ینگ ڈاکٹرز، انتظامیہ کے مذاکرات ناکام، پنجاب بھر میں ہڑتال، آئوٹ ڈور بند

22 فروری 2017

لاہور+ سرگودھا+ (نیوز رپورٹر+ نامہ نگاران+ نوائے وقت رپورٹ) اینٹی کرپشن کے چھاپے اور ڈاکٹر کی گرفتاری کے خلاف سروسزہسپتال کی او پی ڈی مکمل طور پر بند رہی جبکہ دیگر ہسپتالوں کے او پی ڈی یونٹ معمول کے مطابق کام کرتے رہے، تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن کی ینگ ڈاکٹرز کی مقدمہ میں گرفتاری کے حوالے سے ینگ ڈاکٹرز سروسز ہسپتال میں سراپا احتجاج رہے، لاہور میں تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کی ایمرجنسی معمول کے مطابق کھلی رہیں، دریں اثناء ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ سیکرٹری صحت پنجاب کے ایماء پر ینگ ڈاکٹرز کو اغواء کرنے کی کوشش کی گئی، ہمارے اوپر جعلی مقدمات بنوائے گئے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک بیڈ ایک مریض کی ڈیمانڈ کی تھی جس کی سزا ہمیں مل رہی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکرٹری صحت پنجاب فوری استعفیٰ دیں۔ ینگ ڈاکٹرز کا ہڑتال میں حصہ نہ لینے پر پیرا میڈیکل سٹاف پر بہیمانہ تشدد‘ گذشتہ روز پنجاب بھر میں ہونے والی ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کی کال پر ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پیرا میڈیکل سٹاف کا ٹرینی ڈسپنسر زوہیب کائونٹر پر پرچیاں کاٹ رہا تھا کہ ڈاکٹر عثمان‘ ڈاکٹر راشد اور ڈاکٹر وقاص دیگر ساتھیوں سمیت اس پر پل پڑے اور لاتوں‘ گھونسوں اور مکوں سے شدید زدوکوب کیا جبکہ مریض اور لواحقین تماشائی بنے کھڑے رہے اور کسی نے بیچ بچائو نہ کرایا‘ ٹرینی ڈسپنسر نے بھاگ کر اپنی جان بچائی‘ پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن نے ینگ ڈاکٹرز کے ناروا رویہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا‘ اور سینئر ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر مریضوں کی دیکھ بھال کا کام جاری رکھا۔ دریں اثناء اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے ترجمان نے سروسز ہسپتال لاہور میں کروڑوں روپے کی کرپشن کے مقدمے میں ملوث ملزم ڈاکٹر عاطف مجید کی گرفتاری کے موقع پر ہسپتال کے دیگر ڈاکٹروں اوران کے ساتھیوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی اوربعدازاں ملزم کے ساتھیوں کے ایما ء ہڑتال کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ ترجمان نے حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اینٹی کرپشن نے ڈاکٹر عاطف مجید کی گرفتاری کیلئے قانونی کاروائی کی اوراس مقصد کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرکے گاڑی میں بٹھا لیا لیکن ملزم کے ساتھیوں ڈاکٹر حامد بٹ، ڈاکٹر فرحان ساہی ،ڈاکٹر بشارت گل سمیت 15افرادنے گاڑی پردھاوابول دیا،اینٹی کرپشن ٹیم کو تشدد کا نشانہ بنایا ،گاڑی میں موجود 2عدد سرکاری سب مشین گن اور دوسرا سامان و ریکارڈ چھین لیا اورملزم ڈاکٹر عاطف مجید کو چھڑاکر لے گئے ۔ترجمان نے بتایا کہ چیئرمین پیشنٹ پروٹیکشن کونسل آف پاکستان حاجی غلام حسین نے سروسز ہسپتال میں کرپشن اوربے ضابطگیوںکے بارے میں اینٹی کرپشن حکام کو درخواست دی جس پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن نے 12اپریل 2016کو ریجنل ڈائریکٹر لاہور کو انکوائری کرنے کی ہدایت کی۔ تفتیشی ٹیم نے پڑتال کی اور شواہد اکٹھے کئے ملزمان کی کرپشن اوربے ضابطگیوں سے سرکاری خزانے کوسات کروڑ روپے کا براہ راست نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ڈاکٹر عاطف مجید کروڑوں روپے کی کرپشن کے مقدمے میں نامزد ملزم ہیں اورانہوں نے اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے ینگ ڈاکٹرز کوآلہ کارکے طور استعمال کیا ۔اینٹی کرپشن کے عملے نے متعلقہ تھانے میں سروسز ہسپتال کے ڈاکٹرز کے خلاف کار سرکار میں مداخلت اور عملے پر تشدد کرنے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دیدی ہے۔ دریں اثنا لاہور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے پنجاب بھر کی او پی ڈی میں کام بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر التمش نے ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا۔