اقبال نئے عہد کا شاعر

22 فروری 2017

اقبال جدید دور کے ہی نہیں ماضی، حال اور مستقبل کے بھی شاعر ہیں۔ ان کو ہم عہدآ فرین شاعر بھی کہہ سکتے ہیں۔ اقبال خدا کے فضل و کرم سے سخن وربھی ہیں صوفی اور فلسفی بھی۔ ان کی آرزو بڑی منفرد اور قوت بخش ہے۔.
اقبال ماضی کے نشانات کی روشنی میں آنے والے دور کی امکانی تعبیر کو دیکھنے کے متمنی ہیں۔
اقبال نے آنے والے کل کو اپنی دوربیں آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ اسی لئے نئے دور کا تذکرہ آپ کے اشعار میں موج زن ہے۔ آپ نے بین الاقوامی تہذیبوں کو پرکھا۔ مسلمانوں میں اتحاد اسلامی کی تحریک کو محسوس کیا اور امت مسلمہ کو یقین دلایا کہ اسلامی نشاۃ ثاینہ کا دورہ آئے گا۔ بیسیویں صدی میں اقبال نے امت کے دلوں کو حوصلہ دیا۔ ہم موجودہ دور میں اقبال شناسی کی طرف گامزن ہیں۔ …؎
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویران سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
محمد رمضان گوہر