پاکستانی سیاسی نقشے میں تحریک انصاف کی کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی: سیدّال خان

22 فروری 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور، مسلم لیگ (ن) کے مرکزی جائنٹ سیکرٹری سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ وزےر اعظممحمد نواز شرےف کی جرات مندانہ پالےسےوں سے بلوچستان کی سےاسی و سماجی زندگی مےں انقلاب برپا ہوا ہے 2013 میں وزیراعظم نوازشریف کے اقتدار سنبھالنے سے قبل بلوچستان کے 60 فیصد علاقہ میں قومی ترانہ بجانے اور قومی جھنڈا لہرانا ”جرم“ بن چکا تھا آج بلوچستان کے تعلےمی اداروں مےں قومی ترانے کی گونج سنائی دےتی ہے بلوچستان کی سرزمےن پر قومی پرچم لہرا رہا ہے ۔وزیراعظم نوازشریف نے سول عسکری اداروں کے درمیان کوارڈینیشن سے پورے ملک سمیت بالخصوص بلوچستان میں امن وامان بحال کیا، ریاست کی رٹ قائم کی، حکومت کی پالیسیوں کے نتیجہ میں ہزاروں فراریوں نے ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہوئے، بلوچستان میں نوگو ایریاز ختم کردیئے گئے ہیں، سی پیک منصوبہ کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کے عوام کو پہنچے گا، پاک چےن راہداری کے منصوبہ کا مغربی روٹ 2018ءمےں مکمل ہو جائے گا گوادر سے قلات تک سڑک مکمل ہو گئی ہے اب گوادر سے قلات تک 19گھنٹے کا سفر7,،8گھنٹے مےں طے ہو جاتا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان نے 14 ماہ میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، مردم شماری آئینی اور قانونی تقاضہ ہے، قوم پرستوں کے اعتراضات بلاجواز ہیں انتظامی سطح پر یہ اعتراضات دور کئے جاسکتے ہیں، مسلم لیگ (ن) کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ انتخابات میں بھی مرکز اور بلوچستان میں حکومت بنائے گی، تحریک انصاف کی پاکستان کی سیاست کے نقشے میں کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی۔سیدال خان ناصر نے منگل کو بلوچستان ہاﺅس اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے قیام کو 14 ماہ ہوئے ہیں لیکن صوبائی حکومت کی کارکردگی بہت بہتر ہے اس دوران کرپشن کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا،ہزاروں ناراض بلوچ رہنماﺅں نے پہاڑوں سے اتر کر آئین پاکستان کو تسلیم کیا، ہماری اب بھی پیش کش ہے کہ آئین پاکستان کے تحت جو بھی بات کرے گا، اس کیساتھ بات کی جائے گی اور ان کے خدشات بھی دور کئے جائیں گے لیکن آئین کو نہ ماننے والوں کیلئے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور میں بدترین کرپشن ہوئی بلوچستان میں ہر پوسٹ، تقرری، تبادلہ ”فارسیل“ تھا۔