افغان چیف ایگزیکٹو کی دہشتگردی کیخلاف باہم مل کر کام کرنے کی پیشکش قابل ستائش ہے

22 فروری 2017

ملک بھر میں بلاامتیاز اپریشن اور پاک افغان سرحد بند کرنے کے باوجود چارسدہ اور ڈیرہ بگتی میں دہشتگردی

دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے سول اور عسکری قیادتوں کے اتفاق رائے سے اٹھائے گئے سخت اقدامات‘ کومبنگ اور سرچ اپریشنز‘ افغانستان کے اندر پاک فضائیہ کے اپریشن اور پاک افغان سرحد بند کرنے کے باوجود ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ نہیں تھم سکا اور منگل کے روز صوبہ خیبر پی کے میں چارسدہ اور بلوچستان میں ڈیرہ بگتی کے علاقے پیرہ کوہ میں دہشت گردی کی وارداتوں میں درجن بھر معصوم و بے گناہ شہری جاں بحق اور دو درجن کے قریب شہری زخمی ہوگئے۔ خیبر پی کے کے ضلع چارسدہ کی تحصیل تنگی میں کچہری کے گیٹ کے قریب خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجہ میں ایک وکیل سمیت سات افراد جاں بحق اور پولیس اہلکاروں سمیت 15 سے زائد شہری زخمی ہوئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کچہری گیٹ کے پاس ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑالیا جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجہ میں دو حملہ آور مارے گئے۔ ڈی پی او چارسدہ کے مطابق یہ تینوں دہشت گرد کچہری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے جنہیں وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے روکا تو ایک نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ انکے بقول دہشت گرد کچہری کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے تو بہت زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔ دھماکے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے دھماکے کے بعد حملہ آوروں کی لاشیں‘ بارودی مواد اور اسلحہ سڑک کے کنارے پڑا دیکھا۔ دوسری جانب ڈیرہ بگتی کے علاقہ پیرہ کوہ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا جبکہ گزشتہ روز اسلام آباد کچہری میں بھی دومشکوک افراد کو گرفتار کرکے انکے قبضہ سے پستول برآمد کرلئے گئے۔
پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھنے والے سفاک دہشت گردوں نے اپنے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے ایماءپر ملک بھر میں جس وحشیانہ انداز میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی دوسری وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا جس سے اب تک ڈیڑھ سو سے قریب بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں اور اس سے زیادہ زخمی ہسپتالوں میں پڑے دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے وطن عزیز کی سلامتی کی دعائیں کررہے ہیں‘ اسکے بعد دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں و سرپرستوں کیخلاف سکیورٹی فورسز کے بے رحم اپریشن کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ چنانچہ سول و عسکری قیادتوں نے باہمی مشاورت سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑوں سے اکھاڑنے کیلئے فوری‘ بلاامتیاز اور نتیجہ خیز اپریشنز کا آغاز کردیا جس کے نتیجہ میں سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی سرکوبی میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ملک بھر میں دہشت گردوں کے بیشتر ٹھکانے اور اسلحہ کے ذخائر تباہ کردیئے گئے ہیں اور اب تک ڈیڑھ سو کے قریب دہشتگرد مارے جاچکے ہیں جن میں طالبان کمانڈرز بھی شامل ہیں جبکہ اب تک دو ہزار سے زائد مشکوک افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں۔ چونکہ دہشتگردوں کے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی ٹھوس اطلاعات ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس موجود تھیں اس لئے فوری طور پر پاک افغان سرحد بھی بندکردی گئی اور پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر بھی دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے متعدد دہشتگرد ہلاک کئے اور دہشت گردی میں استعمال ہونیوالا ان کا گولہ بارود ٹھکانے لگا۔ اس اپریشن پر کابل انتظامیہ کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا اور پاکستان کو سخت جواب دینے کی گیدڑ بھبکیاں بھی لگائی گئیں جبکہ کابل انتظامیہ کی جانب سے افغان سفیر نے گزشتہ روز 85 طالبان اور 32 دہشتگرد کیمپوں کی فہرست بھی پاکستان کے حوالے کی ہے جن کے بقول یہ افغان طالبان اور انکے دہشتگرد کیمپ پاکستان میں موجود ہیں۔ دہشت گردوں کیخلاف بلاامتیاز اپریشن کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے گزشتہ روز سینٹ کو اس امر سے آگاہ کیا کہ وزیراعظم نوازشریف نے فوج کو دہشت گردوں کیخلاف ہر جگہ کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
ان تمام تر اقدامات‘ سخت گیر اپریشن اور پاک افغان سرحد بند کرنے کے باوجود ملک میں دہشت گردوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے اور انہوں نے گزشتہ روز دو صوبوں میں دہشت گردی کی گھناﺅنی وارداتیں کی ہیں تو اس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی ڈوریاں چاہے ملک کے باہر سے بھی ہلائی جارہی ہیں‘ مگر ان کا مو¿ثر نیٹ ورک ابھی تک پاکستان کے اندر موجود ہے جہاں سے وہ کمک اور ہدایات حاصل کرکے اپنے سرپرستوں اور سہولت کاروں کے متعین کردہ دہشت گردی کے اہداف تک پہنچ رہے ہیں اور خودکش حملوں سمیت دہشت گردی کی وارداتوں میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ ملک کی سلامتی کے حوالے سے یہ صورتحال بلاشبہ ہماری سول اور عسکری قیادتوں کیلئے لمحہ¿ فکریہ ہے۔ بھارت پہلے ہی ہماری سلامتی کے درپے ہے جبکہ دہشت گردی کے تدارک کے حالیہ اقدامات سے‘ جن میں افغانستان کے اندر فضائی حملے بھی شامل ہیں‘ افغانستان کے ساتھ بھی سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوچکا ہے اور افغان حکمران علاقائی اور عالمی قوتوں کی مدد سے ہمیں جواب دینے کی دھمکیاں لگا رہے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں نے اپنا اپنا بھاری توپخانہ سرحدوں پر پہنچا کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑا کردیا ہے اس لئے اشتعال میں ہلکا سا اضافہ بھی دونوں جانب سے کسی بڑے نقصان پر منتج ہو سکتا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اگرچہ افغانستان کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ کے سلسلہ میں دی جانیوالی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے اور پاک افغان سرحد پر تعینات فورسز کو دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کیلئے افغان فورسز سے تعاون بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے تاہم سرحدوں کی کشیدہ صورتحال میں فورسز کو اشتعال دلانے کی ملک کے بدخواہوں اور دشمن ملک بھارت کی کوئی بھی سازش کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں آج ہمیں انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا ہے جس میں ملکی سرحدوں اور سالمیت کیلئے اقدامات اٹھاتے ہوئے ہمیں ہر ممکن احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل قلع قمع پاکستان اور افغانستان دونوں کی ضرورت ہے جس کیلئے یہ دونوں ممالک دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور انکی تعداد کے معاملہ میں ایک دوسرے کی معلومات سے استفادہ کرکے دہشت گردی کے تدارک کی مشترکہ حکمت عملی طے کریں اور کسی بیرونی امداد و معاونت کے بغیر دہشتگردوں کی سرکوبی کیلئے خود اقدامات بروئے کار لائیں تو یہ زیادہ نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جس سے دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کی بنیاد بھی رکھی جاسکتی ہے‘ اس کیلئے تعاون کا ہاتھ بڑھانے کا یہی وقت ہے کیونکہ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبدللہ نے پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد خود بھی اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ دہشت گرد افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ ہمیں دہشت گردوں کی سرکوبی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا اس لئے ہمیں اس فضاءکو باہمی تعلقات کی سازگاری کے ساتھ اپنی اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے مکمل صفایا کیلئے بروئے کار لانا چاہیے۔ اگر ہماری جانب سے افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی ٹھوس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں اپریشن کئے گئے ہیں‘ جس کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ¿ کار بھی نہیں تھا تو افغانستان کی جانب سے پاکستان میں افغان طالبان اور انکے ٹھکانوں کی موجودگی کی اطلاع پر ہمیں ان مبینہ ٹھکانوں کا بھی مکمل کھوج لگانا چاہیے۔ اگر کابل انتظامیہ کی فراہم کردہ فہرست پاکستان کے اندر افغان طالبان کے ٹھکانوں کے ٹھوس شواہد پر مبنی ہے تو ان پر اپریشن میں بھی ہماری سکیورٹی فورسز کو کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے اور پھر اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ فہرست میں دیئے گئے تمام طالبان اور انکے تمام ٹھکانوں کا مکمل قلع قمع ہوگیا ہے۔
ہم نے بہرصورت دہشت گردی کی جنگ جیتنی ہے کیونکہ دہشتگردوں کے ہاتھوں وطن عزیز کا جتنا نقصان ہوچکا ہے‘ اسکے پیش نظر اب دہشتگردوں کے مکمل صفایا والی کامیابی ہی ہمیں دہشتگردی کی جنگ میں سرخرو سکتی ہے۔ اس کیلئے اگر کابل انتظامیہ ہمارے ساتھ تعاون کرتی ہے تو بسم اللہ۔ بصورت دیگر دہشت گردوں کے قلع قمع کیلئے افغانستان کے اندر بھی اپریشن جاری رکھنا ہماری سلامتی کے تقاضے میں شامل رہے گا جس پر کابل انتظامیہ کا چیں بجبیں ہونا بے معنی ہوگا۔