وزیر اعظم کو چیئرمین نیب کی تقرری کا اختیار نہیں، عمران قوم کو گمراہ کررہے ہیں، مسلم لیگ ن

22 فروری 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی پاکستان کے آئین و قانون کے تحت ہوئی اس میں وزیر اعظم کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں چیئرمین نیب کی تقرری کا کوئی اختیار ہوتا ہے، موجودہ چیئرمین نیب کی تقرری بھی اپوزیشن لیڈر اور قائد حزب اقتدار دونوں کی مشاورت سے ہوئی ہے بلکہ اس وقت تحریک انصاف کی رائے بھی لی گئی اگر وزیر اعظم چیئرمین نیب کی کاروائی کے خلاف نالاں ہو تو وہ ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے، چیئرمین نیب کو اسی طرح عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جسطرح اعلٰی عدلیہ کے کسی جج کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین نیب کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہی ہٹایا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف کی باتوں کا ہمیں جواب دینا پڑتا ہے تا کہ تحریک انصاف کی جھوٹی بے بنیاد گفتگو کی نفی کر سکیں اور اصل حقائق بتائیں انہوں نے کہا کہ ادارے حکومت کے نہیں ملک وقوم کے ہوتے ہیں تحریک انصاف نے اداروں کے تقدس کو پامال کیا، حدیبیہ پیپرز مل کے کیس کا فیصلہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے حق میں ہو چکا ہے، انہوں نے ےہ بات دانیال عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ عمران خان نے نیب کے حوالے سے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ وزیر اعظم یا ان کے خاندان کے کچھ افراد نے پاناما کیس کے حوالے سے نیب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے یا نیب حکومت کے تابع ہے کہ وہ حکومت سے ہدایت لینے کی پابند ہے، حدیبیہ پیپرز مل کا کیس پہلی دفعہ 1998 میں شروع ہوا اور اس کی تمام سماعت مشرف کے دور میں ہوئی یہ ایک دور جس میں ہمارے خلاف وہ کیسز بھی بنائے گئے جو کسی بھی قانون و ضابطہ کے تحت نہیں بنتے تھے۔ اس دور میں حدیبیہ پیپرز مل کا کیس ہائی کورٹ سے ختم ہوااور فیصلہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے حق میں گیا آج تحریک انصاف یہ اعتراض کرتی ہے کہ حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمہ کا فیصلہ صحیح نہیں ہوا تحریک انصاف کو یہ علم ہونا چاہیے کہ جنرل مشرف کا دور تھا ہم کسی طور پر بھی اس کیس کی کاروائی میں اثر انداز نہیں ہو سکتے تھے دوسری بات یہ ہے کہ لاہور ہائیکورت نے اس کا فیصلہ سنایا اب اگر کوئی پارٹی اس کیس کے حوالے سے بات کر رہی ہے تو وہ لاہور ہائیکورٹ کے اس بینچ پر اعتراض کر رہی ہے جس نے یہ فیصلہ سنایا اس فیصلے میں وزیر اعظم اور ان کا خاندان باعزت بری ہوا۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کاروائی پر پورا اعتماد ہے تحریک انصاف نے پوری کوشش کی اس کو سیاسی کیس بنایا جائے، دانیال عزیز نے کہا کہ آئی سی آئی جے کی جاری خبرمیں بے شمار غلطیاں تھیں اس نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے محمد نواز شریف کا نام ہٹا دیا مگر ایک سیاسی جماعت نے پاناما پیپرز پر غلط انداز میں واویلہ مچایا۔ حسین نواز اور حسن نواز پاکستان کے ٹیکس فائلر نہیں ہیں ان دونوں نے فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی پاناما دستاویزات کے بعد ملک بھر میں سیاسی ٹرائل کیا گیا پاناما کی طرح اب حدیبیہ کیس کا 25سال بعد میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے پاناما کیس میں سبکی کے بعد عمران خان اب حدیبیہ پیپرز مل کیس پر آگئے ہیں ہمارے اداروں کی کارکردگی کی تو بات کرتے ہیں مگر ان کے اپنے اداروں کا حال دیکھیے آج تک ان کا احتساب کا ادارہ تو چل نہیں سکا احتساب کی بات کرنے والوں نے اپنے صوبے میں احتساب کے ادارے کو تالے لگا دیے عمران خان الیکشن کمیشن میں منی ٹریل کیوں نہیں دے رہے حنیف عباسی کی طرف سے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر کی گئی پیٹیشنز کی جلد سماعت ہونی چاہیے۔ طارق فضل چودھری نے ایک سوال پر کہا کہ وزیر اعظم یکطرفہ طور پر چیئرمین نیب کی تعیناتی نہیں کر سکتے، دانیال عزیز نے کہا کہ تحریک انصاف معزز ججز کے ریمارکس کو توڑ موڑ کر بیان کرتی ہے۔