تنگی کچہری پر حملے کی کوشش، گیٹ پر خود کش دھماکہ، 7افراد شہید،22زخمی ،3دہشتگرد ہلاک

22 فروری 2017

چارسدہ + اسلام آباد+ لاہور (ایجنسیاں+ خصوصی رپورٹر+ نمائندہ خصوصی) چارسدہ کی تحصیل تنگی کی کچہری پر دہشت گردوں کے حاملے میں وکیل سمیت 7 افراد شہید ہوگئے، 22 سے زائد افرادزخمی ہوئے۔ تین دہشتگردوں نے کچہری میں داخل ہونے کی کوشش کی، روکنے پر ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ 2 دہشت گرد فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد ہلاک ہوگئے، حملہ آوروں نے دستی بم بھی پھینکے تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے آگے بڑھنے نہیں دیا، زخمیوں میں 4پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے گئے، وفاقی وزیر داخلہ اور صوبائی حکومت نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ دہشتگردوں نے اس وقت کچہری پر حملے کی کوشش کی جب کاروبار زندگی عروج پر تھا اور عدالتی امور نمٹائے جا رہے تھے۔ کچہری میں ججز، وکلا اور سائلین کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ دہشتگردوں نے کچہری کے بیرونی گیٹ سے اندر گھسنے کی کوشش کی تاہم وہاں سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے انہیں اندر جانے سے روکا تو ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دوران ضلع بھر سے پولیس اہلکاروں کو طلب کرلیا گیا اور علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا میڈیا کو بھی جائے وقوعہ تک رسائی کی اجازت نہیں تھی۔ زخمیوں کو تحصیل ہسپتال تنگی منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے چھٹی پر گئے ڈاکٹروں کو واپس بلا لیا گیا۔ صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا چارسدہ میں مہمند ایجنسی کے راستے دہشتگردوں کے داخلے اور ممکنہ تخریبی کارروائی کی اطلاع تھی اور سکیورٹی الرٹ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس اہلکار چوکس تھے اور انہوں نے دہشتگردوں کو کچہری میں داخل نہیں ہونے دیا بصورت دیگر بڑا نقصان ہونا تھا۔ صوبائی وزیر مشتاق غنی کے مطابق اس واقعے میں 8عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ90زخمی ہیں ۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا جاں بحق افراد میں ایک وکیل اور عدالت کے سامنے جوتوں کی مرمت کرنے والا بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا انہوں نے حملہ آوروں کی نعشیں، بارودی مواد اور اسلحہ سڑک کنارے پڑا دیکھا۔ محمد شاہ باز نامی ایک علاقہ مکین نے بتایا کہ وہ کچہری کے اندر موجود تھے، جب انہوں نے خودکش بمباروں کو اندر داخل ہوتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا 'میں کینٹین کی طرف بھاگا اور اپنی جان بچانے کے لیے دیوار سے چھلانگ لگا دی'۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک خودکش حملہ آور سیشن کورٹ کے اندر داخل ہوا اور اس نے وکلا کے درمیان آکر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ ڈپٹی کمشنر چارسدہ طاہر ظفر نے کہا سکیورٹی انتہائی سخت تھی اس کی وجہ سے دہشتگرد سیشن کورٹ کے اندر داخل نہیں ہوسکے ۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار کی جانب سے قبول کی گئی ہے اور تنظیم کے ایک ترجمان اسد منصور نے بیان میں کہا یہ کارروائی بھی غازی آپریشن کا حصہ ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی نے چارسدہ تنگی کچہری پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہارکیا ہے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بھی واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے چارسدہ بم دھماکوں نے ایک بار پھر پوری قوم کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم دکھ اور سوگ کی اس گھڑی میں پوری قوم کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم نے کہا حکومت دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھے گی اور اللہ کے فضل وکرم سے کامیاب ہو گی۔ وزیراعظم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کی تعریف کی جنہوں نے دھماکے کی کوشش ناکام بناکر بڑے نقصان سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ثابت قدم قوم ہیں اور ایسے حملوں سے ہمارا عزم کمزور نہیں ہو گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا چارسدہ میں ہونے والے حملے میں سکیورٹی فورسز نے جس انداز سے کارروائی کر کے عوام کی جانیں بچائی ہیں اس پر یہ قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ملک سے دشمنوں اور دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر عوام کودہشتگردوں کے حملے سے محفوظ رکھا، ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ گورنر خیبرپی کے اقبال ظفر جھگڑا نے کہا دہشتگردی کی نئی لہر پر جلد قابو پالیا جائیگا۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا امن کے لیے سب سے بات ہوسکتی ہے لیکن جھکیں گے نہیں۔ صدر ممنون حسین، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، بلاول بھٹو، آصف زرداری، عمران خان، سراج الحق اور دیگر نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دھماکے میں 18 سے 20 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دریں اثناءسکیورٹی اہلکاروں نے اسلام آباد ضلع کچہری سے دو مشکوک افراد کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔ اسلام آباد کچہری کے سکیورٹی انتظامات مزید بہتر کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں بارودی سرنگ دھماکہ 2افراد جاں بحق ایک زخمی ہوگیا۔