انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں: جسٹس کھوسہ

22 فروری 2017

اسلام آباد(محمد صلاح الدین خان) سپریم کورٹ آف پاکستان میںپانامہ کیس کی 23ویں سماعت کے موقع پر عدالت کی جانب سے چیئرمین نیب اور چیئرمین ایف بی آر کے غیر تسلی بخش جوابات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دےاکہ آپ کو نتائج بھگتنا ہوں گے ، ایگزیکٹیو کے خلاف کارروائی کے لیئے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے۔،چیئرمین نیب نے واضح موقف اختےار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریگو لیٹر کی جانب سے ہدایت نہیں ملیں وہ حدیبیہ پیپرز ملز فیصلہ پر نظر ثانی اپیل دائر نہیں کریں گے جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نیب کو عوام کا ریگولیٹر ہونا چاہیے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز مل کیس میں نیب نے معاملہ ہی ٹھپ کر دیا ہے،نیب کو اپیل کرنا چاہیے تھی جو نہیں کی،نیب نے ریفری جج کے فیصلے کو پڑھا ہی نہیں،نیب کی اپیل نہ کرنے پر تحفظات ہیں،ہم(سپریم کورٹ) اپیل سننے کا پلیٹ فارم نہیں ہیں،انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں،چیئرمین نیب نے کہا کہ التوفیق کمپنی کے معاملے پر مقدمہ ایف آئی اے نے تیار کیا تھا،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایف آئی اے پاکستان کا ادارہ ہے اٹلی کا نہیں،کسی ملزم کی چار سو روپے کے کیس میں ضمانت ہو جائے تو نیب سپریم کورٹ کے دروازے توڑتا ہے، اس معاملے میں 1.2 بیلن روپے کی کرپشن پر اپیل نہیں کی گئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے چیئرمین نیب سے کہا کہ آپ نیب آرڈیننس کی دفعہ 9 کے تحت کارروائی کرنے کی مجاز اتھارٹی ہیں مگر آپ نے اپنے اختیار کو دفن کر دیا ہے، یہ ادارہ نیب کے مفلوج ہونے کا آئیڈیل کیس بنتا ہے، اگر ایف آئی اے ، ایف بی آر، نیب کاروائی نہیں کرے گا اور اب یہ کہا جارہا ہے کہ 184/3کے تحت سپریم کورٹ کا دائرہ اختےار بھی نہیں بنتا تو پھر مواخزہ کے لیئے کےا آسمان سے فرشتے آئیں گے؟۔سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی طبیعت کی خرابی کے باعث سماعت 12 بجکر 45منٹ پہلے ہی ختم کردی گئی ،دوران سماعت اٹارنی جنرل پاﺅں میں تکلیف کے باعث روسٹرم چھوڑ کر نشست پر بیٹھ کر کچھ دیر دلائل دیتے رہے جس کے بعد بمشکل کھڑے ہوئے اور کہا کہ اگر چہ ان کے پاﺅں میں شدید درد ہے تاہم وہ دلائل جاری رکھیں گے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ہم اتنے ظالم نہیں ہیں کہ آپ تکلیف میں دلائل دیتے رہیں اور ہم سنتے رہیںباقی دلائل کل دیدیجیئے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے ایک متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مقدمے میں دلائل دینے کے بعد بھی مزید دستاویزات جمع کرائی جارہی ہیں انہیں زیر غور نہ لایا جائے تاکہ مقدمے کا جلد فیصلہ ہو سکے وگرنہ ہم جوب الجواب کے لیئے چھ ہفتے مزید لیں گے۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کیس میں ثبوت سمیت ہزاروں صفحات پر مشتمل فریق وکلاءکے دلائل ہیں جن سب کا جائزہ لینا ایک مشکل امر ہے ان کا کہنا تھا کہ متوقع ہے کہ کیس جمعرات تک مکمل کردےا جائے، جبکہ ذرائع کے مطابق عارضہ قلب میں مبتلا جسٹس عظمت سعید علاج کے لیئے تین ماہ کے لیئے بیرون جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔