;وفاقی حکومت کی تیسرے برس کارکردگی اوسط سے کچھ بہتر رہی: پلڈاٹ

22 فروری 2017

لاہور (خصوصی رپورٹر) پلڈاٹ نے وفاقی میعار طرز حکمرانی سے متعلق کارکر دگی کے تیسر ے سال 2015-16 کا سکور کارڈ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر اوسط درجے سے ذرا بہتر کارکردگی کا مظاہر کیا ہے۔ کارکردگی کے 25 میں سے 19اعشاریوں میں 50فیصد پوائنٹس سے زیادہ سکور حاصل کر سکی ہے۔ وفاقی حکومت کے میعار طرز حکمرانی کا تیسرے سال میں مجموعی سکور 51فیصد رہا ہے۔ مہنگائی کی شرح پر کنٹرول کے اعشاریوں میں سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہر کرتے ہوئے 87فیصد سکور حاصل کیا ہے جبکہ شفافیت میں سب سے کم سکور 21فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی طرز حکمرانی کے تیسرے سال 2015-16میں دوسرے سال کے مقابلے میںسات فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ پلڈاٹ کی جانب سے مرتب کر دہ میعار طرز حکمرانی کے مختلف اعشاریوں اور ذیلی اعشاریوںکے موازنے پر مبنی سکور مرتب کیا گیاہے۔ پلڈاٹ سکور کارڈ کے مطابق گورننس کے تمام پانچ شعبوں بشمول قانون کی حکمرانی، معیشت کا انتظام و انصرام، سماجی اعشاریوں، خدمات اور انتظامی اثر پذیری میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذیلی شعبوں میں25 میں سے 19اعشاریوں خارجہ پالیسی کے انتظام و انصرام، ریگولیٹری باڈیز کی خود مختاری، موثر اور موزوں عوامی خریداری، بچوں کی امیونائزیشن، حادثات کی تیاری اور انتظام و انصرام، ہیلتھ کیئر، آبادی کی بڑھوتری پر کنٹرول، ماحولیاتی پائیداری، مہنگائی پر کنٹرول، بے روزگاری پر قابو، سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی دستیابی، ترقیاتی منصوبے، محصولات کا اکٹھا کرنے، بلوں، زرعی ترقیات، قومی دفاع، امن و امان، میں کارکردگی میں اوسط درجے سے بہتررہی ہے۔ جبکہ چھ اعشاریوں جن میں طرز حکمرانی کو بہتر بنانے میںٹیکنالوجی کے استعمال، بھرتیوں اور ترقیوںمیں شفافیت، تعلیم، غربت کے خاتمے، پانی کے وسائل کے انتظام وانصرام اور شفافیت کے اعشاریوں میں کارکردگی اوسط درجے سے بھی کم رہی ہے بیشتر اعشاریوں میں کارکردگی 40فیصد سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔ مہنگائی پر کنٹرول میں مجموعی طورپر 88فیصد سکور ریکارڈ کیاگیا ہے کیونکہ بہتر مالیاتی انتظام و انصرام جبکہ بین الاقوامی طور پر تیل کی قیمتوں میںکمی کے باعث مجموعی طور پر 2.8فیصد مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ امن و امان اور پائیداری کے اعشاریے میں 73فیصد سکور رہا ہے اسی طرح ہیلتھ کیئر میں 68فیصد سکور ریکارڈکیا گیاہے۔ تیسرے سال کے دوران براہ راست سرمایہ کاری میں 38فیصد اضافہ دیکھنے میںآیا ہے۔ شفافیت میں کارکردگی سب سے کمتر رہی ہے جس مد میں مجموعی طور پر 21فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔