نیو اسلام آباد ائرپورٹ کی لاگت 37 سے بڑھ کر 92 ارب تک پہنچ گئی‘ پی اے سی

22 فروری 2017

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) پارلیمان کی مشترکہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی کل لاگت 37 ارب تھی اب 92 ارب تک پہنچ گئی ہے جبکہ وہاں پر پانی نہیں ہے سر کاری افسران کرپشن کر نے کے لیے ہر منصوبے کو تا خیر کا شکار کرتے ہیں کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ، وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، وزارت قومی غذائی تحفظ اور وزارت دفاعی پیداوار کے 2012-13، 2013-14ءکے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے آڈٹ اعتراض کے جائزہ کے دوران اعظم سواتی نے کہا کہ بطور وزیر میں نے 98 کروڑ کی کرپشن پکڑی تھی۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اس وقت ہماری مدد کی اور ہم نے بینکوں میں جا کر اکاﺅنٹس پکڑے مگر کرپشن میں ملوث ڈاکٹر ریاض الدین کو اب ایک اہم ذمہ داری دے دی گئی ہے وزارت بین الصوبائی رابطہ کے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کے دوران سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کشمیری طلباءکے وظائف میں کٹوتی کیوں کی گئی ہے۔ پرویز ملک سمیت پوری کمیٹی نے وظائف کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جس پر پی اے سی کے چیئرمین نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو ہدایت کی کہ بلوچستان، فاٹا اور کشمیری طلباءکے وظائف کی تمام تفصیلات پی اے سی کو پیش کی جائیں۔ سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ 2012ءمیں کٹوتی کی گئی تھی، اب یہ وظائف باقاعدگی سے دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 800 طلباءکو وظائف دیئے جا رہے ہیں۔ بین الصوبائی رابطہ کی وزارت کے ایک آڈٹ اعتراض کے جائزہ کے دوران چوہدری تنویر خان نے کہا کہ ایک کیس کی انکوائری اگر 10 دن میں مکمل کرنے کا حکم ہے تو اس میں دو سال کی تاخیر کیوں کی گئی۔ سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ وزارتوں میں سی ایف اوز کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ جن اداروں میں یہ موثر انداز میں کام نہیں کر رہے، وہاں آڈٹ کو بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی اے سی جس معاملے پر تحقیقات کے لئے جتنا وقت مقرر کرے، اس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔