ایک خوبصورت رات پوری زندگی روشن کر گئی

22 فروری 2017

حافظ مظفر محسن
میں دادا جان کے سرہانے کھڑاتھا کہ وہ کب قرآن پاک کی تلاوت ختم کریں اور میں ان سے بات کروں۔ہمارے بزرگ صبح کی نماز کے بعد بلندآواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔قرآن پاک پڑھنے کے پیچھے کیا فلسفہ تھا؟ یہ میں سمجھنا چاہتا تھا۔دادا جان عام طور پر آنکھیں بند کر کے قرآن پاک کی تلاوت کرتے میں نے دو ایک بار ان کی آنکھوں کے بالکل سامنے آ کر ان کو ہاتھ کے اشارے سے سمجھانا چاہا کہ میں انہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں مگر ایک تو ان کی آنکھیں بند تھیں، دوسرا وہ پوری دلجمعی سے پڑھنے میں مصروف تھے۔ اس لئے ان تک میری خواہش نہ پہنچ پائی،انسان جب تلاوت قرآن پاک میں محو ہو تو پھر دنیا داری کا خیال کہاں؟
ہوا یوں کہ شہر لاہور میں گرمیوں کی رات تھی اور ریڈیو پر یہ اعلان ہوا، دنیا بھر سے قاری حضرات پاکستان تشریف لائے ہیں۔ آج رات ان کے درمیان قرآن پاک قرآت سے پڑھنے کا مقابلہ ہوگا۔دادا جان نے صبح ہی مجھے بتایا کہ رات نماز عشاء کے بعد لاہور کی بادشاہی مسجد میں دنیا بھر سے آنے والے قاری حضرات تلاوت کریں گے۔میرے اندر دو طرح کے جذبات موجزن تھے۔ ایک تو مجھے یہ دیکھنا تھا کہ مختلف لوگ قرآن پاک کی تلاوت کس کس انداز میں کریں گے؟ دوسرا میں دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کو دیکھنا چاہتا تھا۔بادشاہی مسجد کے بارے سوچ کر دل خوش ہو گیا،گھر سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر بادشاہی مسجد واقع تھی۔جبکہ گھر میں سواری کیلئے ایک سائیکل تھی۔ہم کُل چار افراد نے مقابلہ دیکھنے جانا تھا ۔ طے یہ پایا کہ فاصلہ پیدل ہی طے کیا جائے۔بادشاہی مسجد میں ہجوم کے باعث شدید حبس والی گرمی محسوس ہو رہی تھی ۔بھائی نے میری انگلی پکڑی اور مسجد کے صحن میں تیز تیز چلنے لگے۔اتنا پیدل چلنے کے بعد مجھے تھکاوٹ محسوس ہوئی اور میں والد صاحب کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔’’ارے اٹھو … محسنؔ… اٹھو!‘‘نہ جانے کب میں سو گیا ،میں نے آنکھیں ملتے اِدھر اُدھر دیکھا۔ہزاروں انسان مگر ’’ہو‘‘ کا عالم۔ ’’دل لبھا دینے والی‘‘ خاموشی اور سب سے اہم بات یہ کہ میٹھی ہوا چل رہی تھی بھائی نے آہستہ سے میرے کان میں سرگوشی کی۔ ’’بہت مزے کی قرآت ہو چکی ہے۔ اب پوری طرح جاگ جائو۔ دنیا کا سب سے بڑے قاری جناب قاری عبدالباسط تلاوت کریں گے۔’’اللہ اکبر!‘‘جب قاری عبدالباسط نے پڑھنا شروع کیا تو یوں لگا جیسے جنت کی کھڑکی کھل گئی ہو۔ سورۃ رحمن کی تلاوت شروع کی۔ دل میں اترتی ہوئی آواز اور روحوں کو منور کرتا کلام۔ ایسی خاموشی کہ ہر چیز ساکت و جامد۔ اللہ اللہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں اور قاری عبدالباسط دنیا کے سب سے پیاری تلاوت قرآن کرنے والے قاری قرار پائے۔ اللہ اللہ ،سبحان اللہ ، سب لوگ اک ساتھ پکار اٹھتے۔گھر کیسے پہنچے ، کچھ پتہ نہیں۔ بس یہ یاد ہے کہ لوگ جوق در جوق قاری عبدالباسط سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ کچھ لوگ قاری صاحب کے ہاتھ چوم رہے تھے۔صبح جب آنکھ کھلی تو میں دادا جان کے پاس اس وقت جاکھڑا ہواجب وہ با آواز بلند قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ رات کے مناظر میری آنکھوں میں گھوم رہے تھے جیسے بہت سی دولت مل گئی ہو کوئی نئی منزل پا لی ہو۔جب دادا جان نے تلاوت قرآن پاک مکمل کی اور دعا کے بعد ’’آمین‘‘ کہہ کر میری طرف دیکھا تو میں نے دادا جان سے پوچھا۔’’دادا جان! رات قاری عبدالباسط نے جو سورۃ رحمن کی تلاوت کی تھی، میں سنائوں؟‘‘’’ہاں ہاں! ضرور سنائو۔‘‘ انہوں نے مجھے پاس رکھی کرسی پر بٹھایا اور ’’بسم اللہ‘‘ کہا۔تو میں نے اللہ کا نام لے کر وہ ساری آیات قاری صاحب کے انداز میں پیش کر دیں۔ ماحول پر سناٹا چھا چکا تھا۔ امی کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔کچھ دیر بعد دادا جان میرا ہاتھ تھامے مجھے مدرستہ تجویز القرآن، لسوڑھے والی مسجد، لاہور کے قاری صاحب کے پاس بیٹھے تھے اور مٹھائی کا ڈبہ سامنے پڑا تھا۔میرے مدرسہ کے ساتھی جن کے ساتھ میں نے قرآن پاک حفظ کرنا تھا ، خوشی خوشی مجھے دیکھ رہے تھے جب ہم سب منہ میٹھا کر رہے تھے۔ایک خوبصورت رات میری ساری زندگی کو روشن کر گئی۔مجھے ایسے لگا جیسے آج کی صبح دوسری صبحوں سے بالکل مختلف اور مثالی ہے کیونکہ میرے لئے یہ صبح صبح اُجالا بن چکی تھی۔مجھے آج بھی وہ صبح یاد ہے اور تا زندگی میں اس پیاری صبح کا تصور کر کے اپنی خوش بختی پر فخر محسوس کرتا رہوں گا کہ جب اللہ پاک نے کروڑوں مسلمانوں کو اپنی رحمت سے نوازا کہ ان کے دلوں میں قرآن پاک محفوظ ہو جائے اور شکر الحمد اللہ! مجھے بھی اللہ پاک نے ان کروڑوں انسانوں میں شامل کر دیا جن کے سینے قرآن پاک کی روشنی سے منور ہیں۔

روشن روشن چہروں والے

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ...