سرکاری ملازمین کی شادیوں کا ریکارڈ

22 فروری 2017

غریب بھی اپنی لڑکی کی شادی سرکاری ملازم سے کرنا چاہتا ہے۔ پرائیویٹ ملازم کو رشتہ آسانی سے نہیں ملتا۔ ایک سرکاری افسر کی چوتھی بیوی کے سوال پر قلم اٹھانے پر مجبور ہوئے کہ ایک سرکاری ملازم یا افسر مقررہ تنخواہ میں ایک سے زائد ازواج اور گرل فرینڈز کے اخراجات کیوں کر برداشت کر سکتا ہے ؟ جواب سادہ ہے "رشوت " کی لعنت سے کئی گھر اور زنانیاں خوش رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زنانیاں بھی پوچھنے کی زحمت نہیں کرتیں کہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔ چوتھی بیوی کا مطالبہ ہے کہ سرکار کو قانون بنانا چاہیے کہ لگی بندھی تنخواہ میں ایک سے زائد شادیاں کیسے چلائی جا تی ہیں مگر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمین و افسران کی مبینہ شادیوں کا ریکارڈ تو رکھا جا سکتا ہے لیکن خفیہ شادیوں اور دوستیوں کا ریکارڈ تو خود ان کی پہلی بیویوں سے بھی پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ الا ما شا اللہ ایک سے زائد شادیوں اور دوستیوں میں مبتلا خود سرکار ملازمین کا نجی ریکارڈ کیوں کر رکھنے کی حماقت کر سکتی ہے۔ سرکاری افسر کی چوتھی اہلیہ نے بتایا کہ موصوف کی حلال تنخواہ ایک لاکھ کے قریب ہے جبکہ صرف اس کے گھر کا کرایہ ماہانہ پچاس ہزار روپے ہے۔ پھر ماہانہ بلوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات بھی اس کا شوہر ادا کرتا ہے، چاروں گھر بیویوں بچوں سمیت چلا رہا ہے جبکہ سہیلیوں کا شوق بھی احسن طریق سے نبھا رہے ہےں۔ سرکاری ملازمتیں پہلے عوام کی خدمت اوران کے کام آنے کے لیے کی جاتی تھیں اور سرکاری ملازمین اپنے فرائض کی ادائیگی پابندی وقت، غیرجانبداری اور ایمانداری سے کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے سرکاری محکموں سے عوام کی شکایات نہ ہونے کے برابر ہوتی تھیں، سرکاری اداروں کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ ان کی شکایات نہ ان کے اعلیٰ افسران تک جائیں اورنہ اخبارات میں شائع ہوں۔
سابق صدر جنرل ایوب خان کے دور تک اخبارات میں شائع ہونے والی شکایات اور عوامی مسائل کے حل نہ ہونے پر متعلقہ افسران سے جواب طلبی کی جاتی تھی اور محکمہ اطلاعات اخبارات میں ایسی خبروں کی کٹنگ محکموں کے سربراہوں اور متعلقہ افسروں کو بھیجتے تھے جن کے جوابات ملنے کے بعد شکایات کا ازالہ ہو جاتا تھا اور لوگوں کو موجودہ دورکی طرح متعلقہ دفتروں میں پریشان ہونا پڑتا تھا نہ دھکے کھانے پڑتے تھے۔
ہر سرکاری محکمے میں افسران سمیت نچلے عملے کی تعداد مقرر ہوتی تھی، ملک کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں میں کام بڑھتا گیا اور آسامیوں کی تعداد بڑھتی گئی اور شکایات بھی بڑھتی گئیں، سرکاری اداروں کے طریقہ کار مقرر تھے۔ سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت نہیں تھی تنخواہیں کم اور ڈیوٹی مقرر ہونے کے بعد لوگوں میں سرکاری ملازمتوں کے حصول کا رجحان کم تھا۔ مقررہ مدت پر سرکاری ملازم ریٹائر ہوتے تھے، قواعد کے تحت نئی بھرتیاں ہوتی تھیں اور سن کوٹہ پر ریٹائر ہونے والوں کی اولاد بھرتی ہوجاتی تھی۔ سرکاری محکموں میں بھرتی کے ذمہ دار افسرسفارش سے میرٹ اور قابلیت پرکسی لالچ اور دباو¿ کے بغیر ملازمتیں دیتے تھے اور اصولوں اور مقررہ سرکاری طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جاتا تھا اور رشوت لے کر یا مقررہ طریقہ کار کے برعکس ملازمتیں دینے کو غلط سمجھا جاتا تھا۔ محمد سعید درست لکھتے ہےں کہ ملک دولخت ہونے کے بعد فوجی حکومت ختم ہوئی اور 1970 کے عام انتخابات میں کامیاب ہونے والی سیاسی جماعتوں کی وفاق اور چاروں صوبوں میں حکومتیں قائم ہوئیں اور پہلی بار سندھ سے تعلق رکھنے والے ذوالفقارعلی بھٹو وزیراعظم بنے اور سندھ و پنجاب میں پیپلزپارٹی کی اور بلوچستان اور سابق سرحد صوبے میں نیپ اور جے یو آئی کی مخلوط حکومتیں قائم ہوئیں اور طویل مارشل لا کے خاتمے، بڑھتی آبادی میں بڑھی بے روزگاری اور ضرورت کے مطابق سیاسی حکومتوں نے اپنے اپنے کارکنوں کو سرکاری ملازمتیں دینا شروع کیں تو نہ قابلیت دیکھی گئی نہ میرٹ پر عمل رہا اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں صرف سندھ میں پی پی کی وفاقی حکومت نے کوٹہ سسٹم نافذ کیا اور بے روزگاری ختم کرنے کے نام پر سندھ میں دیہی اور شہری کی تقسیم عمل میں آئی۔سیاسی بنیاد پر ملازمتیں دیتے وقت کو غیر قانونی سفارش بھی ماننا پڑتی ہے اور میرٹ اور اہلیت کی بجائے وفاداری دیکھی جاتی ہے اور سیاسی کارکنوں سے ڈیوٹی لینے کی بجائے سیاسی کام لیے جاتے ہیں اورانھیں اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلے محکمہ تعلیم، پولیس، پوسٹ آفس جیسے محکموں کے لیے ملازم نہیں ملتے تھے کیونکہ ان محکموں میں رشوت کم تھی، سیاسی ادوار میں محکمہ تعلیم میں آنے والوں نے اسکولوں میں پڑھانے کی بجائے گھر بیٹھے تنخواہیں لینا شروع کیں۔سرکاری ملازمین جان چکے تھے کہ وہ جتنا چاہیں ابھی کمالیں کیونکہ انھیں ریٹائر ہونا ہے جس کے بعد حاصل سرکاری مراعات واپس لے لی جائیںگی، بڑے سرکاری افسروں کو دیکھ کر چھوٹے افسروں نے اور انھیں دیکھ کر ان کے ماتحتوں نے عزم کرلیا کہ سرکاری ملازمتیں ہوتی ہی کمائی کے لیے ہیں۔ سرکاری ملازمتیں اکثر عیش وآرام کی زندگی اور دولت کمانے کا سنہری موقع بن چکی ہیں اور جو موقع ملے اور نہ کمائے وہ اپنے خاندان میں بھی احمق سمجھا جاتا ہے اور ریٹائر ہوکر پچھتانا اور دوسروں کے طعنے بھی سنناپڑتے ہیں۔