ادبی خبریں

22 فروری 2017

انگلش لٹریری سوسائٹی کا ادبی ریفرنس
انگلش لٹریری سوسائٹی نے ایس بانو زیدی کے لئے ادبی ریفرنس پاک ٹی ہائوس میں منعقدکیا( ان کے بھائی قاسم حسن زیدی اور بھابھی نے شرکت کی) ایس بانو زیدی اس سوسائٹی کی آٹھ سال سے ممبر رہیں اور اسی مہینے میں یعنی 2جنوری کو ان کا انتقال ہو گیا۔ سوسائٹی کے ممبران میاں صلاح الدین، نزد بھنڈر، امجد طفیل ، سجاد جعفری، زاہد حسن و دیگر سوسائٹی کے صدر پروفیسر انور الحق اور سیکرٹری روبیہ جیلانی نے ان کے تخلیقی اظہار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس بانو کی شاعری رومانیت پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خوش حالی تعلیم اور انسانیت ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ، اپنے ملک میں علم اور آگاہی پھلانے سے ہی پاکستان ایک طاقت ور ملک بن کر ابھرے گا جس میں جدید اور فلاحی ریاست قائم ہو گی۔ ایس بانو زیدی نے اپنی ایک نظم ’’ سمندر ‘‘ میں کہا کہ سمندر بہت گہرا اور بڑا ہے ، وہ اپنی تکلیفوں کو اپنے اندر رکھتا ہے، جب چھپا نہیں سکتا تو طوفان آتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتا ہے اور پھر اسی طرح بہتا ہے۔ انسان کو بھی اپنے دکھ خود جھیلنے پڑتے ہیں گھبرانا نہیں چاہئے ان کی کئی نظموں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حقیقت اور زمداری سے فرار چاہتی ہیں۔