل تنخواہ وصول کرنے والے ڈاکٹر امجد چوہدری حوالے سے تحقیقات کا فیصلہ کیاجا چکا ہے ۔ ان کے مریضوں کو دوہزار انیس تک کی تاریخیں اس لئے دی گئی ہیں کیونکہ ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ہے ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر جاوید اکرم پر بھی دو تنخواہیں لینے کا الزام ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ ساتھ وہ سرچ کمیٹی کے سربراہ کی بھی تنخواہ وصول کر رہے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے فیڈرل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کا بھی عہدہ سنبھال رکھا ہے جس کی تنخواہ تو نہیں لیتے مگر اس کی مراعات وصول کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر جے کرشن ہسپتال کے اوقات میں اپنی سیٹ پر نہیں بیٹھتے ہیں ان کے خلاف متعدد شکایات کی گئیں کہ وہ اپنے جونیئرز کے حوالے کرکے اپنے پرائیویٹ ہسپتال چلے جاتے ہیں۔ وائس چانسلر نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔