خوش خوراک،خوش لباس اور خوش اخلاق شخصیت کی آئینہ دار

22 فروری 2017

مظہر حسین شیخ
کہنے کو زبان ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اسی زبان سے ہم بے پناہ اچھے دوست بناسکتے ہیں اور رشتہ داروں اور دوستوں میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکتے ہیں جبکہ اسی زبان کی وجہ سے اچھے دوست کھو بیٹھتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں۔ کوئی بھی بات کہتے وقت لاکھ بار سوچیں کہ جو الفاظ کہنے لگے ہیں اس سے کسی کی دل شکنی، دل آزاری تو نہیں ہوگی؟ میان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکالے گئے الفاظ کبھی واپس نہیں آتے۔ اس لئے کوئی بھی بات کرتے وقت اتنا ضرور سوچیں کہ آپ کے الفاظ مدمقابل کو تیز کی طرح نہ چبھیں۔ اسی زبان سے دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بناسکتے ہیں۔ اردگرد نظر دوڑائیں تو کئی واقعات دیکھنے اور سننے میں ملتے ہیں۔ معمولی بات پر جھگڑا ہو جاتا ہے اور بعد میں پچھتانا پڑتا ہے۔ کسی سے بات کرتے وقت اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں۔ ہم مسلمان ہیں‘ ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام میں اچھے اخلاق سے پیش آنے پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ اچھے اخلاق کے بارے بے شمار احادیث بھی ہیں‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ خوش خوراک،خوش لباس اور خوش اخلاق شخصیت کی آئینہ دار ہے۔جن بچوں میں یہ خوبیاں موجود ہوں انہیں ہر کوئی پسند کرتا ہے جبکہ ضدی اوربد اخلاق بچوں کو کوئی دوست نہیں بناتا۔ خوش اخلاق بچے اپنی اچھی عادات کی وجہ سے اساتذہ اور والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں ہر کسی سے اچھے اخلاق سے پش آنا اچھے بچوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ بات بات پر ضد کرنا حسد کرنا،ایک دوسرے سے معمولی سی بات پر ناراض ہونایا چھوٹی چھوٹی باتوں پرلڑائی جھگڑا کرنا اچھے بچوں کو زیب نہیں دیتا ایسے بچوں سے کوئی بات نہیں کرتاجبکہ ان کی جسمانی نشو و نما بھی رُک جاتی ہے۔ خوش اخلاق بچوں کے قریب بیماری بھی نہیں آتی جس نے ہر حال میں خُوش رہنا سیکھ لیا گویا اس نے زندگی میں کامیابی کا راز پا لیا۔ ہر کسی سے خوش اخلاقی سے پیش آنا ثواب کا کام ہے۔ بچے ہوں یا بڑے یہی کوشش ہونی چاہئے کہ خوش رہیں اوردوسروں کو بھی خوش رکھیں یہی انسانیت کا تقاضا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب آپ کا اخلاق اچھا ہو گا۔اخلاق اچھا ہو گا تو دوسری اچھی عادات بھی خود بخود جنم لیں گی۔ اچھے اخلاق کے لئے نہ تو کسی کے پاس جانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے خریدنا پڑتا ہے اس کے لئے اچھی سوسائٹی،اچھی سوچ اوراچھے بااخلاق دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ سکول ہو یا گھراساتذہ اور والدین یقیناً بچوں کو اچھی نصیحتیں کرتے ہیں ان نصیحتوں پر عمل کرنا آپ کا کام ہے،بڑے بزرگوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ اخلاق سے گری ہوئی بات نہ کرو اپنا اخلاق درست رکھو یہی کامیابی کا راز ہے۔ کہاوت مشہور ہے کہ اچھااخلاق دشمن کو بھی زیر کر دیتا ہے۔دشمن کوئی بھی ہو اگر اس سے اخلاق سے پیش آئیں گے تویقیناً آپ سے متاثر ہوگا۔ کسی سے بھی ایسی بات نہ کریں جس سے اس کی دل شکنی ہو۔ آپ نے اکثر دو فریقین کے لڑائی جھگڑے کے دوران یہ کہتے سنا ہو گا کہ اپنی زبان قابو میں رکھوسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی نوبت کیوں آنے دیں؟ اگر ابتداء سے خوش اخلاقی سے بات کی جائے دوسرے کو یہ کہنے کا موقع ہی نہ ملے اور بات کا بتنگڑ نہ بنے۔
کہنے کو تو زبان ایک گوشت کا ٹکڑا ہے لیکن یہی گوشت کا ٹکڑا بدترین دشمن اور بہترین دوست پیدا کر سکتا ہے اگر اچھے اخلاق سے پیش آئیں گے تو سننے والا بھی یقیناًآپ کی گفتگو سے متاثر ہوگااور اگر اس سے کڑوی بات کریں گے تو اس کا جواب کڑوا ملا تو دونوں میں کوئی فرق نہ ہوا اور اگر کڑوی بات سن کر بھی مد مقابل نے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کیاتو اس کی بڑائی اور اعلیٰ ظرفی سے آپ بھی اس کے گرویدہ ہو جائیں گے اوریہ سوچنے پر مجبورہوں گے کہ کاش میں بھی اس سے اخلاق سے پیش آتا۔یہ بالکل درست ہے کہ اچھے اخلاق سے بہتر اور کوئی چیز نہیںاور یہ بات بھی آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسی گوشت کے ٹکڑے جسے ہم زبان کہتے ہیں نے بے شمار لڑائیوں کوجنم دیا۔ اچھا اخلاق اچھے انسان کی پہچان ہے۔ سکول ہو یا کالج یونیورسی ہو یا سرکاری و غیر سرکاری دفاتر انسان اپنے اخلاق کی وجہ سے مقبول ہوتا ہے۔ جس کا اچھا اخلاق ہو گا اس کے دوست بھی بے شمار ہوں گے جبکہ بداخلاقی کی وجہ سے انسان اپنے بہترین دوست بھی کھو بیٹھتا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ بچے جن کو اچھے اور مخلص دوست ملے ہیں اور اس دوستی کو قائم رکھنے کے لئے یہ زبان اہم کردار ادا کرتی ہے یہ زبان دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا دیتی ہے۔
’’قیامت کے روز مومن کے پاس اچھے اخلاق سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی ‘‘ یہ نہیں کہ آپ کسی سے ملنے جائیں اور آپ کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہو۔ خوش اخلاقی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر ایک کو خلوص نیت اور خلوص دل سے ملیں۔ چہرے کی مسکراہٹ کا مطلب یہ ہے کہ دل بھی ویسا ہی ہونا چاہئے۔ خوش دل‘ خوش لباس خوش خوراک اور خوش اخلاق انسان ہر ایک کو اچھا لگتا ہے۔ خوش دل کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ہے۔ جبکہ خوش رہنے سے صحت بھی اچھی رہتی ہے۔اکثرچھوٹے بچوں میں یہ عادت پائی جاتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذہن اور دل پر سوار کر لیتے ہیں اس سے نہ صرف صحت کا گراف گرتا ہے بلکہ چڑچڑا پن بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ چڑچڑا پن بچے کو ضدی بھی بنا سکتا ہے۔خوش لباس کا مطلب ہے صاف ستھرا رہنا صاف ستھرا رہنے سے بھی صحت اچھی رہتی ہے۔بعض اوقات بچے والدین کی بات سنی ان سنی کر دیتے ہیں کئی بچے اچھے طریقے سے جواب نہیں دیتے۔ جبکہ اچھے بچے والدین کی ایک آواز پر دوڑے چلے آتے ہیں والدین سے بھی خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ سکول میں اکثر زیر تعلیم بچے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا کرتے ہیں اور آپس میں پارٹیاں بنا لیتے ہیں۔تعلیم حاصل کرنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اچھے بُرے میں پہچان کرنا سیکھو ہم مسلمان ہیں ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام ہمیں بھائی چارے اور اخلاق سے پیش آنے کا درس دیتا ہے۔