کالا دھن سفید کرنے کیلئے کاروباری طبقات سے تجاوز لی جائیں گی، مجلس قائمہ

22 فروری 2017

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے خزانہ کو چیف شماریات نے مردم شماری کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں آئندہ انتخابات 15 مارچ سے شروع ہونے والی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بیرون ملک موجود اثاثے اور فنڈز (کالا دھن) کو سفید کرنے کے لئے کاروباری طبقات سے تحریری تجاویز لی جائیں گی اور انہیں غور کے لئے ایف بی آر کو بھیج دیا جائے گا۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی ایف بی آر اپنی آڈٹ پالیسی پر نظرثانی کرے تاکہ ملک میں کاروبار کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین قیصر احمد شیخ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں مردم شماری کے حوالے سے غور کیا گیا۔ کمیٹی کے رکن سید نوید قمر نے سوالات اٹھائے کہ آیا مردم شماری کے لئے شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہے؟ یا جس گھر تک نادرا کی رسائی نہیں ہوئی تو وہاں شناختی کارڈ کیسے بن سکتا ہے۔ چیف شماریات آصف باجوہ نے کہا کہ شناختی کارڈ موجود ہے یا نہیں۔ مردم شماری میں شمار کیا جائے گا۔ نادرا کے مطابق 13 کروڑ تیس لاکھ لوگوں کے پاس شناختی کارڈ ہیں اور ہر گھر کے سربراہ کے پاس شناختی کارڈ ہے یا گھر کے کسی نہ کسی فرد کے پاس شناختی کارڈ موجود ہے۔ سید نوید قمر نے سوال کیا کہ کیا آئندہ انتخابات نئی یا پرانی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے؟جس پر چیف شماریات نے کہا کہ آئندہ انتخابات 15 مارچ سے شروع ہونے والی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے۔ رکن منصور حیات ٹمن نے کہا کہ اگر بغیر شناختی کارڈ لوگوں کو شمار کیا گیا تو حد بندی چیلنج ہو جائے گی۔ ایم کیو ایم کے سربراہ اور کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے مردم شماری کے بارے میں 23 سوالات اٹھائے۔ ان کے سوالات میں دریافت کیا گیا ہے کہ مردم شماری میں بتایا جائے کہ کس کے پاس شناختی کارڈ موجود ہے یا نہیں ہے۔ سندھ کے پانچ بڑے شہروں میں دیہی اور شہری علاقوں کا ڈیٹا بنایا جائے۔ مردم شاری کے ڈیٹا کو کس طرح سے قابل اعتبار بنایا جا رہا ہے؟ مردم شماری کے نتائج ضلع کی سطح پر دیئے جائیں۔ اس پر چیف شماریات نے کہا کہ ضلع کی سطح پر مردم شماری کے نتائج جاری نہیں کئے جا سکتے۔ مردم شماری کا سارا ڈیٹا اسلام آباد لایا جائے گا۔ فاروق ستار نے تجویز کیا کہ مردم شماری ایک مرحلہ میں کی جائے اور اس میں اوورسیز پاکستانیوں کو بھی شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے جو سوالنامہ پیش کیا ہے وہ پاکستان شماریات بیورو کو بھیجا جائے گا اور ان کا جواب منگوایا جائے گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ پاکستان شماریات بیورو شمالی وزیرستان فاٹا اور آئی ڈی پیز کی مردم شماری کے بارے میں ایشوز کو حل کرے۔ چیف شماریات نے کمیٹی کو بتایا کہ 28 فروری کو فاٹا سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس بلایا گیا ہے جس میں تمام ایشوز پر غور ہو گا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ موجودہ حالات کے پیش نظر آئی ڈی پیز اور فاٹا کے متعلق امور کو غیر معمولی طورپر لیا جائے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ اگر مردم شماری شفاف انداز میں نہ کی گئی تو تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں جائیداد کی ویلیو کے تعین کے بارے میں غور کیا گیا۔ سب کمیٹی کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر بحث کی گئی تاہم کمیٹی میں اس بارے میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ تحریک انصاف کے رکن اسد عمر نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کی تعداد اس لئے کم ہو رہی ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ ٹیکس چوروں سے ملی ہوئی ہے۔ سب کمیٹی کی رپورٹ میں کالا دھن سفیدکرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ گزشتہ اجلاس میں انہوں نے دوبئی میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کا نکتہ اٹھایا تھا مگر اجلاس کے منٹس میں اس کا ذکر نہیں۔ میرے سوالات نیب اور ایف بی آر کے متعلق تھے۔ آج سپریم کورٹ میں جو چیئرمین نیب کے ساتھ ہوا ہے اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ کچھ خدا کا خوف کریں۔ سید نوید قمر نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کا کام ملک میں جائیداد کی قیمتیں مقرر کرنا نہیں۔ پراپرٹی کی قیمت کے تعین کا اختیار ایف بی آر کو دیا جائے۔ پرویز ملک نے کہا کہ سب کمیٹی کی رپورٹ میں لاہور میں پراپرٹی ریٹس کا کوئی ذکر نہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ ایک ایماندار اس ملک میں دس مرلے کا پلاٹ نہیں خرید سکتا۔ وفاق اجازت دے رہا ہے کہ ٹیکس کی چوری جاری رکھی جائے۔ چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر ارشاد نے کہا کہ اگر اس طرح ریٹس طے کئے گئے تو ہر روز کوئی نیا پنڈورا بکس کھلنا شروع ہو جائے گا۔ بجٹ میں پراپرٹی ریٹس سے متعلق مستقل طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ کمیٹی نے ایف بی آر کے چیئرمین کو ہدایت کی کہ سب کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں پراپرٹی کی ویلیو کے تعین کے بارے میں سقم دور کئے جائیں۔ اجلاس میں ایف بی آر آڈٹ کے ایشو پر بھی غور کیاگیا۔ کمیٹی کے چیئرمین قیصراحمد شیخ نے ارکان کو ایف بی آر کی آڈٹ پالیسی کے بارے میں کاروباری طبقات کے تحفظات کے بارے میں بتایا۔ چیئرمین نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر کو کاروباری طبقہ اور عام شہریوں کو سہولت دینا چاہئے۔ اجلاس میں اس تجویز پر بحث ہوئی کہ ایف بی آر کی بجائے صنعت کے آڈٹ کے لئے الگ ادارہ قائم کیا جائے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پرال کا نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پرال کے سی ای او کو تبدیل کیا گیا ہے۔ آڈٹ کے لئے قرعہ اندازی کی بجائے سائنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ ممبر آڈٹ ایف بی آر نے کہا کہ آڈٹ کے لئے چھ معیارات مقرر کئے گئے۔ 90 فی صد اخراجات کرنے والے تاجروں کو آڈٹ کے لئے منتخب کیا گیا۔ اگر تاجر 90 فی صد اخراجات کر رہا ہے تو وہ کاروبار کس طرح کر رہا ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی وہ اپنی آڈٹ پالیسی ملک میں کاروباری ماحول کی بہتری کے تناظر میں ازسر نو غور کرے۔ اجلاس میں حدیبیہ پیپر ملز کا ذکر بھی ہوا۔ جس پر اجلاس میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ممبران کے درمیان نوک جھونک ہوئی۔ اسد عمرنے کہا کہ اگر حدیبیہ پیپلز ملز مسلسل خسارے میں تھی تو وہ کیسے چل رہی تھی؟ اس پر میاں عبدالمنان نے کہا کہ اس ملک میں ایسا شخص بھی ہے جو 76 ہزار روپے سالانہ ٹیکس دیتا ہے۔ یہ شخص شہزادوں کی طرح رہتا ہے اور کروڑوں روپے کے اخراجات کرتا ہے۔ اگر حدیبیہ پیپر کا نام لیں گے تو ہم اس شخص کا بھی نام لیں گے۔ اسد عمر نے کہاکہ حکومت اس شخص کا آڈٹ کرے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اجلاس میں بیرون ملک موجود کالا دھن اور اثاثے سفید کرنے کے لئے ایمنسٹی سکیم دینے پر غور ہوا۔ اسد عمر نے کہا کہ جب ایف بی آر ہر دس ماہ کے بعد ٹیکس ایمنسٹی دے گا تو کوئی ٹیکس نہیں دے گا۔ اسحاق ڈار سے ٹیکس ایمنسٹی پر بات ہوئی تھی تاہم ان کے ریٹس قابل قبول نہیں ہیں۔ لیکن پاکستان میں پیسے واپس لانے کے لئے اس ایمنسٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا ایمنسٹی سکیم کے بارے میں کاروباری تنظیموں سے تجاویز لی جائیں گی اور غور کے لئے ایف بی آر کو ارسال کر دیا جائے گا۔ اجلاس میں وزارت خزانہ کے پی ایس ڈی پی پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ فنانس ڈویژن کے تجویز کردہ منصوبوں کے لئے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر مختص کئے جائیں۔