تبصرہ کتب

22 فروری 2017

تبصرہ: جی آر اعوان
نقطہ نظر

غالب کے نعتیہ کلام کا اگر بنظر عائد جائزہ لیا جائے تو ان کے نعتیہ اشعار کی تعداد سینکڑوں سے زیادہ ہے۔ ان گل ہائے عقیدت کو کبھی غالب نے غزل کی ہیت میں حضور پاکؐ کی بارگاہ طیبہ میں پیش کیا ہے کبھی قطعات کا گل دستہ بنایا‘ کبھی …… کی صورت میں ہدیہ بریک بنایا۔ یہ کبھی تعمین آسا سافت کی وساطت سے مخمس میں لغت کے پھول کھلائے ہیں۔
سید اقتباس سلیم الرحمن کی تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ’’نقطہ نظر سے لیا گیا ہے جس کا اہتمام ڈاکٹر تنویر حسین نے کیا ہے جبکہ مطبع پرنٹ یارڈ پرنٹنگ پریس میں کتاب کی قیمت 450 روپے ہے۔ ارسلان رضا بک بنک اینڈ لائبریری سپلائرز‘ ثریا پلازہ‘ نیلا گنبد نیو انارکلی سے کتاب دستیاب ہے۔ مصنف نے کتاب کا انتخاب اپنے دوست ڈاکٹر عمر الدین کے نام کیا ہے۔
جن مضامین کو نقطہ نظر کا حصہ بنایا گیا ہے ان میں یوم الفرقان‘ خنسا‘ وارث شاہ‘ غالب کی ’’مشہور فارسی نعت سید امتیاز علی تاج‘ ظہیر کاشمیری‘ قادر فریدی‘ استاد محمد شریف خان پونچھ والے‘ ریڈیو کا بلبل ہزار داستان‘ استاد عزیز الرحمن خاں صاحب‘ پروفیسر محمد صدیق‘ قائم نقوی‘ مظہر الاسلام کے مضامین شامل ہیں۔ مصنف کا خیال ہے انہوں نے نظم اور نثر کو کتاب میں ساری نمائندگی دی ہے۔


پگلا کہیں کا
’’دنیا میں میرے برآمد ہونے سے پہلے لوگ سورج چاند ستاروں سے اپنے روزمرہ کی تکمیل کرتے تھے۔ پھر ایک سوئس سائنسدان مجھے وجود میں لایا۔ میں انسانوں کی کلائی‘ گھروں‘ دفاتر اور مساجد کی دیواروں کی زینت بن گئی‘ ی بیماری کی شکل میں میرے لئے لاتعداد کلینکس بن گئے تاہم میرے معالجوں کو گھڑی ساز اور واچ میکر کہا جاتا ہے۔ پہلے میں چابی‘ اب سیل سے چلتی ہوں‘ لیکن دکھ کی بات یہ ہے موبائل فون نے میری مانگ ماند کر دی ہے میری ضرورت اب کم محسوس کی جاتی ہے۔
یہ سطورفیضان احمد فیضی کے افسانوں کے مجموعہ ’’پگلا کہیں کا‘‘ سے لی گئی ہیں۔ اس کتاب کے ناثر صوفی صادق ویلفیئر فاؤنڈیشن‘ شاہڈھر‘ حضرواور مطبع اشفا ق نواز پریس بند روڈ لاہور اورقیمت 200 ہے۔ انتساب ان ماؤں کے نام ہے جن کے لعل زندگی سے تنگ آکر مزاروں کا رخ کرتے ہیں‘ پاک فوج کے شہیدوں اور غازیوں اور اپنے پیاروں اور چاہنے والوں کے نام ہے۔
مختلف افسانوں میں زندگی‘ رشتوں اور روزمرہ کے معمولات کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ ماں کی عظمت کا یہ عالم ہے‘ لکھیں تو قلم عاجز اور کاغذ کم پڑ جائیں۔ باپ کی شفقت اور محنت سے محبت محبت اور زندگی زندگی کہلاتی ہوتی ہے۔ سوہنی دھرتی بھی ماں ہے۔ انسان جہاں بھی چلا جائے اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ صحت اور زندگی کے لئے ڈاکٹر بہت ہیں مگر مسیحا کوئی کوئی ہوتے ہیں۔ درخت خوب آسرا ہیں جو خود دھوپ میں جلتے ہیں اور دوسروں کو سایہ فراہم کرتے ہیں وہاں پنچھیوں کے لئے بسراہتا ہیں‘ کبوتر وہ پرندہ ہے جہاں اس کا ڈیرہ ہوتا ہے وہاں امن کا چہرہ ہوتا ہے‘ نصیب وہ ہے جو اس میں لکھا ہو وہ دے کر چھوڑتا ہے۔ یہ کتاب ہلکے پھلکے انداز میں زندگی کی مختلف جہتوں کی پیامبر ہے۔


نیناں دے سفنے
’’ایہہ چیتر دی رت سی‘ تے بہار دا موسم‘ سویر دا سورج نکلیا تے نال ای گھگیاں دے گیت‘ کاواں دیاں بنیریاں اُتے اڈاریاں ،تے تتراں دی ٹاہلیاں اتے سبحان تیری قدرت پکارن دی آوازاں وی آون لگ پیندیاں‘ اینہاں ساریاں آوازاں نال پنڈ دی نکی مسجد توں وڈی نہر دے پل تیک جاندیاں ہویاں اس دی آواز گونجدی‘ ’’چڑھیا چیت جدائی والا‘ ‘۔
یہ ’’سطریں‘‘ محمد نعیم یاد کی کتاب پنجابی افسانے‘ افسانچے ’’نیناں دے سفنے‘‘ سے لی گئی ہیں کتاب کی قیمت 300 روپے ہے۔ کتاب طٰحہٰ پبلی کیشنز 19 ملک جلال الدین (وقف) بلڈنگ اردو بازار لاہور سے دستیاب ہے۔ کتاب کا انتساب سوہنی دھرتی پنجاب نے مٹھڑی بولی پنجابی کے نام ہے مصنف کی دیگر تخلیقا ت میں آؤ پیار کے دیب جلائیں پھر‘ ایک خواب جو ٹوٹ گیا‘ پتھر روتے ہیں اور بے نام مسافتیں بھی قابل ذکر ہیں۔ کتاب پر سرگودھا کے نسیم اقبال بھٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے یہ پنجابی زبان کی خوش بختی ہے کہ نعیم باد جیسے اس کے خدمت گار ہیں۔ ہڈالی کے محمد علی اسد بھٹی کی رائے ہے بڑے بڑے افسانہ نگاروں میں پنجابی کی خدمت کرکے نعیم باد نے بھی شمولیت اختیار کر لی ہے۔