پاکستان‘ بھارت ایٹمی حادثات کی اطلاع کے معاہدہ میں 5 سالہ توسیع پر رضامند

22 فروری 2017

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان اور بھارت ، ایٹمی ہتھیاروں کے حادثات سے مطلع کرنے کے معاہدہ میں مزید پانچ سال کی توسیع کریں گے۔ معاہدہ میں توسیع کی تجویز پاکستان کی طرف سے دی گئی جو بھارت نے قبول کر لی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اس معاہدہ کے تحت اگر کسی ملک کے ہاں ایٹمی ہتھیاروں کے حادثہ کے نتیجہ میں ایٹمی تابکاری پھیلنے کا اندیشہ ہو یا حادثاتی ایٹمی جنگ کا خطرہ ہو تو دوسرے ملک کو اس بارے میں اطلاع فراہم کی جاتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدے پر 2007 میں دستخط کیے گئے تھے اور 2012 میں اس معاہدے میں 5 سال کی توسیع کی گئی تھی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ باہمی اعتماد سازی کی اہمیت اور ضرورت معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق کسی حادثے کی صورت میں اپنے متعلقہ دائرہ اختیار اور کنٹرول کے تحت ایک دوسرے سے فوری معلومات کے تبادلے کے پابند ہیں۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں استحکام کیلئے دونوں ملکون کے درمیان اس نوعیت کے روابط ضروری ہیں۔