حالیہ دھماکوں کے بعد آپریشن میں ہلاکتوں کیخلاف درخواست، جسٹس صدیقی کی سماعت سے معذرت

22 فروری 2017

اسلام آباد ( وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حالیہ دھماکوں کے بعد آپریشنز میں 100 سے زائد افراد کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت سے معذرت کر لی ہے اور کیس دوسرے بنچ میں مقرر کرنے کے لئے معاملہ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔ مذکورہ درخواست شہداءفاﺅنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد سیکورٹی فورسز نے کریک ڈاو¿ن میں 100 سے زائد دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فریقین کے پاس قانونی تقاضے پورے کئے بغیر کسی کو مارنے کا کوئی حق یا جواز موجود نہیں۔ عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں اور مارشل لا کے ادوار میں بھی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ ریاست غلط خارجہ پالیسی اور ہمسایوں سے خراب تعلقات کے باعث عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت عالیہ فریقین کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مرنے والوں کی فہرست اور پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم کرنے کا حکم دے ، غیر قانونی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں لئے گئے افراد کی فہرست طلب کی جائے اور فریقین کو غیر قانونی طور پر شہریوں کے قتل عام سے روکا جائے۔