اقتدار کے کھیل سے جڑی ڈرامائی کہانی کا آغاز

22 فروری 2017

علامہ حافظ ڈاکٹر طاہر القادری کی طرح میں بھی ”مبارک ہو- مبارک ہو“ پکار اُٹھنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔ ہوا یہ ہے کہ اپنے دو رپورٹروں کی تفصیلی تحقیق کے بعد ”نیویارک ٹائمز“ اپنے صفحہ¿ اوّل پر شائع کئے مضمون کے ذریعے یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ مصر، ترکی.... اور جی ہاں اپنے پاکستان کی طرح امریکہ میں بھی ایک Deep Stateموجود ہے۔ 220 سالوں سے جاری نام نہاد ”چیک اینڈ بیلنس“ کو یقینی بنانے والا جمہوری نظام اس ”متوازی ریاست“ کو اپنے قابو میں نہیں لاپایا ہے۔ عدالتیں بھی اس کے سامنے کسی حد تک بے بس رہیں۔ خود کو مکمل طور پر آزاد اور بے باک کہنے والا امریکی میڈیا بجائے اس ان دیکھی ریاست کی مزاحمت کرنے کے، اکثر صورتوں میں اس کا ”سہولت کار“ بن جاتا ہے۔
کوئی امریکی صدر اپنی اوقات سے باہر نکلنے کی کوشش کرے تو انٹیلی جنس ایجنسیاں ”اندر کی باتیں“ Leaks کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز جیسے پھنے خان اخبارات ان لیکس کو بڑے فخر سے اپنے ”ذرائع“ کے ذریعے ملی کہانیاں بنا کر تسلسل کے ساتھ نمایاں طور پر چھاپنا شروع ہو جاتے ہیں۔ امریکی صدر اور اس کے حواری حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ اپنے تحفظ کے لئے ”خود مختار“ اور سب پر بالادست“ منتخب اداروں سے رجوع کرتے ہیں تو وہاں سے مناسب تعاون نہیں مل پاتا۔ بالآخر امریکی صدر وہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جو دفاعی اداروں نے ”قومی سلامتی“ کے نام پر ازخود طے کر رکھا ہوتا ہے۔
بڑی شان اور عوامی مقبولیت کے ذریعے امریکی تاریخ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہونے کے بعد، باراک اوبامہ کو بھی اپنے پہلے دور اقتدار میں اس Deep State کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران وہ لوگوں سے یہ عہد کرتا رہا کہ اسے امریکی صدر منتخب کیا گیا تو وہ فی الفور اپنے ملک کو عراق اور افغانستان کی جنگوں سے الگ کر لے گا۔ اس کا اصرار تھا کہ بش انتظامیہ نے ان جنگوں میں ملوث ہو کر امریکہ کو مضبوط بنانے کی بجائے کمزور کیا ہے۔ اربوں ڈالرز کا زیاں ہوا۔ ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے یا عمر بھر کے لئے مفلوج و معذور بن گئے۔ عراق اور افغانستان میں اس سب کے باوجود امریکہ اپنے دفاعی اور تزویراتی اہداف حاصل نہ کر سکا۔ لاحاصل جنگوں میں ملوث ہو کر بلکہ اس نے خود کو کھوکھلا کر دیا۔ امریکہ میں صنعت کاری رک گئی۔ بے روزگاری بڑھی۔ اس کے شہریوں کو تعلیم اور صحت کی مناسب سہولتیں نہ مل پائیں۔ اوبامہ کا وعدہ تھا کہ عراق اور افغانستان سے امریکی فوجیں نکال لینے کے بعد وہ قومی دولت کو روزگار، تعلیم اور صحت کے مواقع بڑھانے والے منصوبوں پر صرف کرے گا۔
اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد 2009ءکے آغاز میں اوبامہ نے مذکورہ وعدوں پر عمل کرنا چاہا تو اسے عسکری اداروں کی جانب شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ عسکری اشرافیہ کو عراق سے امریکی افواج نکالنے پر کوئی خاص اعتراض نہیں تھا۔ افغانستان کے بارے میں لیکن وہ بضد تھے کہ وہاں سے امریکی افواج نکال دی گئیں تو القاعدہ وغیرہ اس ملک میں دوبار منظم ہو کر ”ایک اور نائن الیون“ کر دیں گے۔ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس جو بعدازاں امریکی سی آئی اے کا سربراہ بھی بنا۔ امریکی فوج کا ہیرو تھا۔ یہ غور کیا جارہا تھا کہ پی ایچ ڈی کرنےوالے اس ”عالم سپاہی“ نے عراق کو اپنی حکمت عملی سے بالآخر قابو کر ہی لیا تھا۔ امریکی افواج کے لئے وہ ملک ایک اور ویت نام نہ بن پایا۔ عسکری ادارے اس بات پر بضد رہے کہ ڈیوڈ پیٹریاس کو اس کی خواہش کے مطابق مزید سپاہی، اسلحہ اور رقوم فراہم کر کے افغان کا مسئلہ ”حل“ کرنے کی خود مختارانہ ذمہ داری سونپ دی جائے تو مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ اوبامہ مگر Surge کے نام پر بنائے اس منصوبے کی کامیابی کے امکانات پر شک و شبے پر مبنی ٹھوس سوالات مسلسل اٹھاتا رہا۔ وہ مزاحمت کرتا نظر آیا تو امریکی فوج اور قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی طرف سے Surge کی حمایت میں جو دلائل ”خفیہ اجلاسوں میں“ پیش کئے جاتے وہ سب پوری تفصیل کے ساتھ واشنگٹن پوسٹ جیسے اخبارات کے صفحہ¿ اوّل پر چھپنا شروع ہوگئے۔
Bob Woodward، واشنگٹن پوسٹ کا وہ مشہور رپورٹر جس نے واٹرگیٹ سکینڈل کو طشت ازبام کرنے کے بعد نکسن کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا، افغانستان کے معاملے پر ہوئی اس چپقلش سے خوب واقف تھا۔ دل اس کا مگر اس وقت اوبامہ کے ساتھ تھا۔ وہ Deep State کا سہولت کار نہیں بنا۔ سرجھکائے اس کے دلائل کو سنتا رہا۔ افغانستان کے حوالے سے ہوئی طویل بحثوں کو اس نے بعدازاں Obama's Wars نامی کتاب میں مرتب بھی کیا ہے۔
تلخ حقیقت مگر یہ بھی رہی کہ اپنی عوامی مقبولیت کے باوجود اوبامہ Surge کو روک نہ پایا۔ اس نے امریکی فوج کو وہ سب کچھ دے دیا جو وہ افغانستان کا مسئلہ ”حل“ کرنے کے نام پر مانگ رہی تھی۔ اوبامہ نے کمال دکھایا تو صرف اتنا کہ ایک Cut Off تاریخ دے دی۔ امریکی افواج کو اس بات پر رضا مند کر لیا کہ Surge کے باوجود بھی اگر وہ اپنے اہداف حاصل نہ کر پائیں تو 2014ءمیں افغانستان سے گھر لوٹ آئیں گی۔ Surge کے باوجود اہداف حاصل نہیں ہوئے۔ امریکی افواج کی کثیر تعداد اب افغانستان سے وطن لوٹ چکی ہے۔ 10 ہزار کے قریب امریکی فوجی مگر اب بھی ”تربیت اور تعاون“ فراہم کرنے کے نام پر افغانستان میں موجود ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے جنرل Mattis کی بطور وزیر دفاع تعیناتی کے بعد بلکہ اس بات کے امکانات واضح طور پر نظر آرہے ہیں کہ امریکی ایک بار پھر افغانستان کا قضیہ ”حل“ کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ اس کے لئے یقینا امریکی افواج کو ایک بار پھر کثیر تعداد میں افغانستان بھیجنا ضروری ہو گا۔ اربوں ڈالر کے خرچ سے جدید ہتھیار بھی خریدنا پڑیں گے۔
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وہ واحد سیاستدان تھے جنہوں نے کال کوٹھڑی میں بیٹھے ہوئے ”اگر مجھے قتل کر دیا گیا“ والی کتاب لکھتے ہوئے 1978ءمیں اس برس سے تین سال قبل ہوئے واٹر گیٹ سکینڈل کا تجزیہ کیا تھا۔ ان کا اصرار تھا کہ عوامی جمہوریہ چین سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے بعد صدر نکسن بطور ایک امریکی ریاست کے دائمی اداروں پر حاوی اور بالادست نظر آنا شروع ہوگیا تھا۔ اپنی قوت برقرار رکھنے کے لئے امریکی ریاست کے دائمی اداروں کے لئے نکسن سے نجات حاصل کرنا لہذا ضروری ہو چکا تھا۔ اسی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے امریکہ کے ایک جاسوسی ادارے سے Deep Throat کے فرضی نام سے ایک ”ذریعہ“ نمودار ہوا۔ اس نے باب ووڈورڈ کو واٹر گیٹ معاملے کی وہ تمام تفصیلات مہیا کردیں جو خفیہ ذرائع نے حاصل کی تھیں۔ ”ذرائع“ سے ملی اس کہانی کو ٹی وی کے مقبول سلسلہ وار ڈرامے کی طرح ”واشنگٹن پوسٹ“ نے تسلسل کے ساتھ شائع کرنا شروع کر دیا۔ بالآخر صدر نکسن استعفیٰ دے کر گھر جانے پر مجبور ہو گیا۔
2017ءکے آغاز میں وائٹ ہاﺅس پہنچنے والا ڈونلڈٹرمپ اب پیوٹن کے روس کے ساتھ ویسی ہی ”تاریخی“ Opening کے امکانات دیکھ رہا ہے جو نکسن نے چین کے حوالے سے دریافت کئے تھے۔ ہنری کسنجر کی ذہانت اور مہارت کی بدولت اس نے اپنا ہدف تو حاصل کر لیا مگر صدارت کا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔ ٹرمپ کے بارے میں ارادے یہ ہیں کہ وہ اپنے ہدف کی طرف پہلا قدم بھی نہ اٹھا پائے۔ اقتدار کے کھیل سے جڑی ایک طویل ڈرامائی کہانی کا آغاز ہو چکا ہے۔ میں اس سے محض لطف اندوز ہونے کی بجائے کچھ سیکھنے کی کوشش بھی کروں گا۔