اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ مردم شماری میں بھی امتیازی سلوک

22 فروری 2017

مردم شماری میں خواجہ سرا اور افغان مہاجرین شامل، اوورسیز پاکستانیوں کو خارج کرنے پر قائمہ کمیٹی کا اظہار تشویش۔
قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز نے چیف کمشنر شماریات کے مردم شماری کے حوالے سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے مطابق تارکین وطن کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا جارہا۔ قائمہ کمیٹی کی یہ تشویش بجا ہے کیونکہ بیرون ملک دو طرح کے پاکستانی موجود ہیں ایک تو وہ جو پاکستانی شہریت کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کی شہریت بھی اختیار کر کے دیار غیر جاکر آباد ہو گئے ہیں۔ انہیں تو کسی طرح مردم شماری میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے وہ جو غیر ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک میں بسلسلہ روز گار مقیم ہیں اور ان کے لئے متعلقہ ممالک کے قوانین کی رو سے ان ممالک کی شہریت مل بھی نہیں سکتی۔ ان کو مردم شماری سے باہر رکھنا ان کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہو گا وہ پہلے ووٹوں کے اندراج ہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنے اور اب انہیں مردم شماری سے باہر رکھ کر ان کا پاکستانی ہونا بھی مشکوک بنایا جا رہا ہے حالانکہ ہمارے زرمبادلہ کا ان اوورسیز پاکستانیوں پر ہی دارو مدار ہے کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کو کسی صورت بھی مردم شماری سے علیحدہ رکھ کر ان کے حقوق سلب نہیں کئے جا سکتے۔ اسی طرح ووٹوں کے اندراج میں بھی یہی فارمولا کام کرتا ہے۔ غیر ملکی شہریت رکھنے والے بطور ووٹر درج نہیں ہو سکتے جبکہ دیار غیر میں ملازمت کرنے والوں کو ووٹ کا حق دیا جاتا ہے۔ حکومت کو مردم شماری صاف اور شفاف بنانے کیلئے ہر پہلو پر غور کرنا چاہئیے۔ رہی بات غیر ملکیوں کی تو چاہے وہ پاکستان کی شہریت نہ رکھنے والے افغان مہاجرین ہوں یا غیر قانونی طور پر مقیم دیگر ممالک کے مہاجرین ،ان سب کو مردم شماری اور ووٹوں کے اندراج سے باہر رکھنے کے مناسب اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داری ہےکیونکہ پاکستانی کے بھیس میں وہ ملک دشمنوں کے آسانی سے آلہ کار بن سکتے ہیں۔